پی آئی اے کی نجکاری قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی قائم

پی آئی اے کی نجکاری قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت کی مشترکہ پارلیمانی ...

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن اور حکومت نے مذاکرات کے بعد پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی قائم کردی جس میں قومی اسمبلی ، سینٹ کے ممبران اور پی آئی اے کی یونین کے عہدیدار شامل ہوں گے چیئرمین نجکاری کمیشن مذکورہ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کو پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بریفنگ دینگے ۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے ا جلاس کے دوران سپیکر چیمبر میں متحدہ اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کے مابین پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے مذاکرات ہوئے جس میں پارلیمنٹ اور سینٹ کے ارکان سمیت پی آئی اے کی یونین کے عہدیداران پر مشتمل جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی پر اتفاق کیا گیا اجلاس کے بعد ایوان میں آکر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی بنانے کے حوالے سے ممبران کو آگاہ کیا انہوں نے مزید کہا کہ سپیکر کے چیمبر میں حکومتی نمائندوں سے بات چیت ہوئی ہے حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اس کی نجکاری نہیں کرنے جارہے ہیں اور ان کے ملازمین کو بھی تحفظ دیا جائے گا پارلیمنٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے بھی خورشید شاہ کے بیان کی تصدیق کی اور کہا کہ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نجکاری کمیشن سے بریفنگ لے گے اور ہم اس کے بعد دیگر معاملات کا فیصلہ کرینگے اس پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پی آئی اے کو کمپنی بنانے کے حوالے سے جاری کردہ آرڈیننس میں نجکاری کی کوئی شق شامل نہیں ہے اس وقت پی آئی اے 295 ارب روپے کے خسارے میں ہے موجودہ حکومت کے اقدامات سے پی آئی اے میں 38 جہاز ہوچکے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ اس آرڈیننس کے آنے کے بعد کوئی ملازم فارغ نہیں کیا گیا اس کے بڑے اثاثوں کو نجکاری کے لئے پیش نہیں کیا جائے گا ۔ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی میں کور بزنس اور چھبیس فیصد حصص پر بات ہوگی وزیر خزانہ نے کہا کہ اسٹیل ملز پر بروقت فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے بھی 137 ارب کا نقصان ہوچکا ہے اس پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ سپیکر چیمبر میں صرف کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے چھبیس فیصد حصص اور کور بزنس یہ کوئی اتفاق نہیں کیا گیا پی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایوان میں وزیر خزانہ کے بیان میں نجکاری کی بو آرہی ہے چھبیس فیصد اور کور بزنس پر تو کوئی اتفاق نہیں کیا گیا عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی تمام نجکاری فیل ہوئی ہے۔ وزیر خزانہ نے پہلے چھبیس فیصد حصص کی بات کی اور پھر اسے 49فیصد تک لے جانے کی بات کی اس طرح نہ کریں ہم سب پی آئی اے کے حالات بہتر کرنا چاہتے ہیں اس پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اس حوالے سے مزید بات کمیٹی میں ہوگی جس کا تین سے چار دن کے اندر نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا

مزید : صفحہ آخر