پنجاب میں افغانیوں سمیت غیر قانونی رہائش پذیر افراد کیخلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا فیصلہ

پنجاب میں افغانیوں سمیت غیر قانونی رہائش پذیر افراد کیخلاف بڑے پیمانے پر ...

لاہور(رپورٹ ۔ یونس با ٹھ ) ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر پنجاب میں ایک باپھر ا فغا نیوں سمیت دیگر غیر قانو نی رہائش پذیر افراد کے خلاف بڑ ے پیمانے پر آپر یشن کر نے کا فیصلہ کیاگیاہے ۔ ذرائع نے دعو ی ٰکیا ہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں35لاکھ سے زائد افغان مہاجرین آباد ہیں حکومتی اداروں کے پاس ان غیر قانونی افغان مہاجرین کے کوئی درست کوائف مو جو د نہیں ہیں ۔ جعلی طریقے سے اندراج کے باعث حساس اداروں کو ان کی شناخت کے حوالے سے شدید مشکلات کا سا منا ہے ملک بھر با لخصو ص پنجا ب میں افغان مہاجرین بے قابو ہو گئے ہیں ۔جبکہ 1970سے اب تک15لاکھ سے زائد افغان مہاجرین نے غیر قانونی پاکستانی شہریت حاصل کر لی ہے جنہو ں نے نادرا سے مک مکا کر کے لاکھوں قومی شناختی کارڈ حا صل کر لیے ہیں جس کی بنیاد ان کا افغانی ہو نے پر شہریت دینا نہیں ہے بلکہ انہیں ریکارڈ میں پاکستانی ہی لکھا گیا ہے ان افغانیوں کو صوبہ خیبر پختونخوا سمیت دوسرے صوبوں میں ملکی شہری کا رشتہ دار یا بیٹا ظاہر کر کے پچھلے 35سالوں سے پاکستانی شہری بنایا جا رہا ہے جس کی روک تھام کے لئے کوئی موثر اقدامات نہیں کئے گئے جس وجہ سے افغان مہاجرین آسانی سے ملکی شہریت حاصل کر رہے ہیں اب ان کی دوسری اور تیسری نسل پاکستان میں ہے جو ملکی شہریوں کے مکمل حقوق حاصل کر چکی ہے اور ان کے بچے یہیں پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ ملک میں تقر یباً 35لاکھ سے زائد افغان باشندوں سمیت دیگر ملکوں کے شر پسند عناصر کا مختلف ناموں سے نادرا کے کھاتوں میں جعلی طریقے سے اندراج کے باعث حساس اداروں کو ان کی شناخت کے حوالے سے شدید مشکلات پ کا سا منا ہے ۔ذرائع کے مطابق حساس اداروں نے خبر دار کیا ہے کہ افغان بستیوں کے علاوہ بڑے بڑے شہروں کے پوش ایریاز ،مدرسے اور مساجد ان کی مضبوط پناہ گاہیں بن چکی ہیں تاہم ان کے خلاف جاری آپریشن کو کافی حد تک خفیہ رکھا جا رہا ہے تاکہ آپریشن کوکامیاب بنایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق خفیہ اداروں نے کہا ہے کہ جب تک ملک میں تمام انٹیلی جنس کے حوالے سے اداروں کے درمیان دہشت گر دی بارے معلومات بارے باقاعدہ ہم آہنگی اور انٹیلی جنس شیرنگ نظام صحیح معنوں میں وضع کیا جانے کی اشد ضرورت ہے رپورٹ کے مطابق افغانیوں کی کراچی ،حیدر آباد ،سکھر ،ملتان ،لاہور ،راولپنڈی ،پشاور سمیت ملک بھر میں مختلف مقامات پر بستیاں قائم ہو چکی ہیں جن کے انخلاء کے لئے کئے جانے وا لے اقدامات نا کافی ہیں اور قانون نافذکر نے والے اداروں کو دہشت گردوں کی نشاندہی کے لئے مزید وقت درکار ہے کیونکہ افغان باشندے گذشتہ 35سال سے پاکستان میں آباد ہیں اور ان کی ایک نسل بھی جوان ہو چکی ہے جبکہ پاک افغان سرحد پر خار دار باڑ نہ ہو نے کی وجہ سے افغان باشندے اور دیگر دہشت گردبا آسانی فاٹا پشاور اور ملک کے دیگر حصوں میں بلا روک ٹوک سفر کرتے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کے باوجود مختلف شہروں میں پے در پے دہشت گردی کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے دفاعی تحزیہ کاروں کے مطابق مختلف اداروں جن میں تعلیمی اداروں ہسپتالوں اےئر پور ٹس بس سٹینڈز ریلوے اسٹیشن اور اہم عمارتوں کی حفاظت کے لئے بھاری نفری تعینات ہو نے کے باوجوددہشت گردی کے واقعات کم ہو نے کی بجائے بڑھ رہے ہیں جس میں سرکاری اور بے گناہ شہریوں کی ہزاروں میں ہلاکتیں ہو چکی ہیں موجودہ دہشت گردی کی کاروائیوں سے نمٹنے کے لئے دفاعی پوزیشن کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی کاروائیاں جہاں ترتیب دی جاتی ہیں اور ان دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف موثر کاروائی کی ضرورت ہے ۔ افغان مہاجرین کا مسئلہ حکومت اور انتظامیہ حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں ان کے لئے نئی قانون سازی کی ضرورت ہے اس وقت ملک بھر میں کھلے عام افغان مہاجرین نقل وحرکت کر رہے ہیں لاہور شہر کی مختلف آبادیوں میں 2لاکھ سے زائد افغان باشندے آباد ہیں جن میں سے اکثر کے پاس ملکی شہریت ہے اور نئے آنے والوں کو یہ لوگ پناہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے مہمان باجوڑ سے آئے ہیں ان آبادیوں میں بند روڈ پر افغانوں کی کئی آبادیاں ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر