پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن کو بھی گندم ایکسپورٹ پر ریبیٹ دیا جائے

پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن کو بھی گندم ایکسپورٹ پر ریبیٹ دیا جائے

لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب برانچ کے قائم مقام چےئرمین خواجہ ریحان انجم نے کہا ہے کہ پاکستان شوگر ملز کی طرح پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن کو بھی گندم ایکسپورٹ پر ریبیٹ دیا جائے تاکہ سرپلس گندم سے چھٹکارہ حاصل کیا جائے انہوں نے کہا کہ 30لاکھ ٹن گندم وفاقی حکومت کے لئے ایک بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے لیکن افسر شاہی کے غیر قانونی موقف کی وجہ سے حکومت کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے ان خیلات کا اظہار انہوں نے ایکسپورٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ملک کی فلور ملنگ انڈسٹری اس وقت معاشی بدحالی کا شکار ہے۔حکومت فلور ملنگ انڈسٹری کی معاشی بقأ اور استحکام کیلئے فلور ملنگ انڈسٹری کو بھی شوگر انڈسٹری کی طرح بیل آؤٹ پیکج دے۔حکومت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق 12لاکھ ٹن گندم اور آٹے کی ایکسپورٹ کی ربیٹ کے تحت ایکسپورٹ بلا تعطل جاری رکھے۔انہوں نے مزید کہا موجودہ حالات میں ملک میں گندم کی نئی فصل آنے تک پنجاب میں گندم کے 25لاکھ ٹن کے ذخائر بچ رہنے کی توقع ہے۔ فاضل گندم کے اتنے بڑے کیری اور کی صورت میں حکومت گندم کی نئی فصل جو کہ اس وقت کی اطلاعات کے مطابق بمپر کراپ ہے، کی خریداری سے قاصر ہوگی۔جس سے گندم کے کاشتکاروں میں بدحالی پھیلے گی۔

حکومت فاضل گندم کی کھپت کیلئے اپنی پالیسی واضع کرے، فاضل گندم کی کھپت کا واحد حل گندم اور آٹے کی ایکسپورٹ ہے۔ عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں کے تناظر میں ایکسپورٹ کیلئے ربیٹ ضروری ہے۔ اس لئے حکومت ربیٹ کے تحت گندم اور آٹے کی سمندری اور زمینی راستے سے بلا تعطل ایکسپورٹ جاری رکھے۔ اور ساتھ ہی سمندری اور زمینی راستے سے گندم کی دیگر مصنوعات،میدہ ، فائن آٹا اور سوجی کی بھی ربیٹ کے تحت ایکسپورٹ کی اجازت دے

مزید : کامرس