آندھی ہو یا طوفان سی پیک منصوبوں کو پوری طاقت سے آگے بڑھائیں گے: شہباز شریف

آندھی ہو یا طوفان سی پیک منصوبوں کو پوری طاقت سے آگے بڑھائیں گے: شہباز شریف

لاہور(نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈورہماری خوشحالی اورترقی کا ضامن ہے ۔ منصوبے پر عملدر آمد کیلئے دن رات ایک کردیں گے۔چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈورچین کی قیادت اورعوام کا پاکستان کیلئے ایک ایسا عظیم اورشاندار تحفہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔سی پیک پاکستان اورچین کی بے مثال دوستی کا عکاس ہے ۔46ارب ڈالر کے تاریخ ساز اقتصادی پیکیج میں صرف 36ارب روپے کی سرمایہ کاری توانائی کے منصوبوں میں کی جاری ہے ۔جس سے پاکستان کے اندھیرے دور ہوں گے۔سی پیک سے پاک چین دوستی مزید مضبوط ہوئی ہے اور اس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو بے مثال بنا دیا ہے ۔دنیا میں معاشی طورپرمضبوط ممالک اورقوموں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔معاشی طورپر کمزورملک کو کوئی پوچھتا نہیں ۔چین کی جانب سے 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے پاکستان کی معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگی اور پاکستان بین الاقوامی برادری میں باوقار مقام حاصل کرے گا۔وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ آئندہ برس فروری میں پنجاب سے 300 طلباء و طالبات کو چینی زبان سکھانے کیلئے چین بھجوایا جائے گااوراس دوسالہ کورس کرنے والے طلباء و طالبات کے تمام اخراجات حکومت پنجاب برداشت کرے گی۔چینی زبان سیکھانے کیلئے طلباء و طالبات کو چین بھجوانے کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار گورنمنٹ کالج یورنیورسٹی ،لاہورمیں چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے حوالے سے دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان،ملکی و غیر ملکی مندوبین،پروفیسرز،اساتذہ ،فکیلٹی ممبران اور طلباء وطالبات کی بڑی تعداد نے کانفرنس میں شرکت کی ۔وزیراعلیٰ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے اس اہم کانفرنس میں شرکت باعث اعزاز ہے ۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ان کی ٹیم نے سی پیک کے حوالے سے انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد کر کے بہت اہم قدم ا ٹھا یا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں سنٹر آف ایکسیلنس چائنہ سٹڈیز کا قیام خوش آئند ہے اور یہ شعبہ پاکستانی طلباء کوچینی زبان سے آگاہی دینے میں اہم کرداراداکررہا ہے ۔ایسے ادارے پنجاب کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی بنائے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان چینی زبان سیکھ سکیں جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ چینی زبان سیکھانے کے ادارے پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی بننے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے اداروں کے قیام میں پنجاب حکومت بھر پور تعاون کررہی ہے جو ہماری ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈورمیں صرف اور صرف پاکستان کا مفاد مقدم رکھا گیا ہے اوریہ اللہ تعالیٰ کابے پایاں کرم اورچین کا عظیم تحفہ ہے جس پر تیزرفتاری سے کام کا آغاز کردیا گیا ہے اوراس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ہم نے آج کے چیلنجز سے نمٹنے ہوئے مستقبل کی جانب تیزی سے بڑھنا ہے اورپاکستان کی ترقی اور معیشت کے فروغ کیلئے صنعت کاری کے عمل کو مضبوط کرناہے اور اس مقصد کیلئے توانائی درکار ہے ۔سی پیک کے تحت 36ارب ڈالرتوانائی کے منصوبوں پر صرف کیے جارہے ہیں اوران منصوبوں کی تکمیل سے نیشنل گرڈ میں ہزاروں میگاواٹ بجلی شامل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک صرف 46 ارب ڈالر کا پیکیج نہیں بلکہ یہ پاکستان اور چین کی بے مثال دوستی کاآئینہ دار ہے اور چینی قیادت کی پاکستان کے ساتھ مخلصانہ محبت اورایثار کا بین ثبوت ہے ۔انہوں نے کہا کہ چینی قیادت نے یہ عظیم تحفہ پاکستان کو بغیر کسی شرط کے دیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ توانائی بحران سے نمٹے بغیرترقی کے اہداف حاصل نہیں ہوسکتے، یہی وجہ ہے کہ پنجاب سمیت پاکستان بھر میں توانائی کے منصوبوں پر انتہائی تیزرفتاری کے ساتھ کام کا آغاز ہوچکا ہے اورسی پیک کے منصوبوں میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی جائے گی۔طوفان ہویا آندھی سی پیک کے منصوبوں کو پوری طاقت سے آگے بڑھائیں گے کیونکہ یہ منصوبے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے ضامن ہیں۔انہوں نے کہاکہ 2017-18 ء تک سی پیک کے منصوبوں سے 6سے 7ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو گی جس سے توانائی بحران میں کمی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کے بارے میں بے بنیاد افواہیں پھیلائی جارہی ہیں جن کا حقیقت سے دور تک واستہ نہیں ۔چین کے علاوہ کونسا ملک ہے جس نے پاکستان میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہو۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت جتنے بھی منصوبے لگائے جارہے ہیں وہ اس سے عام آدمی کی حالت بدلے گی اورپاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں سب سے پہلے پاکستانی ہوں ،ہم سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل کیلئے جان لڑادیں گے اوراس کی اس طرح حفاظت کریں گے جس طرح ماں اپنے بچوں کی کرتی ہے ،سی پیک کا بچہ جب بڑا ہوگا تو وہ سب سے کامیاب اورطاقتور بچہ بن کر سامنے آئے گا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت پنجاب سمیت پاکستان بھر میں توانائی ،انفراسٹرکچراوردیگر منصوبوں پر کام کا آغازہوچکا ہے اوران منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان کے عوام کی تقدیر بدلے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے پچھے رہ جانے والے ملک آج ہم سے آگے نکل چکے ہیں۔ایک وقت تھا کہ کوریا کی برآمدات پاکستان سے کم جبکہ ترکی کی برآمدات تقریباً برابر تھیں لیکن آج ان دونوں ممالک کی برآمدات ہم سے کہیں زیادہ ہیں۔ہمارا مخلص دوست چین جو ہم سے 2سال بعد آزاد ہواتھا آج وہ دنیا کی دوسری بڑی معاشی قوت بن چکا ہے ۔چین ہمارا ایسا مخلص دوست ہے جوجنگ ہو یا امن ،سیلاب ہو یا زلزلہ یا کوئی اور قدرتی آفت ہمیشہ پاکستان کیساتھ کھڑا رہا ہے ۔اقوام متحدہ اورسکیورٹی کونسل میں بھی ہمیشہ پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے ۔اسی دوست ملک چین نے پاکستان کے غریب عوام کی حالت بدلنے کیلئے تاریخ ساز سرمایہ کاری پیکیج دیا ہے لیکن کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ بعض عناصر اسے گوادر پورٹ سے جوڑنے اوراس بارے میں غلط فہمیاں اورافواہیں پھیلانے میں مصروف ہیں۔ایسے عناصرکو یہ بات ذہین میں رکھنی چاہیے گوادر پورٹ کی اپنی اہمیت ہے اوریہ منصوبہ دونوں ممالک کے باہمی مفادات پر مبنی ہے جبکہ سی پیک ،چینی قیادت عوام اورحکومت کا پاکستان کے عوام کیلئے بے مثال تحفہ ہے ۔سی پیک کے حقیقی ڈئزاین میں تبدیلی نہیں کی گئی ہے تاہم چین اورتمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اس میں بہتری لائی جاسکتی ہے ۔سی پیک نے اس بات کو سچ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی کو ہمالیہ سے بلند،شہد سے میٹھی اورسمندر سے گہری ہے۔چین کے صدر نے تواس سے بڑھ کر کہا ہے کہ پاکستان اورچین آئرن برادرز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی ترقی ہمارے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے اور ہم چین کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر ترقی کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین میں چینی زبان سیکھنے کیلئے جانے والے طلبا ء و طالبات پر پنجاب حکومت70کروڑ روپے خرچ کررہی ہے اوریہ رقم اخراجات نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل پر سود مند سرمایہ کاری ہے ۔چین جانے والے طلبا و طالبات کے انتخاب کاتمام عمل شفاف طریقے سے میرٹ پرکیا جائے گاکیونکہ پنجاب حکومت نے ہر سطح پر میرٹ اور شفافیت کو فروغ دیاہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 60فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہیں با اختیار بناکرملک و قوم کی حالت بدلی جاسکتی ہے ۔پنجاب حکومت نے نوجوانوں کی ترقی اورانہیں بااختیار بنانے کیلئے سکل ڈویلپمنٹ کا شاندار پروگرام شروع کررکھا ہے جس کے تحت بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار کی جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ کابین الاقوامی ترقی کا ادارہ ڈیفڈ،سکل ڈویلپمنٹ،تعلیم اورصحت کے شعبوں کی ترقی کیلئے تعاون کررہا ہے تاہم نوجوانوں کو باوقار روزگار کی فراہمی کیلئے سکل ڈویلپمنٹ پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔خلیجی ممالک میں بھی پاکستان کی افرادی قوت کی بہت مانگ ہے اگر ہم نوجوانوں کو جدید تربیت اور علوم سے روشناس کروائے تو نہ صرف انہیں باعزت روزگار میسر آئے گا بلکہ پاکستان کو قیمتی زرمبادلہ بھی ملے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئے آبادی کے مسائل پر قابو پانے کیلئے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہونا ہوگاکیونکہ آبادی کے مسائل ایک گھمبیرمسئلہ اختیار کرچکے ہیں اورترقی کی شرح کو تیزکرنے کیلئے ان مسائل پر قابو پانا انتہائی ضروری ہے اور اس ضمن میں تما م متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک مکالمہ ہونا چاہیے،جس میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد مستحق ذہین طلباء و طالبات ملکی اور غیر ملکی معروف تعلیمی اداروں میں تعلیمی پیاس بھجارہے ہیں ۔پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی ووچرز سکیم کے تحت بھی لاکھوں بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا حالیہ دورہ برطانیہ بھی میری زندگی کے تمام غیر ملکی دوروں سے انتہائی کامیاب رہا ہے اوراس دورے کے دوران تعلیم اورصحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے مفید بات چیت ہوئی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ محکمہ صحت کی طرح محکمہ تعلیم کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اورایک محکمہ ہائر ایجوکیشن ہوگا اوردوسر محکمہ سکولز ایجوکیشن اوردونوں کے وزیر اورسیکرٹریز الگ الگ ہوں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس اقدام سے محکمہ تعلیم کی کارکردگی میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دورے کے دوران ہمارے وفد کو زبردست پذیرائی ملی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پانی سے 30ہزار میگاواٹ بجلی کے حصول کی گنجائش موجود ہے اوراس ضمن میں باقاعدہ سٹڈیز موجود ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ گذشتہ68سالوں میں اس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی اور اس کے ذمہ دار تمام سیاسی اورفوجی حکومتیں ہیں۔ تاہم موجودہ وفاقی حکومت ہائیڈل سمیت تمام ذرائع سے بجلی کے حصول کے منصوبوں پر تیز ی سے کام کررہی ہے۔ بھاشا ڈیم کیلئے زمین خریدی جارہی ہے جبکہ داسو ڈیم پر بھی کام کا آغاز ہوچکاہے۔توانائی کے منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان کے اندھیر ے دور ہوں گے اور ملک ترقی و خوشحالی کا سفر طے کرے گا۔انہوں نے کہا کہ قائداعظمؒ کے پاکستان میںآئین کے تحت تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں ۔ہم نے پاکستان کو حقیقی معنوں میں قائد اور اقبال کا پاکستان بنانا ہے اور اس کی تعمیر وترقی کیلئے ملکرکام کرنا ہے ۔یہ کام مشکل ضرور ہے تاہم نا ممکن نہیں اورانشا ء اللہ ہم ملکر پاکستان کو قائداعظم کے فرمودات پر عمل کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنائیں گے۔سینٹر آف ایکسیلنس چائنہ سٹڈیز کے ڈائریکٹر خالد منظور بٹ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سنٹر آف ایکسیلنس کے اغراض و مقاصد بیان کیے اوراس سنٹر میں کرائے جانیوالے کورسز پر روشنی ڈالی۔انہوں نے چا ئنہ پاکستان اکنامک کوریڈور گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی اہمیت بڑھے گی ۔ملک سے غربت اور بے روزگاری کا خا تمہ ہوگااوراس منصوبے سے پاکستان کے مشرق وسطی ،یورپ،افریقہ کے ساتھ تجارتی و معاشی تعلقات میں وسعت آئے گی۔وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی نے یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر حسن عامر شاہ نے سنٹر آف ایکسیلنس چائنہ سٹڈیز کے قیام میں وزیراعلیٰ کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنٹر حقیقی تھنک ٹینک میں بدلے گا۔سابق ڈپٹی چےئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر اکرم شیخ نے اپنے کلیدی خطاب میں سی پیک کے خدوخال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ ہنر مند افرادی قوت کی تیاری اورنوجوانوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے پنجاب میں ووکیشنل ٹریننگ میں لیڈ لی ہے ۔انہوں نے وزیراعلیٰ شہبازشریف کی شخصیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ پریکٹیکل آدمی ہیں جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے سی پیک اورپاک چین تعلقات بڑھانے میں بھی اہم کردارادا کیا ہے ۔تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے ڈاکٹر اکرم شیخ کو سونےئر دیاجبکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے وزیراعلیٰ کو سونےئر پیش کیا ۔

مزید : صفحہ اول