سشما سوراج کا دورہ پاکستان عالمی دباؤ کا نتیجہ، بھارت کو تعلقات معمول پر لانا ہونگے: سیاسی رہنما

سشما سوراج کا دورہ پاکستان عالمی دباؤ کا نتیجہ، بھارت کو تعلقات معمول پر ...

لاہور(شہزاد ملک ،محمدنواز سنگرا) بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے دورہ پاکستان کو سابق وزراء خارجہ، عسکری ماہرین اور سیاسی رہنماؤں نے اہم قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کم ہو سکتی ہے لیکن نریندر مودی کے ہوتے ہوئے زیادہ توقعات بھی نہیں رکھنی چاہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا یہ دورہ پاکستان عالمی دباؤ کا نتیجہ ہے تو یہ بھی بے جا نہ ہو گا کیونکہ دنیا کا فوکس قیام امن ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر عالمی رہنماؤں کادباؤ ہے کہ خطے میں کشیدگی کو ختم کیا جائے اور امن قائم کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی‘ سابق وزیر خارجہ میاں خورشید محمود قصوری‘ سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی‘ سابق امریکی سفیر بیگم عابدہ حسین ‘ جنرل (ر) جمشید ایاز نے ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سردار آصف احمد علی کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کی پہلی ترجیح خطے میں امن ہے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی پاکستان آمد سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں جانب کی سرحدوں پر کشیدگی کو ختم اور درجہ حرارت کم کیا جائے، بھارت کو عالمی دباؤ کے نتیجے میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانا ہو گا ۔ خورشید محمود قصوری کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے خاتمے کے لئے بھارت کو پاکستان کے ساتھ بات چیت کا راستہ ہی اختیار کرنا پڑے گا۔ بھارتی وزیراعظم نریندری مودی کی پالیسیوں کو اس کے اپنے ملک کے لوگ پسند نہیں کررہے ہیں تو عالمی برادری کیسے پسند کرے گی ،بھارت کو عالمی امن کیلئے پاکستان کے ساتھ بات چیت کے راستے پر ہی آنا پڑے گا اور خطے میں پائیدار امن کیلئے بات چیت کا راستہ ضروری ہے ۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت کو اپنے تمام تر مطالبات بھارت کے سامنے رکھنا ہوں گے اور بھارت کو بھی اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ جب تک وہ مثبت بات چیت کا راستہ اختیار نہیں کرے گا تب تک تناؤ کی صورت حال قائم رہے گی اور ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت اچھے طریقے سے بھارت کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرے گی ۔بیگم عابد حسین کا کہنا تھا کہ میں سمجھتی ہوں کہ سشما سوراج کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ اس وقت ہوا ہے کہ جب سرحدوں پر کشیدگی پائی جاتی ہے ایسی صورت حال میں اس دورے کی وجہ سے نہ صرف دونوں جانب پائی جانے والی کشدگی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ برف پگھلنے میں مدد ملے گی ،ہم امید کرتے ہیں کہ اس دورے کے خطے پر اچھے نتائج مرتب ہوں گے اور پاکستان کے موقف کو پذیرائی ملے گی دنیا کو ہمارے موقف کو ماننا پڑے گا پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف پوری دنیا کرتی ہے ۔

مزید : صفحہ آخر