خواتین کو قرضہ دینے کیلئے اخوت اورہوم نیٹ کے مابین معاہدہ

خواتین کو قرضہ دینے کیلئے اخوت اورہوم نیٹ کے مابین معاہدہ

لاہور ( لیڈی رپورٹر)ہوم نیٹ پاکستان ہوم بیسڈ ورکرز کے معاشی ، معاشرتی ، گھریلو اور کام سے متعلق حالات کو بہتر بنانے کی ایک قومی تنظیم ہے، یہ ادارہ غیر منظم شعبہ کے ورکرز کے حقوق اور قانون سازی پر کام کررہا ہے، واضح رہے کہ پاکستان میں اس شعبے میں کام کرنے والوں کی اکثریت ہے یعنی ستر فیصد جو مختلف سرگرمیوں کے ذریعے ملکی معیشت میں اپنا اہم کردار ادا کررہی ہے، لہذا ادارے کی کوشش ہے کہ ان ہوم بیسڈ ورکرز خواتین کو مزدور تسلیم کیا جائے اور ان میں ہنر مندی میں تربیت ، جدید ٹیکنالوجی سے آشنائی ، مارکیٹ سے براہ راست رابطہ اور آسان شرائط اور سود سے پاک قرضے کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے۔ہوم بیسڈ خواتین ورکرز کی ایک اہم ضرورت آسان اور سود سے پاک قرضوں کی فراہمی کو پورا کرتے ہوئے ہوم نیٹ پاکستان اور اخوت کے درمیان ایک معاہدہ طے پارہا ہے تاکہ یہ خواتین اپنی مصنوعات بطریق احسن تیار کرکے مارکیٹ میں فروخت کر سکیں اور اپنی غربت میں کمی لا سکیں، اسکے ساتھ ساتھ اس کا بہتر اثر ملکی ترقی و معیشت پر بھی پڑے گا۔اس مقصد کے لیے ہوم نیٹ پاکستان اور اخوت میں ایک مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کی تقریب گزشتہ روز لاہور پریس کلب میں منعقد ہوئی۔اخوت کا قیام سن2001میں عمل میں آیا جس کا مقصد غریب عوام کو اپنی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے سود سے پاک قرضے فراہم کرنا ہے تاکہ ایسے لوگ اپنا کاروبار چلا سکیں۔ اس پروگرام کے اصول انصاف اور بھائی چارے پر بنیا پر کرتا ہے۔ اخوت قرضہ حسنہ کے اصولوں پر لوگوں کو سود سے پاک قرضے اسی حکمت عملی کی بنیاد پر کرتا ہے۔ یہ کام رضاکارانہ طور پر ہو رہا ہے جس کا مقام مذہبی مقامات ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ان کے کاروبار سے متعلق رہنمائی، معاونت اور بااختیاری بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اخوت ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے جو سوسائٹی ایکٹ 1860کے تحت رجسٹرہے۔ اب تک اخوت 11.4بلین روپے سے زیادہ رقم قرض حسنہ کے طور پر سات لاکھ کے قریب خاندانوں کو دے چکا ہے۔ اخوت کی 200شہروں میں 320برانچیں ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1