شام میں 27ہزار غیر ملکی جنگجو برسرِ پیکار ہیں: رپورٹ

شام میں 27ہزار غیر ملکی جنگجو برسرِ پیکار ہیں: رپورٹ

دمشق(کے پی آئی)سکیورٹی کے امور پر مشاورت کرنے والی ایک کمپنی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں جاری لڑائی میں شریک غیر ملکی جنگجووں کی تعداد میں ڈیڑھ برس میں 15 ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔صوفان گروپ کی رپورٹ کے مطابق جون 2014 میں یہ تعداد 12 ہزار تھی جو اب کم از کم 27 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔غیر ملکی جنگجووں میں سے بیشتر کا تعلق عرب ممالک سے ہے جبکہ خطے کے باہر سے آنے والے جنگجووں میں مغربی یورپ، روس اور وسطِ ایشیا کے لوگ شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق شام میں لڑائی میں شریک جنگجووں کی مغربی ممالک کو واپسی کی شرح اب 20 سے 30 فیصد کے درمیان ہے۔رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اس شرح سے جنگجووں کی مغربی ممالک کو واپسی سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بڑا چیلینج ہے اور انھیں ان افراد سے لاحق خطرات کا تجزیہ کرنا چاہیے۔مصنفین نے لکھا ہے کہ ان ممالک میں جہاں سے دولتِ اسلامیہ کو نئے کارکن مل رہے ہیں بھرتی کا عمل زیادہ تر مقامی سطح پر ہو رہا ہے اور اب کم ہی لوگ خود یہ فیصلہ کر رہے ہیں بلکہ ان کے فیصلوں میں خاندان اور دوست اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی تنظیم اور دیگر شدت پسند گروہوں میں شامل ہونے والے افراد کا تعلق دنیا کے 86 ممالک سے ہے۔ان میں سے سب سے زیادہ چھ ہزار افراد کا تعلق تیونس سے بتایاگیا ہے جبکہ دوسرے نمبر پر سعودی عرب ہے جس کے 2500 شہری شام میں برسرِپیکار ہیں۔اس کے بعد 2400 شہریوں کے ساتھ روس تیسرے، 2100 شہریوں کے ساتھ ترکی چوتھے اور دو ہزار شہریوں کے ساتھ اردن پانچویں نمبر پر ہے۔

مزید : عالمی منظر