سشما کی آمد اور میڈیا کا کردار!

سشما کی آمد اور میڈیا کا کردار!
سشما کی آمد اور میڈیا کا کردار!

  

اسلام آباد میں پانچویں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی تاریخیں طے تھیں، یہ افغانستان کے لئے ہے اور اس میں افغان صدر کی شرکت ضروری تھی ورنہ اس کا فائدہ ہی نہ ہوتا، چنانچہ پیرس میں یہ بھی طے ہو گیا کہ اشرف غنی تشریف لائیں گے وہیں، پاک بھارت وزراء اعظم کی غیر رسمی ملاقات نے مزید راستے کھولے پھر بنکاک میں مہر ثبت ہوئی اور بھارت کی طرف سے بھی کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ سامنے آ گیا کہ وزیرخارجہ شریمتی سشما سوراج شرکت کے لئے آئیں گی، پہلے تو ان کی آمد کے حوالے سے کنفیوژن پھیلایا گیا، حالانکہ یہ عام فہم سی بات تھی کہ جب بات افغانستان کی ہو، کانفرنس میں صدر اشرف غنی بھی آئیں تو بھارت یہ موقع کیسے گنوا سکتا ہے۔ یہ تمام تر ڈپلومیسی اور بھارتی رویے کے خلاف ہوتا کہ بھارت نے افغانستان میں اپنا اثر بنا رکھا ہے، صدر افغانستان اشرف غنی نے اپنی افتتاحی تقریر میں یہ اعتراف بھی کیا، ان کی تقریر کھلی ڈھلی تھی اور انہوں نے تحریر سے زیادہ اپنی ذات پر بھروسہ کیا اور ابتداء ہی میں شرکاء کو متاثر کر گئے۔

ہمیں تو اس حوالے سے ایک بار پھر میڈیا کی بات کرنا پڑے گی کہ دونوں اطراف والے ایک دوسرے پر الزام دھرتے ہیں، لیکن عمل دونوں طرف سے ایک سا کیا جاتا ہے، ہمیں بھارتی میڈیا سے شکوہ ہے کہ وہ پاکستان مخالف اور متعصب ہے اسی طرح وہ لوگ بھی ایسا ہی رویہ اپناتے ہیں حالانکہ بات ذرا مختلف ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف میڈیا میں بھی انتہا پسندوں کی نسبت میانہ رو اور دیانت دار حضرات کی تعداد زیادہ ہے۔ ہمارے اپنے تجربے کے مطابق میڈیا میں میانہ روی کے حامل حضرات بھاری اکثریت میں ہیں۔ پاکستان سے بھارت جانے کا کم و بیش پانچ مرتبہ اتفاق ہوا، ورلڈ پنجابی کانگریس نے پاک بھارت تعلقات (عوامی سطح پر ) بہتر بنانے کے لئے بہت کام کیا کانگریس کے چیئرمین فخر زمان کو بھارت میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہمارا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ ہے ،ان کانفرنسوں کے دوران جو بھارت اور پاکستان میں ہوتی تھیں، ہر قسم کے حضرات سے واسطہ پڑا، تجربہ شاہد ہے کہ اتنہا پسند دونوں طرف ہیں تاہم ان کی تعداد کم ہے اور صحیح سوچ و فکر کے حامل حضرات بھاری اکثریت میں ہیں، دونوں اطراف کے لوگ اپنے اپنے ملک کے موقف اور مفاد کے حوالے سے صحیح الفکر ہیں تاہم لڑائی جھگڑے کی بجائے دلائل سے بات کرتے اور ماننے والی بات مان بھی لیتے ہیں، ہمیں ایسا کوئی بھارتی دانشور اور صحافی نہیں ملا جو کشمیر کے حوالے سے بھارتی موقف کے خلاف ہے لیکن ان حضرات کی اکثریت ہے جو ہماری بھی بات سن لیتے ہیں اور اس حد تک تو تسلیم کرتے ہیں کہ کشمیر میں بھارتی فوج مظالم کرتی ہے اور جبر سے کام بنتا نہیں بگڑتا ہے۔ ہمیں انبالے میں صحافی دوستوں سے تبادلہ خیال کا موقع ملا اور اسی طرح کروک شیتر یونیورسٹی کے پروفیسر حضرات سے بات ہوئی تو ان سب نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے یہی بات کہی کہ وہاں باقاعدہ انتخابات ہوتے اور جمہوری انداز سے حکومت بنتی ہے، وہاں کوئی مسئلہ نہیں، یہ تو پاکستان ہے جو مداخلت کرتا ہے، اس کا جواب ہمارے پاس تھا، ہم نے درخواست کی کہ پھر بھارت کو کیا اعتراض ہے کہ وہ کشمیریوں کی مرضی معلوم کرنے کے لئے رائے شماری نہیں کراتا جس کا وعدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کیا گیا۔ اس کا ان کے پاس دلیل کے ساتھ جواب نہیں تھا، انہوں نے پھر یہی اصرار کیا کہ پاکستان کی طرف سے مداخلت ہوتی ہے۔

بھارت کا آخری پھیرا چار سال قبل لاہور پریس کلب کے وفد کے ساتھ لگایا، یہ جوابی دورہ تھا کہ اس سے پہلے چندی گڑھ پریس کلب والے لاہور میں میڈیا کانفرنس میں شرکت کر گئے تھے، اس سال نوین۔ ایس۔ گریوال چندی گڑھ پریس کلب کے صدر تھے، سہ روزہ کانفرنس میں خوب کھل کر بات ہوئی اور مجموعی طور پر حاضرین اور مقررین کا تاثر تھا کہ میڈیا کے کارکنوں میں بہت کم حضرات انتہا پسند ہیں، بہت بھاری اکثریت دونوں ملکوں کے درمیان اچھے دوستانہ قسم کے تعلقات چاہتے ہیں اور تمام تنازعات کا حل بھی بات چیت میں مضمر جانتے ہیں۔وہاں یہی بات ہوئی کہ میڈیا کے اجارہ داروں اور سیاست دان حضرات کے اپنے اپنے مفادات ہیں اور کارکن ملازمت کے باعث استعمال ہوتے ہیں۔ یہ کانفرنسیں اور دورے بڑے مفید تھے لیکن درمیان میں بریک لگی جس کی بڑی وجہ حکومتوں کے درمیان تعلقات میں سرد مہری تھی اور مجموعی طور پر دیکھا جائے تو زیادتی بھارت سرکار ہی کی ہوئی کہ معاہدے کرکے ان پر عمل سے روک دیا جاتا ، جیسے ویزوں کے حوالے سے بہت کچھ طے ہوا، یہ بھی فیصلہ ہو گیا کہ 65سال کی عمر اور اس سے زیادہ والے سینئر شہری کی حیثیت سے بین الاقوامی سرحد پر ویزا کے حق دار ہوں گے۔وہ پولیس رپورٹ سے مستثنیٰ ہوں گے اور پانچ سے دس اضلاع کا ویزا حاصل کر سکیں گے، اس معاہدے کی تاریخ بھی متعین ہو گئی کہ بھارت ہی کی طرف سے اسے معطل کر دیا گیا اور تاحال اسے بحال نہیں کیا گیا۔

یہ بھی درست ہے کہ بی جے پی کی حکومت اور نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد بھارت میں مجموعی طور پر حالات میں فرق پڑا اور شیوسینا جیسی تنظیم کی دادا گیری شروع ہو گئی۔ یہ پہلے سے موجود تھی لیکن حکومت بن جانے کے بعد ان کو سرپرستی سی حاصل ہو گئی اور پھر حالات سب کے سامنے ہیں ۔ ان حالات میں پیرس، بنکاک ملاقاتوں کے بعد اگر سشما سوراج آئی ہیں تو اس سے بنیادی تنازعات پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی وہ موقف تبدیل کرکے آئی ہیں، لیکن میڈیا میں جس طرح اس کو ایشو بنایا گیا اس نے صورت حال ہی تبدیل کر دی اور یوں محسوس ہونے لگا کہ سشما سوراج کی آمد ہی سے تمام مسائل حل ہو جائیں گے اور پھر کوئی تنازعہ باقی نہیں رہے گا، حالانکہ سشما سوراج کی آمد کو منفی سے مثبت پہلو کی طرف پیش قدمی کے طور پر لیا جانا چاہیے اور انتظار کرنا چاہیے کہ پٹاری سے کیا نکلتا ہے، کیونکہ بھارت کا کوئی بھی سیاست دان رعایت نہیں دے سکتا، کانگرس کا رویہ بھی تو مختلف نہیں، صرف کارگل کے سوا جتنی بھی جنگیں ہوئیں وہ کانگرس کے دور حکومت میں ہوئیں۔

ہمیں دکھ تو یہ ہے کہ سشما کی آمد کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، اسے معمول سے ہٹ کر اہمیت دی گئی اور پھر ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے کمال کیا کہ دونوں اطراف سے ایسے صحافیوں کو آمنے سامنے لایا گیا جو اپنے اپنے ملک کے سخت گیر موقف کے زبردست حامی ہیں اور پھر ایسا محسوس ہوا کہ زمین پر تو نہیں، میڈیا میں باقاعدہ جنگ چھڑ گئی ہے۔ اب اگر اس سے یہ تاثر لیا جائے کہ دونوں اطراف کے انتہا پسند حضرات نے ایک تو سشما کی آمد کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی اور دوسرے میانہ روی کے بجائے انتہا پسندانہ موقف اختیار اور اس پر اصرار کیا، یہ کوئی خدمت نہیں، اول تو اس آمد کو اتنی زیادہ اہمیت دینا ہی درست نہیں کہ تحفظات تو اپنی جگہ موجود ہیں اور ٹاک شوز سے یہ ختم نہیں ہو جائیں گے؟ اس لئے بہتر رویہ تو حالات کو معمول پر رکھنے کا ہی تھا اور ہے اب بھی اس صورت حال میں اگر جامع مذاکرات پھر سے شروع ہو جائیں تو کامیابی تصور ہو گی اور اس وقت کہا جا سکے گا کہ بات چل نکلی ہے۔دیکھیں کہاں تک پہنچے۔ دوسروں کو الزام دینے سے پہلے ہر دو اطراف والوں کو اپنے اپنے رویئے پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ تنازعات پرانے ہیں، ان پر مذاکرات اور بات چیت بھی کٹھن راہ ہے کہ کوئی اپنے موقف سے ہٹنے کو تیار نہیں، اگر جامع مذاکرات شروع ہوں اور برصغیر میں حالات معمول پر آنا شروع ہو جائیں تو یہی غنیمت ہوگا۔ شاید مذاکرات کے درمیان جذبات پر عقل اور حالات حاوی ہو جائیں اور تنازعات کے حل کی کوئی راہ سوجھ جائے یا نکل آئے کہ دونوں ملک ایٹمی طاقت بھی ہیں۔

مزید : کالم