تحریک انصاف کے وفد کی الیکشن کمشنر سے ملاقات، چاروں ممبران کو مدعو نہ کیا گیا

تحریک انصاف کے وفد کی الیکشن کمشنر سے ملاقات، چاروں ممبران کو مدعو نہ کیا گیا

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل)تحریک انصاف کے وفد سے چیف الیکشن کمشنر کی اکیلے میں ملاقات نے کمیشن کے چاروں ممبران کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔پی ٹی آئی کا وفد کمیشن کے ہیڈ آفس پہنچا تو پنجاب ، سندھ ، کے پی کے اور بلوچستان کے چاروں ممبران ،چیف الیکشن کمشنر کے دفتر سے چند فٹ کی دوری پر اپنے دفاتر میں موجود تھے۔ لیکن انہیں ملاقات میں مدعو نہ کیا گیا۔ معلوم ہواہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ایک وفد نے شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں نئے تعینات ہونے والے چیف الیکشن کمشنر پاکستان جسٹس (ر) سردار محمد رضا سے ملاقات کی ۔ اہم سمجھی جانے والی اس ملاقات میں الیکشن کمیشن کے چاروں ممبران کو مدعو نہ کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے وفد کی ملاقات کے دوران چاروں ممبران پنجاب سے جسٹس (ر ) ریاض احمد کیانی۔ سندھ سے جسٹس (ر )روشن عیسانی، کے پی کے سے جسٹس ( ر) شہزاد اکبر اور بلوچستان سے جسٹس (ر ) فضل الرحمن نہ صرف ہیڈ آفس میں موجود تھے۔ بلکہ اپنے اپنے دفاتر میں بیٹھے تھے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے ۔ کہ الیکشن کمیشن کے ہیڈ آفس کی اس عمارت میں چیف الیکشن کمشنر کا دفتر چوتھی منزل پر قائم ہے۔ جبکہ تیسرے منزل پر ممبر الیکشن کمیشن پنجاب جسٹس (ر ) ریاض احمد کیانی اور ان کے سامنے ممبر الیکشن کمیشن سندھ جسٹس (ر) روشن عیسانی کا دفتر ہے۔اسی طرح دوسری منزل پر ممبر الیکشن کمیشن کے پی کے شہزاد اکبر کا دفتر ہے اور ان کے دفتر کے سامنے ممبر الیکشن کمیشن بلوچستان جسٹس (ر ) فضل الرحمن کا دفتر ہے۔یہ بھی معلوم ہواہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے دفتر سے نزدیک ترین پنجاب اور سندھ کے ممبران کے دفاتر ہیں۔ کمیشن کے دیگر افسران یا سٹاف کے دفاتر فاصلے پر ہیں۔پی ٹی آئی کے وفد کی آمد سے پہلے یا آمد پر چاروں ممبران کو ملاقات کے لیے مدعونہیں کیا گیا۔جسے چاروں ممبران کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا جاریا ہے۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کے چاروں ممبران نے 13جون 2011کو اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا تھا۔ اور ان کی مدت ملازمت 12جون2016میں پوری ہوگی ، انہیں عام طریقہ کار کے تحت یا تحریک انصاف کے مطالبے پر یاپھر چیف الیکشن کمشنر کے کہنے پر ہٹایا نہیں جاسکتا ۔بلکہ انہیں ہٹانے کے لیے آئین کے آرٹیکل 209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرتے ہوئے ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنا ہوگا۔اوریہ ریفرنس صدر مملکت کی طرف سے بھجوایا جاسکتا ہے۔البتہ ایسا ہوسکتا ہے کہ ممبران اپنے طورپر عہدوں سے مستعفی ہوجائیں۔ ذرائع سے یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے علاوہ حکومت کے بہت سے ارکان بھی چاہتے ہیں کہ کمیشن کے موجودہ چاروں ممبران کو عہدوں سے الگ کردیا جائے۔اس سلسلے میں چاروں ممبران پر دباؤ بڑھتا جارہاہے ۔

مزید : صفحہ آخر