انسانی حقوق اور ہمہ جہتی کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا،آصف زرداری

انسانی حقوق اور ہمہ جہتی کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا،آصف زرداری

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ہمیں نہ صرف اس عزم کا اعادہ کرنا چاہیے کہ ہر فرد کے انسانی حقوق کو مقدم رکھا جائے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ملک کی انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ انسانی حقوق کا عالمی دن ہر سال 10دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ اپنے پیغام میں آصف علی زرداری نے کہا کہ برداشت اور درگزر، انسانی حقوق کے احترام اور ہمہ جہتی کے کلچر کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام بھی تمام انسانوں کے حقوق کا احترام کرتا ہے اور اس بات کی آزادی دیتا ہے کہ ہر فرد کا یہ حق ہے کہ وہ جو مذہب چاہے اس پر عمل پیرا ہو۔ بدقسمتی یہ ہے کہ چند کوتاہ نظروں نے مذہب کی غلط تشریح کی ہے اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو ایک طرف تو اس کے حقوق نہیں دئیے اور دوسری جانب مخالفت کی ہر آواز کو طاقت سے دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باشعور لوگوں کو چاہیے کہ اس غلط تشریح کے خلاف اپنی آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت، امن اور انسانی حقوق ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور آزادی کی فضا میں پنپتے ہیں۔ اس موقع پر ہمیں جمہوریت اور آزادی کے ہتھیار سے عسکریت پسندی اور بدامنی کے خلاف لڑنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کی انسانی حقوق کی صورتحال غیراطمینان بخش ہے اور بدقسمتی سے پاکستان سلامتی کونسل کی انسانی حقوق کی نشست گنوا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ تشدد کے خاتمے اور سیاسی اور سماجی حقوق کے لئے پارٹی کی حکومت نے اقوام متحدہ کے جس کنونشن پر دستخط کئے تھے ان پر عملدرآمد کیا جائے اور اسے عوام کے سامنے لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کے خلاف علم کو نافذ کیا جائے جو کہ سینیٹ سے پہلے ہی متفقہ طور پر منظور کیا جا چکا ہے۔ اس موقع پر یہ بات بھی قابل تشویش ہے کہ کچھ قوانین کو خواتین ا ور اقلیتوں کے خلاف مذہب کے نام پر استعمال کیا جا رہا ہے اور ہر باشعور اور باضمیر مرد اور خواتین کو چاہیے کہ وہ اس کے خلاف اپنی آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام لوگوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے انسانی حقوق کی جدوجہد میں قربانیاں دی ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ آج کے روز ہمیں گم شدہ افراد کے لئے بھی اپنی آواز اٹھانی چاہیے اور ان لوگوں کے لئے بھی جنہیں تشدد کرکے بے دردی سے یا تو عسکریت پسندوں یا ریاستی اداروں نے جاں بحق کر دیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر