رینجرز کے اختیارات۔ وفاق کے سامنے صوبے کے تحفظات!

رینجرز کے اختیارات۔ وفاق کے سامنے صوبے کے تحفظات!

تجزیہ چودھری خادم حسین:

کراچی آپریشن کے حوالے سے رینجرز کے خصوصی اختیارات میں توسیع کے مسئلے پر جو صورت حال بنی اس کی بنیادی وجہ وفاق کی طرف سے صوبائی حکومت اور ایم کیو ایم کے تحفظات کے حوالے سے یقین دہانی کے باوجود کوئی قابل عمل حل نہ کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ مرنجان مرنج شخصیت ہیں ان سے یہ توقع کہ وہ بہت سخت مزاج ہیں بے جا ہے وہ تو وزیراعظم سے بات کرتے وقت ایک سائل نظر آتے ہیں البتہ ان کو آصف علی زرداری اور بلاول کا جو اعتماد حاصل ہے اس کی بدولت وہ ایسے فیصلے بھی کر لیتے ہیں جیسا کہ اب انہوں نے سندھ اسمبلی سے توسیع اختیارات کی اجازت لینے کی بات کر دی ہے۔ ادھر یہ خبر بھی ہے کہ اس پیچیدہ صورت حال پر آصف علی زرداری نے خواب دیکھنے والے وسان سے مشاورت کی تو اب دونوں باپ بیٹے بھی سر جوڑ کر بیٹھے ، دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ رینجرز کے خصوصی اختیارات ختم ہوئے لیکن اس کی طرف سے کارروائی کو ختم نہیں کیا گیا اور مسلسل سابقہ کی طرح کارروائی شروع ہے۔ رینجرز کے بقول اجازت تو ہونا ہی ہے کام کیوں روکا جائے ویسے رینجرز ترجمان نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر توسیع کے لئے یہ شرط ہی عائد ہونا ہے کہ سیاسی فردکی گرفتاری سے پہلے اطلاع دی جائے تو وزیراعلیٰ کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

یہ عجیب سی صورت حال ہے۔ بظاہر اس عمل کو اب ڈاکٹر عاصم کے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دیئے جانے والے بیان سے جوڑا جا رہا ہے اور عام طور پر کہا جا رہا ہے کہ یہ سب سابق صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے ہے کہ ثبوت اکٹھے کئے جا رہے ہیں جب ایسا ہو گیا تو کارروائی بھی ہو سکتی ہے، جہاں تک جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کا تعلق ہے تو اس سے پیپلزپارٹی ، ایم کیو ایم اور کوئی بھی دوسری جماعت انکار یا اس کی مخالفت نہیں کر سکتی اور نہ ہی ہو رہی، اب سے پہلے ایم کیو ایم کا واویلا تھا کہ ان کے کارکنوں کو گرفتار کرکے بتایا بھی نہیں جاتا کہ اب پیپلزپارٹی بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئی ہے یوں دونوں ایک سطح پر آ گئے ہیں ،جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اس نے دیہی سندھ میں اپنی حیثیت برقرار رکھی اور کراچی۔ حیدرآباد اور میرپور خاص میں بھی حصہ بٹایا ہے۔ اسی طرح ایم کیو ایم نے بھی اپنا ووٹ بینک پھر سے شو کر دیا ہے۔اس لئے وفاقی حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ آج جو سازگار ماحول بنا ہوا ہے اسے خراب نہ ہونے دیا جائے اور سیکیورٹی اداروں کو سونپے گئے فرائض میں بھی کوئی رکاوٹ نہ آئے اس کے لئے وفاق اور صوبے کے درمیان بات چیت سے تحفظات کا تسلی بخش ازالہ ضروری ہے۔ جہاں تک آپریشن کا تعلق ہے تو مولا بخش چانڈیو اور نثار کھوڑو کے علاوہ خود وزیراعلیٰ بھی اس کی تائید کرتے اور جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔ سوال صرف ان کے مفادات کا ہے اور یہ مسئلہ بات چیت سے باآسانی حل ہو جائے گا اور ایسا ہی کہا بھی گیا ہے۔سیاسی حلقے وزیراعظم سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی ون آن ون ملاقات کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بنیادی طور پر ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے حوالے سے تھی جس میں افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات کا معاملہ بھی زیر غور آیا ہوگا،وزیراعظم محمد نوازشریف نے جو افتتاحی تقریر کی اس کو جامع، مختصر اور مثبت رکھنے کا بھی یہی مقصد ہے کہ یہ کانفرنس کامیابی سے ہمکنار ہو اور افغانستان سے تعلقات میں مزید بہتری آئے، وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات میں کراچی آپریشن پر بات ہونا بھی کوئی اچنبھے والی بات نہیں، ہر دو راہنما کراچی میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی اپنا موقف اور ذہن واضح کر چکے ہوئے ہیں، سائیں قائم علی شاہ اب عذر پورا کرنا چاہتے ہیں کہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع نہ ہونے کے باوجود آپریشن رکا تو نہیں، جاری ہے۔

مزید : تجزیہ