میٹھے بول اور حسنِ سلوک!

میٹھے بول اور حسنِ سلوک!

اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ میری رحمت ہر چیز سے وسیع ہے۔ خالقِ کائنات کو اپنے وہی بندے پسند اور محبوب ہیں جو خلقِ خدا سے محبت کرتے ہیں۔ اسلام میں نیک حکمرانوں کی تعریف یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ رعایا سے محبت کرتے ہیں اور رعایا ان سے محبت کرتی ہے۔ آج مسلمان حکمرانوں کا المیہ اور عوام کی بد قسمتی یہ ہے کہ حکمران خود کو اشرافیہ اور عوام کو انعام یعنی جانور سمجھتے ہیں۔ نبی پاکؐ اپنی رعایا کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ اسلامی ریاست کا ہر شہری خود کو معزز و محترم گردانتا تھا۔ آپ نے جب بادشاہوں کو خطوط لکھے تو آپ کے ایک سفیر حضرت حارث بن عمیرؓ ازدی کو شام کے حاکم شرحبیل بن عمرو غسانی نے شہید کر دیا۔ وہ آپؐ کا خط اس کے پاس لے کر گئے تھے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اپنے سفیر کے خونِ ناحق کا بدلہ لینا اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ چنانچہ آپؐ نے ایک لشکر شام کی طرف بھیجا جس کے سپہ سالار زید بن حارثہؓ مقرر کیے گئے۔ آپؐ نے فرمایا کہ زیدؓ کو اگر کچھ ہوا تو جعفر بن ابی طالبؓ کمان سنبھالیں گے، انھیں بھی کچھ ہوا تو عبداللہ بن رواحہؓ کمانڈر ہوں گے۔ اگر وہ بھی شہید ہوگئے تو مسلمان جسے چاہیں اپنا سپہ سالار مقرر کرلیں۔

موتہ کے مقام پر تین ہزار صحابہ ایک لاکھ کے لشکرِ جرار سے ٹکرائے اور ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ تینوں کمانڈر یکے بعد دیگرے شہید ہوگئے۔ اس کے بعد جھنڈا حضرت خالد بن ولیدؓ نے اٹھایا اور دشمن کو شکست دی۔ اسی جنگ میں آنحضورؐ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو سیف اللہ کا خطاب دیا تھا۔ اس جنگ کا حال مدینہ منورہ میں جبریلؑ نے آنحضورؐ کو بتا دیا۔ آپؐ اس وقت منبر پر کھڑے تھے، آپؐ نے صحابہ کو بھی سارے واقعات سے باخبر کیا۔ صحابہ کو یہ خبر سن کر بہت صدمہ پہنچا، خود آنحضورؐ بھی اس صدمے سے نڈھال تھے۔ آپؐ تمام شہداء کے گھروں میں گئے اور ان کے اہل و عیال سے تعزیت بھی کی اور اظہارِ محبت بھی۔ حضرت جعفرؓ کے بچے چھوٹے چھوٹے تھے، جب آپؐ ان کے گھر گئے تو شہید کی اہلیہ حضرت اسماء بنتِ عمیسؓ جو بلند پایہ صحابیہ تھیں، گھر کے کام کاج میں مصروف تھیں۔

وہ بیان فرماتی ہیں کہ آپؐ نے پوچھا:’’اے اسماءؓ! جعفر کے بچے کہاں ہیں؟‘‘ میں انھیں آپؐ کے پاس لائی تو آپؐ نے ان کو اپنے ساتھ چمٹا لیا اور پیار کیا۔ اس دوران میں نے دیکھا کہ آنحضورؐ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ مجھے بہت فکر مندی ہوئی اور میں نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسولؐ! کیا اہل موتہ کی طرف سے کوئی تکلیف دہ خبر پہنچی ہے؟ ‘‘ آپؐ نے فرمایا : ’’ہاں‘‘۔ پھر آپؐ نے شہدا کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جعفرؓ شہید ہو گیا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی حضرت اسماءؓ کے اپنے قول کے مطابق ان کی چیخ نکل گئی۔ حضرت اسماءؓ کی آواز سن کر صحابیات ان کے گھر جمع ہو گئیں۔ اس وقت آپؐ نے فرمایا: ’’اے اسماءؓ! صبر سے کام لینا ، اپنی زبان سے کوئی ایسی بات نہ کہنا جو اللہ کو ناپسند ہو اور سینہ کوبی اور گریبان پھاڑنے سے اجتناب کرنا۔‘‘ اس دوران چونکہ پورے مدینے میں شہدا کی خبر پہنچ چکی تھی، اس لئے ہر گھر اور مجلس میں غم کی چادر تن گئی تھی۔ ہر زبان سے شہدا کا تذکرہ اور ان کی خوبیاں بیان کی جا رہی تھیں۔

حضرت اسماءؓ کو نصیحت کرنے کے بعد آپؐ گھر سے باہر نکل آئے ۔ وہاں سے آپؐ تیز قدموں کے ساتھ اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمتہ الزہراؓ کے گھر تشریف لے گئے۔ حضرت فاطمہؓ حضرت جعفرؓ کی شہادت پر غم زدہ تھیں۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور زبان سے مسلسل یہی کہے جا رہی تھیں ہائے میرے محبوب چچا۔ آپؐ نے فرمایا کہ جعفر جیسے بلند پایہ آدمی پر رونے والیوں کو رونا چاہیے مگر اے فاطمہ! صبر افضل ہے۔ پھر آپؐ نے اپنی بیٹی کو تلقین کی کہ آل جعفر پر آج بہت مشکل وقت ہے ، انھیں آج اپنے آپ کا بھی ہوش نہیں۔ ان کے لئے کھانا تیار کرو اور ہر طرح سے ان کی دلجوئی و خبر گیری کرو۔ اس کے بعد نبی اکرمؐ تمام شہدا کے گھروں میں تشریف لے گئے اور سب کو تسلی دی۔

تین دنوں کے بعد آنحضورؐ نے تمام لوگوں کو تلقین فرمائی کہ شہدا پر کوئی مت روئے۔ آپؐ نے حضرت اسماء بنت عمیسؓ کو بھی کہا کہ آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا۔ آپؐ نے حضرت اسماءؓ کو یہ بھی بتایا جعفر کے کٹے ہوئے بازوؤں کے بدلے میں اللہ نے انھیں پر عطا فرمائے ہیں جن سے وہ جنت میں جہاں چاہیں پرواز کر کے چلے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے حضرت جعفرؓ تاریخ میں طیّار کہلائے۔ آپؐ نے تین دنوں تک حضرت جعفرؓ کے بچوں کو اپنے گھر میں رکھا۔ آپؐ ان سے ان تین دنوں میں بہت قریب رہے۔ انھیں خود کھانا کھلاتے ، ان کی دلجوئی کرتے اور پیار و محبت سے ان کے زخمی دلوں پر مرہم رکھتے ۔ حضرت جعفرؓ کے ساتھ بھی آپؐ کو بڑی محبت تھی اور ان کے بچوں سے بھی آپؐ نے ہمیشہ گہری محبت کا اظہار کیا۔

حضرت جعفرؓ کی شہادت کا واقعہ ان کے بیٹے حضرت عبد اللہؓ کی زبانی تاریخ میں بیان ہوا ہے۔ وہ اس وقت بالکل نوعمر تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب آنحضورؐہمارے والد کی شہادت کی خبر دینے ہمارے گھر تشریف لائے اور میری والدہ کو واقعہ بتایا تو وہ رونے لگیں۔ میں بھی آپؐ کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ آپؐ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور آپؐ کی ڈاڑھی مبارک تر ہو رہی تھی۔ اس موقع پر آپؐ نے ہمارے لئے دعا کی اور فرمایا کہ اے اللہ! تو جعفر کے درجات بلند فرما اور اس کے پسماندگان کا اس سے بہتر قائم مقام بن جا۔ نبی اکرمؐ نے جب میری والدہ کو میرے والد کی شہادت کے بعد انھیں جنت میں پر عطا کیے جانے کی خبر دی تو والدہ نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسولؐ! میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں۔ آپؐ لوگوں کو بھی یہ خوش خبری سنا دیجیے۔‘‘ اس موقع پر آنحضورؐ اٹھے، میرا ہاتھ پکڑا ، میری پیشانی چومی اور میرے سر پر دستِ شفقت پھیرنے لگے۔ پھر میری انگلی پکڑے ہوئے آپؐ مسجد تشریف لائے اور منبر پر چڑھے۔ لوگ مسجد میں جمع ہو گئے۔ آپؐ نے مجھے منبر پر اپنے آگے نچلی سیڑھی پر بٹھایا ۔ آپؐ کی آواز میں نقاہت اور چہرے پر غم نمایاں تھا۔ فرمایا: ’’اے لوگو! جعفر شہید ہو چکا ہے۔ میدانِ کا رزار میں اس کے بازو کٹ گئے تھے، ان کے بدلے میں اللہ نے اسے دو ایسے بازو عطا فرمائے ہیں جن سے پروں کی مانند وہ پرواز کرتا ہے۔‘‘

جب آپؐ منبر سے اترے تو آپؐ مجھے اور میرے بھائی کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے۔ آپؐ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ بچوں کے لئے کھانا لاؤ۔ پھر آپؐ نے ہمیں اپنے ساتھ کھانا کھلایا۔ وہ کھانا جو کے آٹے سے تیار کیا گیا تھا، اسے تیل میں بھون کر سیاہ مرچ اور نمک ڈالا گیا تھا۔ ہم تین دن تک آپؐ کے گھر میں رہے۔ ہر کھانے کے وقت آپؐ ہمیں اپنے ساتھ بٹھاتے اور بڑے پیار سے کھانا کھلاتے۔ خدا کی قسم! آپؐ کے گھر کا کھانا بہت پاکیزہ، بابرکت اور انتہائی لذیذ تھا۔ ان تین دنوں میں آپؐ جب بھی کسی زوجہ مطہرہ کے ہاں تشریف لے جاتے تو ہمیں بھی ساتھ لے جاتے۔ تین دنوں کے بعد آپؐ ہمیں لے کر ہمارے گھر آئے اور ہماری والدہ کو نصیحت فرمائی اور ہمیں دعائیں دیں۔

اس عرصے میں آنحضورؐ نے حضرت جعفرؓ کے بیٹوں کی دلجوئی کے لئے کئی بار مختلف انداز میں حضرت جعفرؓ کی فضیلت بیان فرمائی۔ ایک دن آپؐ نے حضرت عبداللہؓ کو اپنے ساتھ چمٹاتے ہوئے فرمایا کہ جعفر شکل و صورت اور طبیعت و اخلاق کے لحاظ سے مجھ سے مشابہ تھا اور عبداللہ بھی مجھ سے مشابہ ہے۔ چھوٹے بیٹے محمدؓ کو اپنے سینے سے لگاتے ہوئے فرمایا کہ محمد بہت پیارا بچہ ہے، اس کی شکل میرے چچا ابو طالب سے ملتی ہے۔ آپؐ نے حضرت جعفرؓ کے بیٹوں کو یوں دعا دی ’’اے اللہ! آل جعفرؓ کی سرپرستی فرما ، ان کو برکت دے اور ان کے بیع و شرا کو نفع بخش بنا۔ آپؐ نے فرمایا میں دنیا و آخرت میں آلِ جعفرؓ کا ولی ہوں۔ آنحضورؐ کی اس دعا کا اثر لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ حضرت عبد اللہؓ اپنے وقت کے مالدار ترین تجار میں شامل تھے جو اپنا مال اللہ کی راہ میں بے دریغ خرچ کیا کرتے تھے۔ آج مسلمان حکمران اپنی رعایا کے زخمی دلوں پر تو کیا مرھم رکھیں گے، خود ان کا خون پی رہے ہیں۔ نہ انھیں پیٹ بھر کھانا ملتا ہے، نہ پینے کا صاف پانی۔ بدامنی اور لاقانونیت کی وجہ سے کسی کی جان، مال، عزت آبرو محفوظ نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے حکمرانوں کی حفاظت اور ہٹو بچو کی صدائیں لگانے پر متعین ہیں۔ یہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ مدینہ کی اسلامی ریاست کے طرز پر حکومتیں قائم ہوں۔ پاکستان تو بنا ہی اسلام کے نام پر ہے۔ مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست ہی ہمارے لئے رول ماڈل ہے۔

مزید : کالم