پنجاب میں رواں سال 36لاکھ سے زائد جرائم ، پولیس کارکردگی کا پول کھل گیا

پنجاب میں رواں سال 36لاکھ سے زائد جرائم ، پولیس کارکردگی کا پول کھل گیا

 لاہور(بلال چودھری)پنجاب بھر میں رواں سال 36لاکھ سے زائد جرائم نے پنجاب پولیس کی کارکردگی کے بلند بانگ دعووں کا پول کھول دیا،جرائم کو کم کرنے کے لیے پولیس مقابلوں میں اضافہ اورمقدمات درج نہ کرنے کی روایت نے صوبہ بھرمیں لا قانونیت کو فروغ دیتے ہوئے موجودہ تھانہ کلچر کا مکروہ چہرہ بھی بے نقاب کردیا۔ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں سٹریٹ کرائم سمیت چھوٹے بڑے تمام جرائم ماہانہ 3لاکھ اور سالانہ 36لاکھ سے زائد ہوئے ہیں۔جرائم کی سطح کم دکھانے کے لیے صرف 25فیصد واقعات کے مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔دوسری جانب پنجاب پولیس کے بجٹ میں ہر سال اضافہ کر دیا جاتا ہے لیکن جرائم کی شرح کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔سال 2013 میں پنجاب پولیس کا بجٹ 70.5ارب تھا جو رواں سال 81.68ارب کر دیا گیالیکن اس کے باوجود رواں سال پنجاب کی تاریخ میں سب سے زیادہ بچے اغواء ہوئے جن کی تعداد 12ہزار 245ہے جبکہ ہر سال 11ہزار کے قر یب اغوا اور اغوائبرائے تاوان کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ 20فیصد واقعات کی ایف آئی آر درج ہی نہیں ہوتی ۔رواں سال پولیس مقابلوں میں10فیصد جبکہ خواتین کے خلاف جرائم میں 20فیصد کے قریب اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔7ہزار اندھے اور 14فرقہ وارانہ قتل کی وارداتوں کے ساتھ پنجاب رواں سال ملک بھر میں سرفہرست رہا ہے۔رواں سال پنجاب میں پولیس گردی کے واقعات میں سانحہ ماڈل ٹاؤن،سانحہ کوٹ رادھا کشن ،لیڈی ہیلتھ ورکرز سے بد اخلاقی کی کوششوں وتشدد اور نابینا افراد پر تشدد کے واقعات ہوئے جن کی وجہ سے دنیا بھر میں ملکی بدنامی ہوئی اور ملکی وقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔پنجاب پولیس کی جانب سے جرائم کو کنٹرول کرنے کے واحد طریقہ ’’پولیس مقابلہ‘‘ میں بھی بے انتہا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں رواں سال کل 248 مبینہ پولیس مقابلے ہوئے جن میں 25 پولیس اہلکار جاں بحق اور 235زیر حراست ملزمان ماروائے عدالت مار دئے گئے۔6ہزار قتل اور 22ہزار اقدام قتل کی وارداتیں ہوئیں جو گزشتہ سال کی نسبت 20فیصد زیادہ ہیں۔اجتماعی بد اخلاقی کے کیس گزشتہ سال 5160تھے جن میں سے صرف 2269رپورٹ ہوئے جبکہ رواں سال 6100سے زائد کیسز ہوئے جن میں سے 2402رپورٹ ہوئیجبکہ صوبہ بھر میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے کرپشن اور لاقانونیت کو فروغ دینے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے صوبہ بھر میں لاقانونیت کو فروغ ملا ہے۔

مزید : علاقائی