منصوبہ سازوں نے ہم خیالوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا

منصوبہ سازوں نے ہم خیالوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا
منصوبہ سازوں نے ہم خیالوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا

  

تجزیہ: چودھری خادم حسین

سانحہ فیصل آباد کے اثرات تادیر محسوس کئے جائیں گے۔ فیصل آباد میں کس نے کیا کیا، اس حوالے سے فریقین ایک دوسرے کے خلاف الزام لگا رہے ہیں لیکن اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ منصوبہ ساز اپنے منصوبے میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ ملک کے اندر غیر یقینی کی فضا میں کمی نہیں ہو پا رہی اور ریاستی رٹ بھی کمزور نظر آ رہی ہے۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جو کسی بھی حکمران جماعت کے لئے پریشان کن ہوتی ہے۔ تاہم یہاں تو واضح اشاروں کے باوجود حکومت ان منصوبہ سازوں کے خلاف کچھ نہیں کر پا رہی جو اطمینان سے حالات کے بگڑنے کا مزہ لے رہے ہیں، فیصل آباد کے احتجاج میں پاکستان عوامی تحریک اور مجلس وحدت المسلمین الگ رہیں۔ اب ہر دو نے حمایت ہی نہیں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس تھی کہ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان عوامی تحریک وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے ریفرنڈم تک کی حمایت کی تھی اور آج بھی ان کی طرف سے ان کی مخالفت نہیں کی جاتی۔ 14 اگست کے شو میں ان کو اکٹھا کیا گیا لیکن ذاتی افتاد طبع کے باعث دونوں کزن ایک دوسرے سے نبھا نہ سکے کہ برتری کا سوال بڑا تھا اس کا اندازہ پاکستان عوامی تحریک کے صدر ڈاکٹر رحیق عباسی کے تازہ ترین انٹرویو سے ہو جاتا ہے جس میں انہوں نے کہا اب تو عمران خان نے بھی اعتراف کر لیا ہے کہ جب تک عوامی تحریک کا دھرنا موجود تھا دھرنوں کی اہمیت تھی ا ور ہمارا دھرنا ختم ہونے کے بعد یہ صورت حال برقرار نہیں رہی۔ بہر حال ڈاکٹر طاہر القادری کے علاج کی غرض سے امریکہ چلے جانے کے بعد اب قیادت جن حضرات کے پاس ہے وہ عمران خان سے اتحاد کے حامی ہیں۔ مسلم لیگ (ق) فیصل آباد مظاہرے کی حمایت کر چکی، سنی تحریک اور سنی اتحاد کونسل نے بھی یہی موقف لیا یوں اب پھر سے 14اگست والی پوزیشن بنتی نظر آرہی ہے، ان میں سے صرف متحدہ ایک ایسی جماعت ہے جس نے تحریری،زبانی اور اصولی طورپر تحریک انصاف اور جنرل (ر) پرویز مشرف کے مؤقف کی حمایت کی ہے تاہم ابھی عملی حصہ نہیں لیا،اگرچہ پیپلزپارٹی سے اتحاد توڑ کر اس جماعت پر دباؤ ضرور بڑھایا کہ پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ جمہوریت کے حوالے سے کھل کر وزیراعظم کی زیرقیادت حکومت اور پارلیمنٹ کی حمایت کررہے تھے، اس کے ساتھ ہی قائد تحریک الطاف حسین نے آئین شکنی کے مقدمہ کے حوالے سے کھلی حمایت کی اور کررہے ہیں یوں یہ واضح علامات ہیں جن کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ پیچھے کون اور کیا ہے اور ڈانڈے کہاں سے کہاں ملتے ہیں۔

دوسری طرف حکومت کا جہاں تک تعلق ہے تو بوجوہ ایسا احساس ہوتا رہا کہ بعض امور میں مصلحت اور جمہوری انداز ہے تو اکثر معاملات میں ریاستی رٹ متاثر ہوتی رہی ایسے میں تحریک انصاف کی دھرنا مہم جاری تھی جس سے عمومی عوام تنگ آگئے یا بور ہوگئے ہوئے تھے ، شاید اسی وجہ سے شیخ رشید خصوصی طورپر بڑی باتیں کرنے لگے، دھمکیاں دیتے تو عمران آگے بڑھا دیتے تھے اور اب تک یہی ہوتا چلا آرہا تھا،اسی وجہ سے 30نومبر والا شو اتنا بڑا نہ ہوسکا جتنا دعویٰ کیا گیا یا تو قع باندھی گئی تھی ، یوں یہ تو مایوسی تھی، دوسری طرف معذرت سے کہنا پڑے گا کہ سیاسی جرگہ بیان بازی پر اتر آیا اور عملی طورپر کچھ نہ کرنے والا سلسلہ شروع کردیا اور پھر خود حکمرانوں نے اپنے ضروری کاموں کی وجہ سے بھی مذاکرات شروع کرنے میں تاخیر کی۔ ان سب باتوں کا نتیجہ فیصل آباد کے حالات میں نکلا۔

اب صورت حال یہ ہے کہ عمران خان نے لاہور کے لئے دھمکی دی ہے، لاہور میں سروے کیا جائے تو صورت حال تحریک انصاف کے حق میں نہیں اگر غیرجانبداری سے دیکھیں تو تاجر اور صنعتکار مسلم لیگ (ن) کا حلقہ ہے، ووٹر اگر تحریک انصاف کے ہیں تو کمی مسلم لیگ (ن) کو بھی نہیں، اس لئے لاہور کو دباؤ سے آزاد کرکے ہی کوئی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف پرامن احتجاج کرے، ناکوں پر دھرنے دے کر چوراہے بند نہ کرے اور دوکانیں بند کرانے اور گاڑیاں روکنے کے لئے زور زبردستی نہ کی جائے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا، اور پتہ چل جائے گا کہ عوامی ذہن کیا ہے۔ بے شک عوام اپنے مسائل کاحل چاہتے ہیں لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ ان کا راستہ روکا جائے۔ ان کے بچے تعلیم کے لئے نہ جائیں۔ امتحانات ملتوی ہوں اور کاروبار بند رہے کہ مزدور کو اس کی اجرت نہیں ملتی، تحریک انصاف کو بھی اس بارے میں مکمل طورپر ادراک کرنا ہوگا۔

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں کچھ افسرتویقیناًہوں گے جن کی اہلیت اور دیانت شبہ سے بالاتر ہو، ایسے افسروں کی ٹیم بناکر سانحہ ماڈل ٹاؤن سے دھرنوں اور پھر فیصل آباد تک کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تفتیش کرالی جائے تو معاملہ صاف ہوجائے گا۔ عمران خان کو بہرحال یہ سوچنا ہوگا اگر وہ مستقبل کے حکمران بن کر عوام کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں تو معذرت کے ساتھ ان کا انداز ویسا نہیں۔ ہماری اب بھی گزارش ہے کہ مذاکرات کریں۔ دیانت داری سے فریقین مستقبل کے لئے الیکشن کمیشن، انتخابات اور احتساب سے لے کر تقرریوں تعیناتیوں کے معاملات تک کے اصول طے کرکے آئینی اور قانونی ترامیم کرلیں، ملک وقوم کا بھلا ہوگا۔

مزید : تجزیہ