پاکستان کے زرعی شعبہ پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے: سکندر حیات بوسن

پاکستان کے زرعی شعبہ پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے: سکندر حیات بوسن

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سکندر حیات خان بوسن نے کہا ہے کہ پاکستان کی نصف سے زائد افرادی قوت کو روزگار دینے والے زرعی شعبہ پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ماضی میں اس شعبے کو پالیسی کے حوالہ سے عرصہ دراز سے نظر انداز رکھا گیا ۔ انہوں نے یہ بات یہاں ’’زرعی ترقی اور پاکستان میں غربت کے خاتمہ میں چھوٹے تجارتی کسانوں کا کردار‘‘ کے بارے میں پالیسی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ زرعی ترقی اور غربت میں کمی کے مابین بڑا گہرا تعلق ہے۔ زرعی رقبہ روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں غربت اور آبادی بڑھ رہی ہے لہذاہمیں زرعی شعبہ کی پیداوار میں رکاوٹ بننے والی ان تمام رکاوٹوں کو دورکرنا ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسانوں کو براہ راست زر تلافی دیا جارہا ہے۔ کسانوں کے لئے 341 ارب روپے کا زرعی پیکیج 4 حصوں پر مشتمل ہے جو کسانوں کے لئے مالی سپورٹ، پیداواری لاگت میں کمی، زرعی قرضہ جات کی فراہمی اور کسانوں کے لئے آسانی سے قرضوں کا حصول ہیں جبکہ نمایاں ترین سپورٹ میں ساڑھے 12 ایکڑ اراضی رکھنے والے چاول اور کپاس کے کاشتکاروں کو فی ایکڑ 5 ہزار روپے کی فراہمی شامل ہے۔؂

وزیر نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وژن 2025ء میں فوڈ سیکورٹی کو اولین ترجیحات میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے فیڈرل فوڈ سیکورٹی ریگولیٹری باڈی کے قیام کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد پاکستان کی برآمدات کے معیار کو عالمی تجارتی تنظیم کے معیارات کے برابرلانا ہے۔ سیمینار کا انعقاد یو ایس ایڈ آئی ایف انٹرنیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ پی آر آئی پاکستان اسٹریٹجی سپورٹ پروگرام اور وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈریسرچ نے باہمی اشتراک سے کیا تھا۔ سیمینار کے دوران پروفیسر سہیل جہانگیر ملک نے اپنی تحقیق کے نتائج پیش کئے۔

مزید : کامرس