جامع مذاکرات نئے نام سے بحال، آٹھ پرانے مسائل پر بات ہو گی

جامع مذاکرات نئے نام سے بحال، آٹھ پرانے مسائل پر بات ہو گی

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری:

پاکستان اور بھارت میں ’’جامع مذاکرات‘‘ بحال تو ہوگئے ہیں، مگر اب کی بار ان کا نیا نام رکھ دیا گیا ہے، پہلے پہل ان مذاکرات کو جامع مذاکرات کے نام سے یاد کیا گیا، پھر جب طویل عرصے کے بعد واجپائی کے دور میں دوبارہ بحال ہوئے تو انہیں ’’بحال شدہ جامع مذاکرات‘‘ کہا گیا ،اب جو نیا نام رکھا گیا ہے وہ ’’کمپری ہنسو باہمی مذاکرات‘‘ ہے، شاعر نے کہا تھا :

تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

اب معلوم نہیں کہ نیا نام مذاکرات کے ویرانے کا اچھا سا نام ہے یا اس نام میں کوئی ایسا بھید بھی چھپا ہوا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ کھلے گا۔ لیکن نام کی تبدیلی میں کوئی معنویت تو ہوگی ورنہ تبدیلی کی چنداں ضرورت نہ تھی ۔ آپ کو یاد ہوگا آزاد کشمیر اور مقبوضہ کے درمیان جو لائن دونوں علاقوں کو الگ الگ کرتی تھی، ایک زمانے میں اسے جنگ بندی لائن یا پھر انگریزی میں سیز فائر لائن کہا جاتا تھا، پھر 1971ء کی جنگ کے بعد جب دونوں ملکوں میں شملہ معاہدہ ہوا تو اس ’’جنگ بندی لائن‘‘ کو ’’کنٹرول لائن ‘‘ کہا جانے لگا یعنی مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کو الگ الگ ظاہر کرنے والی کنٹرول لائن، شملہ معاہدے میں دونوں ملکوں کے درمیان یہ بھی طے ہوا تھا کہ وہ اپنے باہمی تنازعات آپس میں بات چیت کے ذریعے حل کریں گے بھارت اس کی توجیح یہ کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ سمیت کسی عالمی فورم پر بھی نہیں اٹھایا جاسکتا کیونکہ یہ ’’باہمی‘‘ معاملہ ہے، عالمی نہیں ہے۔ اسی لئے جب وزیراعظم نواز شریف نے 2014ء اور 2015ء میں جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مختصر ساذکر کیا تو بھارتی رہنماؤں کی جبینوں پر شکنیں ابھر آئیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ باہمی طورپر تو مذاکرات ہوتے نہیں، اور عالمی اداروں میں مسئلے کا ذکر آئے تو بھارت ناراض ، اب اگر سات سال بعد مذاکرات نئے نام سے بحال ہوئے ہیں تو دیکھنا ہوگا کہ یہ کتنے مسائل حل کرتے ہیں، کتنی دیر چلتے ہیں اور بالآخر کسی حتمی نتیجے پر پہنچتے ہیں یا پھر ان کا حشر پہلے مذاکرات کی طرح ہوتا ہے ، یعنی کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہونے کے بعد معطل ، ایسے کسی حادثے سے بچنا ہوگا، ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بھارت نے لفظ ’’باہمی ‘‘ پر زور دینے کے لئے مذاکرات کے نام میں یہ لفظ بڑھایا ہے ورنہ پہلے دوناموں میں یہ نہیں تھا، ویسے مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ توقع سے بھی زیادہ جلدی ہوگیا ہے، عام خیال تھا کہ اس مسئلے پر بات چیت تو ہوگی لیکن بحالی کے اعلان میں شاید مزید کچھ وقت لگے لیکن اسلام آباد میں ہی اس کا اعلان کردیا گیا اور خارجہ سیکرٹریوں سے کہہ دیا گیا کہ وہ مذاکرات کا شیڈول اور تفصیلات طے کرلیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان جب بھی مذکرات کا انعقاد ہوگا یہ تمام حل طلب مسائل پر ہوں گے جن میں دہشت گردی اور کشمیر بھی شامل ہے، اگست میں سرتاج عزیز اور اجیت دوول کے مذاکرات نئی دہلی میں ہونے والے تھے لیکن کشمیری رہنماؤں کو پاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے استقبالیہ میں شرکت کی دعوت دینے پر ملتوی ہوگئے، سوال یہ ہے کہ اس عرصے کے دوران کون سی ایسی غیر معمولی تبدیلی ہوئی ہے کہ بھارت کشمیر سمیت تمام حل طلب امور پر بات چیت کے لئے آمادہ ہے اور خارجہ سیکرٹریوں کو مذاکرات کے شیڈول اور تفصیلات طے کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ بھارت کی اس ’’تالیف قلب‘‘ میں بعض بیرونی اور اندرونی عوامل کا عمل دخل ہے، عالمی طاقتیں ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی خواہاں رہی ہیں اس لئے عین ممکن ہے کہ انہوں نے وزیراعظم مودی پر اس کے لئے زور دیا ہو، اور پیرس میں 30نومبر کو دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات اسی کے نتیجے میں ہوئی ہو، جس نے بعد کے سارے واقعات ممکن بنائے یعنی بنکاک میں سیکیورٹی مشیروں کی ملاقات اور ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لئے وزیرخارجہ سشماسوراج کی اسلام آباد آمد ، اندرون ملک مودی کو جو مختلف قسم کے دباؤ درپیش تھے ان میں ایک تو دہلی کے ریاستی انتخابات میں بی جے پی کی بری طرح شکست تھی، جس میں عام آدمی پارٹی نے دونوں بڑی پارٹیوں یعنی بی جے پی اور کانگرس کا صفایا کردیا یہ ریاستی الیکشن لوک سبھا کے الیکشن کے تھوڑے عرصے بعد ہی ہوئے تھے اس لئے مودی کے لئے بڑا دھچکا ثابت ہوئے جو اپنی کامیابی کے نشے میں سرشارتھے۔ دوسرا بڑا واقعہ بہار کے انتخابات میں بی جے پی کی شکست ہے۔ جس میں مودی نے تیس انتخابی جلسوں سے خطاب کیا لیکن لالو پرشادیادیو اور بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے اتحاد بنا کر بی جے پی کو بری طرح ہرادیا۔ یہ اندرونی دباؤ بھی پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے عوامل میں شمار کئے جاسکتے ہیں۔

سشماسوراج نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی آئندہ برس سارک کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان آئیں گے ، یہ کانفرنس آئندہ برس ستمبر میں متوقع ہے، اس سے پہلے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی 2004ء میں اسلام آباد آئے تھے جہاں انہوں نے سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کی۔ سارک کی تنظیم اگر توقع کے مطابق کامیابیاں نہیں حاصل کرسکی تو اس کی وجہ بھی اس کے دونوں بڑے ارکان کی باہمی کشیدگی ہوسکتی ہے جس کے سربراہ اکثر کانفرنسوں کے موقع پر ایک دوسرے سے کھچے کھچے رہتے ہیں، نیپال میں سربراہ کانفرنس کے موقع پر جنرل پرویز مشرف خطاب کے بعد واجپائی کی نشست کی طرف گئے اور ان سے مصافحہ کیا۔ گھٹنوں کی تکلیف کے باعث وہ اپنی نشست سے اٹھ نہ سکے اور بیٹھے بیٹھے ہی مصافحہ کیا اب آٹھ سال بعد 2016ء میں اگر مودی پاکستان آجاتے ہیں تو دونوں ملکوں کے تعلقات کی بہتری کی جانب ایک اور قدم اٹھ جائے گا۔

مذاکرات کی بحالی کے بعد کن امور پر بات ہوگی؟ یہ آٹھ مسائل ہیں جن پر پہلے بھی بات ہوتی رہی ہے تاہم اگر کوئی نیا مسئلہ ہوگا تو وہ بھی مذاکرات کا حصہ بنایا جاسکے گا۔ مذاکرات کی بحالی میں بنکاک مذاکرات نے اہم کردار اداکیا ہے آئندہ بھی سیکیورٹی امور پر دونوں کے مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں، سشماسوراج کے دورۂ اسلام آباد کی اہم بات یہ ہے کہ وہ سرتاج عزیز سے ملاقات کے لئے پاکستان کے دفتر خارجہ میں گئیں دوسری بات یہ محسوس کی گئی کہ بھارتی وزیر خارجہ نے اپنی گفتگو میں کہیں بھی کوئی ایسے الفاظ استعمال نہیں کئے جو ماحول میں کشیدگی کا باعث بنیں مذاکرات کی بحالی کو پاکستان کی اخلاقی فتح سے تعبیر کیا جارہا ہے، مذاکرات وہیں سے شروع ہوں گے جہاں سے ممبئی دہشت گردی کے بعد ٹوٹے تھے۔ پاکستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس سلسلے میں ان مقدمات کی عدالتوں میں تیزی سے سماعت مکمل کی جائے گی جو ممبئی دہشت گردی کی سلسلے میں زیرسماعت ہیں ۔

مزید : تجزیہ