شفیق آباد،خاتون کی بوری بند نعش کا معمہ حل، شوہراوررشتہ دارنے قتل کیا

شفیق آباد،خاتون کی بوری بند نعش کا معمہ حل، شوہراوررشتہ دارنے قتل کیا

لا ہور (خبر نگا ر )سی آئی اے پولیس نے چند ماہ قبل گورنمنٹ کالج برائے خواتین مین بازار قصور پورہ سے ملنے والی بوری بند نعش کے اندھے قتل کی واردات میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق چند ماہ قبل تھانہ شفیق آباد میں مسماۃ طاہرہ بی بی کے اندھے قتل کی واردات میں ملوث ملزموں کی عدم گرفتاری کے باعث سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس نے مذکورہ بالا مقدمہ کی تفتیش ایس ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک کے سپرد کی جنہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ تفتیش کا آغاز کیا اورمختلف ذرائع سے حاصل ہونیو الی معلومات کی روشنی میں دن رات کی محنت اورپیشہ وارانہ مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے جب مقتولہ کے بیٹے رفاقت علی کو شامل تفتیش کیا تو اس نے بتایا کہ اس کی والدہ طاہرہ بی بی نے اس کے والدلیاقت علی کی وفات کے بعد محمد زاہد سے دوسری شادی کر لی تھی جن کے درمیان اکثر جھگڑا رہتا تھا جس کی وجہ سے اکثر اس کی والدہ ناراض ہر کر اس کے پاس آ جایا کرتی تھی۔ وقوعہ والے دن مسمیان محمد زاہد اور سلیم ہمارے پاس آئے تھے اورمیری والدہ طاہرہ بی بی کو اپنے ساتھ لے گئے تھے جس پر ملزم محمد سلیم کو شامل تفتیش کر کے انٹروگیٹ کیا تو ملزم نے اس قتل کا اعتراف کر لیا اور اس نے بتایا کہ محمد زاہد اپنے رشتہ داروں کے ہاں دوسری شادی کرنا چاہتا تھا لیکن اس کی بیوی طاہرہ بی بی موقع پر پہنچ گئی جس کی وجہ سے اس کا نکاح وہاں نہ ہو سکا اور دونوں کے درمیان جھگڑا شدت اختیار کر گیا تھاجس کی وجہ سے اس کے رشتہ دار محمد زاہدنے مسماۃ طاہرہ بی بی کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا اور وقوعہ والے دن طاہر ہ بی بی کا خاوند محمد زاہد اور میں داتا دربار آئے اور مسماۃ طاہرہ بی بی کو صلح کے بعد ساتھ لے گئے، داتا دربار کے قریب ایک ہوٹل میں جا کر رات کو مسماۃ طاہرہ بی بی کا گلہ دبا کر قتل کیا اور نعش کو بوری میں بند کرکے رکشہ کے ذریعے تھانہ شفیق آباد کے علاقے گورنمنٹ کالج خواتین کے قریب پھینک کر فرار ہو گئے ۔ اس واردات میں ملوث ملزم محمد سلیم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دوسرے ملزم مقتولہ طاہرہ کے خاوند محمد زاہد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن حسن مشتاق سکھیرا نے اندھے قتل کی واردات میں ملوث ملزموں کا سراغ لگا نے پر پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے۔

مزید : علاقائی