ترشاوہ باغات کو نامیاتی کھادوں کی مناسب مقدار میں عدم فراہمی پیداوار میں کمی کا باعث بن سکتی ہے،ماہرین

ترشاوہ باغات کو نامیاتی کھادوں کی مناسب مقدار میں عدم فراہمی پیداوار میں کمی ...

فیصل آباد (بیورورپورٹ)ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے ماہرین نے کہاہے کہ ترشاوہ باغات سے بہتر پیداوار اور اچھی خاصیت کے حامل پھل کے حصول کیلئے ترشاوہ باغات کی غذائی ضروریات کو پورا کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ ترشاوہ باغات میں اہم غذائی عناصر کا مناسب وقت پر استعمال نہ کرنا اور نامیاتی کھادوں بشمول عناصر کبیرہ وصغیرہ کی مناسب مقدار میں عدم فراہمی پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔ایک ملاقات کے دوران انہوں نے کہاکہ باغبان ترشاوہ باغات سے نفع بخش پیداوار کے حصول کے لیے کھادوں کے بروقت اور صحیح مقدار میں استعمال پر توجہ دیں۔

اور ترشاوہ باغات میں نامیاتی کھادوں یعنی گلی سڑی گوبر کی کھاد کا استعمال ماہ دسمبر میں مکمل کرلیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ دیسی کھادیں پودے کی عمر کے حساب سے ڈالی جائیں اور 3سے5سال کی عمر کے پودوں کے لیے دیسی گوبر کی گلی سڑی کھاد 15سے20کلوگرام ،5سے 10سال کے پودوں کے لیے 40سے50کلوگرام اور 10سے زائدسال عمر والے پھل دار پودے کے لیے 50سے80کلوگرام فی پودا کھاد ڈالناضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ گلی سڑی گوبر کی کھاد کو پودوں کے تنے سے ایک فٹ دور اور پودے کے پھیلاؤ کے ایک فٹ باہر تک بکھیر کر ہلکی گوڈی کرکے پانی بھی لگاناچاہیے ۔انہوں نے کہاکہ پتوں ، تنوں ،جڑوں کے گلنے سٹرنے سے حاصل ہونے والے مواد یا جانوروں کے فضلہ مثلاًگوبر وغیرہ کو نامیاتی کھاد کہاجاتاہے جو زمین کی ذرخیزی کو برقرار رکھنے اور نامیاتی مادہ میں اضافہ کے لیے ازحدضروری ہیں۔

مزید : کامرس