کانگریس نے ویزے کے بغیر امریکہ آنیوالے افراد کی سخت سیکروٹنی کا بل منظور کر لیا

کانگریس نے ویزے کے بغیر امریکہ آنیوالے افراد کی سخت سیکروٹنی کا بل منظور کر ...

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) 2 دسمبر کو جنوبی کیلی فورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں شوٹنگ کے المناک واقعے کی تفتیش کے ساتھ ساتھ اس پر امریکہ کے سرکاری اور غیر سرکاری حلقوں میں ردعمل اور مختلف اقدامات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے بدھ کے روز سینیٹ کی اوور سائٹ کمیٹی کے سامنے پیشی کے دوران حملہ آوروں کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں۔ ایوان نمائندگان نے دونوں پارٹیوں کی حمایت سے ایک بل منظور کیا ہے جس میں ہائی رسک مسافروں کی امریکہ آمد کو روکنے کیلئے سکروٹنی کو زیادہ سخت کیا جائے گا۔ اس دوران واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے نے کیلیفورنیا کے سانحے کے بعد صدر اوبامہ کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خیالات کو پاکستانی امریکن کمیونٹی نے وسیع پیمانے پر سراہا ہے۔امریکی نمائندگان کے بل کی ابھی سینیٹ سے منظوری باقی ہے۔ صدر اوبامہ اور کانگریس قبل ازیں اس تشویش کا اظہار کرچکے ہیں کہ جن ممالک کے باشندوں کو امریکہ آنے کیلئے ویزے کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ شام اور عراق کا وزٹ کرکے آ رہے ہوں تو ان میں داعش یا دہشت گرد تنظیموں کے ارکان یا ہمدردوں کے موجود ہونے کا امکان زیادہ ہے اس لیے اب ان کی زیادہ سخت سکروٹنی کی جائے گی۔ اگر سینیٹ نے بھی بل منظور کرلیا اور توقع کے مطابق صدر اوبامہ نے اس پر دستخط کردیئے تو پھر اس کے ذریعے ہوم لینڈ سکیورٹی کے سربراہ جر جانسن کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ ویزے سے مستثنیٰ 38 ممالک میں سے کسی بھی ملک کو اس فہرست سے خارج کرسکے گا جو امریکہ کے قانون نافذکرنے والے اداروں سے حساس معلومات شیئر کرنے سے انکار کرے گا۔ یہ بل 19 کے مقابلے پر 407 ووٹوں کی اکثریت سے منظور ہوا جبکہ تمام مخالف ووٹ ڈیمو کریٹک پارٹی کے ارکان کے تھے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش اور دہشت گرد تنظیموں نے ان ممالک میں رہنے والے اپنے کارکنوں یا حامیوں کو تخریبی مقاصد کیلئے امریکہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ ان کیلئے ویزے کی پابندی نہ ہونے کے باٖث ان کا امریکہ داخلہ نسبتاً آسان تھا۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ سید رضوان فاروق جو پاکستانی اوریجن کا امریکہ میں پیدا ہونے والا شہری تھا اور اس کی پاکستان سے آنے والی بیوی تاشفین ملک شادی سے پہلے ہی دہشت گردوں کے مشن سے متاثر ہوکر انتہا پسند اور ریڈیکل ہوچکے تھے۔ اس جوڑے کا ایک جوڑے ملانے والی ویب سائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ رابطہ ہوا۔ تاشفین اگست 2014ء میں شادی کے بعد شوٹنگ والے واقعے سے ایک ماہ قبل منگیتر ویزے پر امریکہ آئی تھی۔ ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر رابطے سے قبل ہی انتہا پسند ہوچکے تھے۔ ایسے شواہد ملے ہیں کہ وہ 2013ء میں انٹرنیٹ رابطہ ہونے پر آپس میں جہاد اور شہادت کے موضوعات پر بات کرتے تھے۔ ایف بی آئی ڈائریکٹر نے بتایا کہ ابھی یہ تفتیش جاری ہے کہ اس جوڑے نے ایک جیسی سوچ رکھنے کے باعث ایک دوسرے کو پسند کیا تھا یا کسی دہشت گرد تنظیم نے انہیں ملانے میں کردار ادا کیا تھا۔واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے ترجمان ندیم ہتیانہ کی طرف سے جاری بیان میں بتایا ہے کہ کیلیفورنیا کے سانحے کے بعد امریکہ میں مسلم کمیونٹی میں اس کے ردعمل پر جو تشویش پائی جاتی تھی اس وقت سے سفارتخانہ یہاں پاکستانی کمیونٹی سے رابطے میں ہے اور ان کی تشویش دور کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر انجیئر‘ وکلاء اور تاجروں سمیت پاکستانی پروفیشنلز قانون کا احترام کرنے والے امن پسند شہری ہیں۔ پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے کمیونٹی پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار شہری کے طور پر بلاخوف اپنا کردار دیانتدای سے نبھاتے رہیں۔

مزید : صفحہ اول