ایک سال گزر گیا، ستوکتلہ پولیس اغوا ہونیوالی لڑکی کو باز یاب نہ کراسکی،باپ نے خودکشی کی دھمکی دیدی

ایک سال گزر گیا، ستوکتلہ پولیس اغوا ہونیوالی لڑکی کو باز یاب نہ کراسکی،باپ ...
ایک سال گزر گیا، ستوکتلہ پولیس اغوا ہونیوالی لڑکی کو باز یاب نہ کراسکی،باپ نے خودکشی کی دھمکی دیدی

  

لاہور(ملک خیام رفیق)ستو کتلہ پولیس ایک سال قبل اغوا ہونے والی 10سالہ گھر یلو ملازمہ کو بازیاب نہ کر واسکی،اغوا میں ملوث ملزمہ کا بھائی سی سی پی او آفس میں ملازم ہے جو تفتیش پر اثر انداز ہو کر باز یابی میں رکاوٹ ہے، انصاف نہ ملا تو آئی جی آفس کے سامنے خود کشی کر لوں گا،مغویہ کے والد کی روزنامہ’’پاکستان‘‘سے درد بھری گفتگو۔تفصیلا ت کے مطابق فیروز وٹواں کے رہائشی محمد بو ٹا نے روز نامہ’’پاکستان‘‘سے گفتگو کر تے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ایک سال قبل ہماری جاننے والی زینب بی بی نے میری 10سالہ بیٹی سدرہ کوستو کتلہ کے علا قہ میں2ہزار کے عوض ملازمہ رکھوایا تھا۔ایک ماہ کے بعد میں اپنی بیٹی کو ملنے گیا تو مالک مکان نے کہا کہ تیری بیٹی تو یہاں سے چلی گئی ہے جس پر میں نے تھانہ ستو کتلہ میں نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کر وادیا۔بعدازاں مجھے پتہ چلا کہ میری بیٹی کو زینب اور اس کے شوہر نے ہی اغوا کیا ہے ۔جس پر میں نے دونوں کو اپنے مقدمہ میں نا مزد کر دیا ۔ملزمہ کابھائی سی سی پی او آفس میں ٹیلی فون آپریٹر ہے جس کی وجہ سے میری بیٹی باز یاب نہ ہو سکی ہے۔پہلے میرے کیس کی تفتیش ستو کتلہ کااے ایس آئی کرام کررہا تھا لیکن اس نے ملزمان سے ساز باز کرلی اور ان کو گرفتار کرنے کی بجا ئے مجھے ہی صلح کرنے پر مجبو ر کرتا رہا جس کی وجہ سے میں نے تفتیش تبدیل کرنے کی درخواست دی۔ اب تفتیش ڈی ایس پی شفیق آباد کر رہا ہے لیکن اب تک نہ تو میرا کو ئی ملز م گرفتار ہو ا ہے اور نہ ہی میری بیٹی کو با زیا ب کیا جا سکا ہے۔اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں اپنے سارے خاندان سمیت خود کشی کر لوں گا ۔مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ میری بیٹی زندہ ہے یا مر گئی۔ آئی جی پنجاب سے اپیل ہے کہ میر ی بیٹی کو با ز یاب کر وایا جا ئے۔سی سی پی او کے تر جمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ فاروق اس قسم کا شخص نہیں ہے اگر پھر بھی متاثرین کو کو ئی شکا یت ہے تو وہ دفتر آئیں ان کو انصاف فراہم کیا جا ئے گا۔جبکہ اکرام اے ایس آئی کا کہنا تھا کہ مجھ پر لگا ئے گئے الزامات غلط ہیں۔

مزید : علاقائی