قاسمی کانفرنس اور وزیراعلیٰ پنجاب

قاسمی کانفرنس اور وزیراعلیٰ پنجاب
قاسمی کانفرنس اور وزیراعلیٰ پنجاب

  

ان دنوں وطن عزیز میں کانفرنسوں کا کاروبار خوب عروج پر ہے۔ یونیورسٹیوں کے پی ایچ ڈی اساتذہ ایک کانفرنس سے نکلتے ہیں تو دوسری میں جا پہنچتے ہیں۔ حاصل کیا ہوتا ہے؟ ایک عدد ہوائی ٹکٹ، تین دن ہوٹل میں قیام، پُرتکلف طعام اور ایک عدد بیگ۔ بعد میں یہی بیگ پورا سال کانفرنس کا اشتہار بن کر شرکاء کے گلے میں لٹکا رہتا ہے۔ یہ کانفرنسیں نشتند، گفتند اور برخاستند کی بہترین مثال ہیں۔ ہماری یونیورسٹیاں طلبہ و طالبات سے بھاری فیسیں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے بڑی بڑی گرانٹیں حاصل کرکے سرمایہ داروں کی صف میں شامل ہو چکی ہیں۔ یونیورسٹی حکام کی سمجھ میں نہیں آتا کہ فاضل مالی وسائل کو کس طرح استعمال کیا جائے۔ خدا جانے انھیں کس نے مشورہ دیا ہے کہ کانفرنسیں کراؤ۔ خود بھی موج کرو، دوسروں کو بھی کراؤ اور نام بھی بناؤ۔ پہلے ادیبوں کی کانفرنس لے دے کر مشکل سے اسلام آباد میں اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ہوا کرتی تھی لیکن ادیبوں کا یہ ادارہ اب اتنا غریب ہو چکا ہے کہ اس کے پاس کانفرنسیں منعقد کرنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں۔ سب کچھ ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔ کراچی، اسلام آباد، لاہور، فیصل آباد، ملتان اور دوسرے شہروں میں ہونے والی کانفرنسوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کو کانفرنسوں کے انعقاد سے بے نیاز کر دیا ہے۔ اس وقت جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں، تب بھی کراچی میں ایک بڑی کانفرنس جاری ہے جس میں ملک بھر کے ادیب اور شاعر ’’ثوابِ دارین‘‘ حاصل کرنے کے لیے شرکت کررہے ہیں۔ ان کانفرنسوں کا ایک فائدہ بہرحال ہے کہ یہ مختلف صوبوں کے ادیبوں،شاعروں کی ملاقات کا بہانہ بن جاتی ہیں۔ مختلف ثقافتوں اور خیالات کے لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کراچی آرٹس کونسل کانفرنس بازی میں سب سے آگے نکل گئی ہے، اب لاہور کی الحمرا آرٹس کونسل بھی اس کے قریب قریب پہنچتی نظر آ رہی ہے ۔ الحمرا آرٹس کونسل کے چیئرمین عطاء الحق قاسمی نے اس ادارے کو ادب کا مرکز بنا دیا ہے اور یوں بنایا ہے کہ ادیبوں نے اسلام آباد کی کانفرنس کا انتظار کرنا چھوڑ دیا ہے۔ الحمرا میں ہونے والی کانفرنسوں پر قاسمی صاحب کی شخصیت کا اتنا گہرا اثر نظر آتا ہے کہ میں انھیں قاسمی کانفرنس کہنے پر مجبور ہو گیا ہوں۔

قاسمی صاحب کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ دوستوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ جہاں انھیں یاد رکھنا ضروری ہوتا ہے، یاد رکھتے ہیں۔ وہ پی ایچ ڈیز سے متاثر نہیں ہوتے، اچھا لکھنے والوں سے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر صنف کے لکھنے والے ان کے مہمان ہوتے ہیں۔ اس سال بھی الحمرا کی عالمی کانفرنس گیارہ دسمبر کو شروع ہو رہی ہے جو تیرہ دسمبر تک جاری رہے گی۔ کانفرنس کے اختتامی اجلاس کے مہمانِ خصوصی پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف ہوں گے۔ چائنا، ترکی، جرمنی اور برطانیہ کے بھاگم بھاگ دوروں کے باوجود میاں شہباز شریف ہر سال الحمرا کی کانفرنس میں شریک ہوتے ہیں اور ادیبوں سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ میاں شہباز شریف اپنی تقریروں میں کئی بار فرما چکے ہیں کہ معاشرے میں تبدیلی شاعری سے نہیں آنے والی لیکن اس کے باوجود وہ اپنی تقریروں میں نہایت عمدہ اشعار کی پیوند کاری کرتے ہیں، شاعروں سے میل جول رکھتے ہیں اور ان کی محفلوں میں بھی چلے آتے ہیں۔

الحمرا کی یہ قاسمی کانفرنس ثمرور ثابت ہو سکتی ہے اگر اس میں وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف بے گھر ادیبوں شاعروں کے لیے ایک ہاؤسنگ سکیم کا اعلان کر دیں۔ حنیف رامے نے اقبال ٹاؤن میں ادیبوں، شاعروں کو پلاٹ الاٹ کئے تھے۔ رامے صاحب سے پلاٹ لینے والے کئی ادیب اور شاعر صحافی کالونی میں بھی پلاٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن پچھلے پچیس تیس برسوں میں نئے شاعروں کی ایک بڑی کھیپ سامنے آئی ہے۔یہ شاعر اپنے خونِ جگر سے عصرِ حاضر کے مسائل کو اپنی شاعری کا موضوع بنا رہے ہیں۔ کرائے کے مکانوں میں رہ کر وطن کے ترانے لکھ رہے ہیں۔ بے گھری کا عذاب سہنے کے باوجود، وطن کی سلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں۔ آج بلاشبہ جناب عطاء الحق قاسمی ادیبوں شاعروں کے اول و آخر رہبر و راہنما اور سالار ہیں۔ قاسمی صاحب کی بات عام لوگوں کے دلوں میں بھی اترتی ہے اور حکمرانوں پر بھی اثر کرتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر اس بار ہمارے محبوب کالم نگار عطاء الحق قاسمی ہمارے خادم پنجاب سے بے گھر شاعروں ادیبوں کے لیے ایک چھوٹی سی ہاؤسنگ سکیم کا مطالبہ کر دیں۔ مجھے یقین ہے کہ خادم پنجاب ان کی بات پر ضرور غور کریں گے۔

اپنے قارئین کے لیے عرض کرتا چلوں کہ اس کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کے لیے دعوت نامہ ضروری ہے۔ باقی اجلاسوں میں شرکت کے لیے کسی دعوت نامے کی ضرورت نہیں۔ گویا قاسمی صاحب کی یہ کانفرنس صحیح معنوں میں عوامی ادبی کانفرنس ہے جس سے طلبہ و طالبات اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بجا طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کانفرنس کے موضوعات میں اتنا تنوع ہے کہ ہر آدمی کو اس میں اپنی پسند کا کوئی نہ کوئی سیشن ضرور مل جائے گا۔ ذرا موضوعات ملاحظہ کر لیجئے۔ ندیم صدی، لاہور آج اور کل، لوک ورثہ گم شدہ گلی میں، کلاسیکل رقص، اردو زبان کی جڑیں، خواتین فکشن رائٹر، کارٹون کی دنیا، کل اور آج کا تھیٹر، مصور ٹبی گلی میں، سرائیکی ادب، یادِ رفتگان، مہدی حسن کو خراجِ تحسین، علامہ اقبال کا علمی ورثہ، صحافت یا ادب، مصوری کی پاکستانی شناخت، سندھی ادب، ماں بولی داحق، کہانی کا شناور، ظفر اقبال کے ساتھ مکالمہ، مزاح نگاری کا سفر ، تقریبِ رونمائی، ٹی وی ڈرامے کی بازیافت، بلوچی اور پشتو ادب، ڈاکٹر سلیم اختر کے ساتھ، اردو افسانے کے سو سال ، ادبی کتابوں کا سودا، بیادِ نصرت فتح علی خان، اردو ہندوستان میں ، شاکر علی کی سالگرہ، اردو نظم کا پڑاؤ، فلمی موسیقی، ماضی کے دریچوں سے ’’تراجم‘‘ فیض کے نام، ریڈیو پاکستان لاہور کی کہانی، پاک وہند مشاعرہ اور محفلِ موسیقی۔

مزید : کالم