پہلی مرتبہ روس نے ایسی جگہ سے داعش کو نشانہ بناڈالا کہ دنیا کو حیران کردیا، نیا خطرہ پیدا ہوگیا

پہلی مرتبہ روس نے ایسی جگہ سے داعش کو نشانہ بناڈالا کہ دنیا کو حیران کردیا، ...
پہلی مرتبہ روس نے ایسی جگہ سے داعش کو نشانہ بناڈالا کہ دنیا کو حیران کردیا، نیا خطرہ پیدا ہوگیا

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) داعش کے خلاف جاری جنگ میں روس نے پہلی دفعہ ایک ایسا ہتھیار استعمال کردیا ہے کہ جو ڈیڑھ ہزارمیل کی دوری سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر خوفناک آگ برسا رہا ہے۔ جریدے ڈیلی میل کے مطابق روسی وزیر دفاع سرگی شوئیگو نے تصدیق کردی ہے کہ بحیرہ روم میں موجود ان کی آبدوز سے داعش کے ٹھکانوں پر کروز میزائل داغے گئے ہیں۔

روس کے سرکاری ٹی وی پر صدر ولادی میر پیوٹن کی موجودگی میں وزیر دفاع نے بتایا کہ آبدوز روستوو آن ڈان سے فائر کئے گئے کیلیبرکروز میزائلوں نے داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ وزیر دفاع شوئیکو کے مطابق آبدوز سے چلائے گئے کروز میزائلوں نے داعش کے مرکز رقہ کے قریب دو ٹھکانوں کو تباہ کیا۔ میڈیا کو جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تین کروز میزائل وقفے وقفے سے آبدوز سے چلائے گئے جو پانی کی سطح کو چیرتے ہوئے فضا میں بلند ہوئے۔ ویڈیو میں ان میزائلوں کا نشانہ بنتے ہوئے ٹھکانے بھی دکھائے گئے ہیں۔

مزید جانئے: وہ واحد چیز جو پیوٹن، ابوبکر البغدادی اور ڈونلڈ ٹرمپ میں مشترک ہے، دلچسپ جواب جانئے

روسی صدر نے میزائل حملے کے بعد جاری کئے گئے بیان میں ایک نئے خطرے کی طرف بھی اشارہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی طرف سے داغے گئے کیلیبر کروز میزائلوں کو ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ بھی لیس کیا جاسکتا ہے، البتہ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

بحیرہ روم میں موجود آبدوز کو داعش پر میزائل برسانے کے لئے استعمال کرنے سے پہلے روس بحیرہ کیسپیئن میں موجود اپنے بحری جہازوں اور ائیرفورس کو داعش پر حملوں کے لئے استعمال کررہا تھا۔

مزید : بین الاقوامی