آصف علی زرداری کا اہلِ کراچی سے مذاق

آصف علی زرداری کا اہلِ کراچی سے مذاق
 آصف علی زرداری کا اہلِ کراچی سے مذاق

  

آصف علی زرداری کی اس بات پر مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی کہ آپریشن کے نام پرکراچی کے ساتھ مذاق بند کیا جائے، کیونکہ یہ ان کے نزدیک مذاق ہی ہے کہ کراچی میں امن قائم ہو گیا ہے، روزانہ درجنوں لاشیں نہیں گر رہیں اور کروڑوں روپے بھتوں اور ڈکیتیوں کے نام پر نہیں لوٹے جا رہے۔ رینجرز کراچی کے ساتھ ایسا مذاق کبھی نہ کرتی، اگر ان کی حکومت نے کراچی کو سنجیدگی کے ساتھ لیا ہوتا۔۔۔ اربوں روپے کی لوٹ مار، چائنا کٹنگ، زمینوں پر قبضے اور دیگر ذرائع سے کراچی میں لاقانونیت کو عام کرنے کی کہانیاں پورے ثبوتوں کے ساتھ سامنے آ چکی ہیں، ایسے میں جب آصف علی زرداری کراچی آپریشن کو مذاق کہتے ہیں تو اس کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے۔ ان کے نزدیک سنجیدگی تو صرف لوٹ مار اور قانون شکنی کے کاموں میں دکھائی جا سکتی ہے، ان کاموں کو روکنے کے لئے اگر کوئی سرگرمی دکھاتا ہے تو گویا وہ کراچی کے ساتھ مذاق کررہا ہوتا ہے۔

پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم دونوں میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ کراچی آپریشن کی کھل کر حمایت کر سکیں، دونوں اس حوالے سے اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کے چکر میں پڑی رہتی ہیں، مثلاً یہ کہناکہ آپریشن کی حمایت کرتے ہیں، مگر یہ صرف دہشت گردوں اور قانون شکنوں کے خلاف ہونا چاہیے۔ ایک طرح کی چکر بازی ہے۔ یہ آپریشن تو ہے ہی جراثیم پیشہ افراد کے خلاف ، اگر ایسا نہ ہوتا تو کراچی میں بھی نہہوتا۔ اس کا مطلب ہے رینجرز نے کراچی کی دکھتی رگ کو پکڑ لیا ہے۔ صحیح سمت میں آپریشن کررہی ہے، جس کی وجہ سے کراچی میں جرائم کی شرح بہت حد تک کم ہوگئی ہے۔ ایم کیو ایم نے آج تک کسی ایک گرفتار شدہ مجرم سے اظہار لاتعلقی نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ یہی پروپیگنڈہ کیا ہے کہ اس کے کارکنوں کو بے گناہ گرفتار کیا جا رہا ہے۔ نامی گرامی سزا یافتہ مجرم بھی نائن زیرو سے گرفتار ہوئے، مگر ان کے بارے میں بھی یہی کہا گیا کہ وہ معصوم ہیں۔ اسی طرح پیپلزپارٹی ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ وہ ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کو بھی جمہوریت کے خلاف سازش قرار دے رہی ہے، حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین نے جو انکشافات کئے ہیں اور جن سے اب وہ ایک منصوبے کے تحت مُکر گئے ہیں، وہ اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ ان پر صحیح ہاتھ ڈالا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ سندھ میں اگر سب کچھ آئین و قانون کے مطابق ہو رہا تھا تو مظفر ٹپی، شرجیل میمن، منظور قادر اور دیگر لوگ بیرون ملک کیوں فرار ہو گئے ہیں؟ خود آصف علی زرداری کس لئے دبئی میں بیٹھے سندھ حکومت کی ڈور ہلا رہے ہیں؟ وہ پاکستان آکر اپنی جماعت کی قیادت کیوں نہیں کرتے جو اب ٹائی ٹینک کی طرح ڈوب رہی ہے۔۔۔ایم کیو ایم دبے لفظوں میں رینجرز کی حمایت بھی کرتی ہے اور اونچے لفظوں میں اس پر تنقید بھی۔ یہ سیدھی سادی دو عملی ہے۔ بلدیاتی انتخابات نے ایم کیو ایم کو یہ بڑا اچھا موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنی ساکھ کو بحال کرے۔ اس وقت اس کے پاس ایک گولڈن چانس ہے کہ وہ خود کو مکمل طور پر ایک سیاسی جماعت میں ڈھال لے اور اُن تمام گروپوں سے عدم تعلق کا اعلان کرے جو اس کے نام پر دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں ملوث ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اتنی بڑی سیاسی حمایت حاصل ہونے کے باوجود ایم کیو ایم ایسے لوگوں کی حمایت کرتی ہے، جو مختلف جرائم میں ملوث ہیں۔ ایک سیاسی طاقت کے طور پر ایم کیو ایم خود کو زیادہ موثر طور پر کراچی کے معاملات میں اہم بنا سکتی ہے، چہ جائیکہ اس پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزامات لگتے رہیں یا پھر اس کے بار ے میں یہ تاثر اُبھرے کہ وہ جرائم پیشہ لوگوں کی حمایت کرتی ہے۔

اس وقت ایم کیو ایم کراچی میں میئر شپ کی واحد امیدوار ہے اور یہ عہدہ بلا شرکت غیرے حاصل کرے گی، گویا کراچی مکمل طور پر اس کے قبضے میں آ جائے گا ، اس کے بعد اسے اور کیا چاہئے؟ ایک طرف رینجرز اور پولیس کراچی میں امن قائم کر لیں اور دوسری طرف ایم کیو ایم کا میئر اگر کراچی کے مسائل کو حل کرنے پر مکمل توجہ دے تو کوئی بعید نہیں کراچی ایک پُر امن اور ترقی یافتہ شہر بن کرنہ اُبھرے۔ ہر بات کے منفی پہلو تلاش کرنے کی بجائے اس کے مثبت پہلوؤں پر نظر رکھنی چاہئے۔ اگر کراچی میں رینجرز کی کوششوں سے امن نہ ہوتا تو ایم کیو ایم کو بھی میئر شپ کے لئے ساز گار حالات میسر نہ آتے۔ اس کی بڑی کامیابی سے یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ کراچی آپریشن اسے ختم کرنے کے لئے شروع نہیں کیا گیا۔ اس کے سب سے زیادہ امیدوار بھی الیکشن میں کھڑے ہوئے اور انہیں کامیابی بھی ملی ۔گویا ایم کیو ایم کو سیاسی سرگرمیوں اور عوام سے رابطوں کی کھلی آزادی تھی۔ ایسے میں منفی پروپیگنڈے سے گریز کرنے اور اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ کراچی میں رینجرز کی مکمل گرفت ہے اور کوئی لاقانونیت برداشت نہیں کی جا رہی۔

جس بات کو آصف علی زرداری ایک مذاق کہہ رہے ہیں، اس پر وزیراعظم نوازشریف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف انتہائی سنجیدہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کراچی میں قانون کی عملداری کا قیام ملکی ترقی و سلامتی کے لئے کس قدر ضروری ہے۔ کراچی کے حالیہ دورے میں بھی ان دونوں شخصیات نے آپریشن کو پوری قوت سے جاری رکھنے کا عندیہ دیا، بعد ازاں اسلام آباد میں جو ون ٹو ون ملاقات ہوئی، اس میں بھی اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ کراچی میں قانون شکنوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ حیرت ہے کہ معاملہ سول و عسکری قیادت کی پوری انڈرسٹینڈنگ کے ساتھ چل رہا ہے، مگر تنقید صرف فوج یا رینجرز پر ہوتی ہے۔ آصف علی زرداری کے بیانات کا رخ بھی ڈھکے چھپے یا اعلانیہ انداز میں فوج کی طرف ہوتا ہے۔ وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ کراچی کا ایشو ایک ایسا نکتہ ہے، جس پر سبھی متفق ہیں۔ وہ سیاسی جماعتیں بھی، جو پارلیمینٹ میں فوج پر تنقید کرتی ہیں، کراچی آپریشن کے معاملے میں فوج اور رینجرز کے ساتھ نظر آتی ہیں۔

آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس اب سوائے کراچی کے اور کچھ بھی نہیں۔ وہ کراچی میں اسی طرح کا ماحول اور آزادی چاہتے ہیں، جیسا کہ انہیں ماضی میں ملتا رہا ہے۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کراچی میں امن قائم ہوا ہے یا لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ انہیں اس پہلو سے کبھی دلچسپی نہیں رہی کہ کراچی میں روزانہ کتنے لوگ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوتے تھے۔ جب آصف علی زرداری ملک کے صدر تھے تو کراچی میں روزانہ پندرہ بیس لوگ مارے جاتے تھے، مگر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی تھی۔ بے حسی کا یہ عالم تھا کہ بالآخر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو از خود نوٹس لینا پڑا تھا، جس کے بعد یہ سارا سلسلہ شروع ہوا اور حکومت بدلنے کے بعد موجودہ حکومت نے ایک بڑے آپریشن کا فیصلہ کیا۔

حیرت ہے کہ سامنے کی حقیقتوں کے باوجود پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کراچی آپریشن کے حوالے سے یو ٹرن کی خواہشمند ہیں، یہ بھلا کیونکر ممکن ہے۔ فوج کی حکمت عملی ایسے کسی یوٹرن کی اجازت ہی نہیں دیتی، یہی وجہ ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف بار بار کہہ چکے ہیں کہ کراچی آپریشن اہداف کے حصول تک ہر قیمت پر جاری رہے گا، دوسری طرف عوام بھی یہی چاہتے ہیں۔ بے شک متحدہ کو بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ملا ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عوام نے کراچی آپریشن پر عدم اعتماد کیا ہے۔ آج بھی کراچی کا ہر فرد یہی چاہتا ہے کہ کراچی آپریشن جاری رہے اور کراچی سے ہر قسم کی بد امنی کا خاتمہ کر کے اسے امن کا گہوارہ بنا دیا جائے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پہلی بار پوری سنجیدگی کے ساتھ کراچی سے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کیا جا رہا ہے ، جبکہ اس سے پہلے کراچی میں امن کے نام پر جو مذاق ہوتا رہا ہے، اُسے بالکل نہیں دہرایا جا رہا، مگر لگتا ہے کہ آصف علی زرداری کو اس کی خبر نہیں ہوئی اور وہ آج بھی کراچی آپریشن کو ایک مذاق سمجھ رہے ہیں، لگتا ہے وہ اہل کراچی سے مذاق کر رہے ہیں۔

مزید : کالم