ملکی ترقی میں رفاہی ادارے کیوں ضروری ہوتے ہیں؟

ملکی ترقی میں رفاہی ادارے کیوں ضروری ہوتے ہیں؟
ملکی ترقی میں رفاہی ادارے کیوں ضروری ہوتے ہیں؟

  

ایک اطمینان بخش اور خوش و خرم زندگی گزارنے کا اہم حصہ یہ ہے کہ ہم اپنے ارد گرد لوگوں کی کمیونٹی کا حصہ بنیں، جہاں پر آپ لوگوں کے کام آئیں اور اُن کی مدد اور دیکھ بھال کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اجنبیوں سے مہربانی سے پیش آئیں اور حسد اور غصے کی جگہ افہام و تفہیم اور ہمدردی کو اپنائیں۔ دوسروں کی مدد کرنے کی بجائے زندگی کی مصروفیات میں کھوئے رہنا بہت آسان ہوتا ہے، جہاں یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو اہمیت دیں، یہ بھی اہم ہے کہ کبھی کبھار دوسروں کی مدد کرنے کے لئے بھی وقت نکالیں۔ اس میں نہ صرف دوسروں کو فائدہ ہوتا ہے، بلکہ ہماری اس انسان دوستی اور ہمدردی کا ہمیں زیادہ فائدہ ہوتاہے۔قیام پاکستان سے قبل برصغیر میں غیرمسلموں کا رفاہی کاموں میں بہت حصہ ہے، خاص طور پر لوگوں کے لئے ہسپتال بنانے میں بہت سے لوگوں نے اپنے نام تاریخ میں رقم کرلئے ہیں۔ صرف لاہور میں ہی گلاب دیوی، جانکی دیوی، سر گنگا رام عوام کی فلاح کے لئے ہسپتال بنانے کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، جبکہ پورے برصغیر میں سینکڑوں انسان دوست غیر مسلموں نے عوام کے لئے اس قسم کی خدمات انجام دی ہیں، لیکن مسلمانوں نے اس قسم کا کوئی قابل ذکر کارنامہ سرانجام نہیں دیا ۔

پاکستان بننے کے بعد مسلمانوں نے معاشی ترقی کی تو یہاں پر بھی انفرادی طور پر بہت سے لوگوں نے معاشرے کی بھلائی کے لئے کام کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انفرادی حیثیت کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے ادارے بھی وجود میں آگئے، جنہوں نے معاشرے کے تنگدست طبقوں کے مسائل کے حل کے لئے بہت سا کام کیا اور بھلائی کے یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس وقت انسانی بھلائی کے سینکڑوں ادارے مختلف میدانوں میں کام کررہے ہیں،جن میں تعلیم میں دی سیٹیزن فاؤنڈیشن، ڈویلپمنٹ اِن لٹریسی، ہوپ، رورل ایجوکیشن اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن، ذرا سوچئے، ایس او ایس چلڈرنز ولیج آف پاکستان اور دیگر بہت سے ادارے عشروں سے کام کرہے ہیں، جبکہ ایک معتبر ادارے اخوت نے بھی اس میدان میں کام شروع کردیا ہے۔ اسی طرح وومن ڈویلپمنٹ، سوشل مسائل، بہبود آبادی، ماحولیات، آفات میں امداد و تعاون کرنے والے بہت سے ادارے معاشرے کو سنوارنے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان میں ایدھی فاؤنڈیشن بین الاقوامی طور پر مشہور ادارہ ہے۔

ایک چھوٹی اکانومی ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاں صحت کے شعبہ کی حالت بھی اتنی بہتر نہیں ہے۔ کچھ عشروں پہلے اس شعبے میں قیام پاکستان سے قبل بننے والے ہسپتال اور ادارے ہی اپنا کام کررہے تھے، لیکن پھر کچھ لوگوں نے اس شعبے میں بھی انسانی بھلائی کے لئے کام شروع کیا۔ صحت کے شعبے میں الشفاء آئی ٹرسٹ، احساس، فاطمید فاؤنڈیشن، فوجی فاؤنڈیشن، دی کڈنی سینٹر، ایل آر بی ٹی، ریڈ کریسنٹ سوسائٹی، صحارا فار لائف ٹرسٹ، شوکت خانم میموریل ٹرسٹ، ایس آئی یو ٹی پاکستان گراں قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ صحت کے ان اداروں کی کارکردگی پر ایک نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ الشفاء آئی ٹرسٹ نے لاکھوں مریضوں کی آنکھوں کی بیماریوں کے علاج میں تعاون کیا ہے۔ فاطمید فاؤنڈیشن کی خون کی بیماریوں جیسا کہ تھیلیسیمیا اور ہیموفیلیاجیسی بیماریوں کے لئے صحتمند اور سکرین شدہ خون کی فراہمی اور علاج کے لئے خدمات قابل قدر ہیں۔ فوجی فاؤنڈیشن، صحارا فار لائف ٹرسٹ، احساس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹی لاکھوں لوگوں کو مدد فراہم کرچکے ہیں۔ سو بیڈز پر مشتمل دی کڈنی سینٹر میں 1985ء سے ہزاروں غریب لوگوں کے گردوں کی بیماریوں کا علاج کیا جاچکا ہے، جبکہ ریسرچ اور تعلیم کا عمل بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔ ایس آئی یو ٹی کسی تعارف کا محتاج ادارہ نہیں ہے، اب تک 40لاکھ سے زائد لوگ اس ادارے سے اپنا علاج کرواچکے ہیں۔

اسی طرح شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کے زیر انتظام چلنے والا شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹراپنی مثال آپ ہے۔ معیار کے لحاظ سے یہ ہسپتال یورپ کے کسی ہسپتال سے کم نہیں ہے۔ کینسر جیسے موذی،خطرناک اور مہنگے ترین علاج کی عالمی معیار کی بلاتفریق فراہمی کو اس ہسپتال نے عوام کی مدد سے ممکن بنایا ہے۔ بیشتر مریضوں کا علاج مفت کیا جاتا ہے، جس پر یہ ہسپتال پچھلے دو عشروں میں اربوں روپے خرچ کرچکا ہے، جس میں ہسپتال کی اپنے سسٹم سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ بھی شامل ہے۔ دُنیا بھر کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں کینسر کا یہ واحد ہسپتال ہے، جوغریبوں کے علاج پر اتنی بڑی رقم خرچ کرتا ہے۔ ہسپتال کی طرف سے اسی سال پشاور میں پاکستان کے دوسرے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کے کھلنے کا اعلان کیا جاچکا ہے، جس سے خیبرپختونخوا اور ملحقہ علاقے کے لوگوں کو کینسر کے علاج کی جدید ترین سہولتیں میسر آجائیں گی۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال کی ایک اور قابلِ ستائش بات یہ ہے کہ یہاں پر کینسر کے حوالے سے تحقیق بھی کی جارہی ہے، جس سے کینسر کی علامات، وجوہات، مسائل وغیرہ کے حل مقامی طور پر معلوم کئے جاسکیں گے۔ اس کے علاوہ عوام کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال میں میڈیکل کے مختلف شعبوں،جیسا کہ نرسنگ اور دیگر طبی تکنیکی تعلیم بھی دی جاتی ہے، جس سے خیبرپختونخوا کے لوگوں کو بہت فائدہ ہوگا۔ مذکورہ بالا مثالوں سے یہ بات واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ نیکی کا ایک کام کرنے سے صرف براہِ راست فائدہ لینے والے لوگوں کے علاوہ دوسرے بہت سے لوگوں کے لئے کام کی راہیں کھلتی ہیں۔

مسلم ہوں یا غیر مسلم ، انسان کے لئے درد رکھنے والی شخصیات میں بہت سی باتیں مشترک ہوتی ہیں۔ بنیادی طور پر یہ لوگ ایماندار اور دیانتدار ہوتے ہیں اور یہ اپنے رتبے یا دولت کی پرواکئے بغیر سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ یہ لوگ ہماری سماجی اقدار کی ساخت کے ستون ہیں۔ اللہ کے یہ بندے انسانیت کی خدمت اور محروم افراد کے لئے وسائل پیدا کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ جرمن فلاسفر فریڈرک نیشے کا قول ہے کہ جس کا زندگی میں کوئی مقصد ہے، وہ ہر تکلیف برداشت کرلیتا ہے۔ معاشرے میں موجود یہ شخصیات اور ادارے ہماری زندگی کے لئے مشعل راہ ہوتے ہیں، کیونکہ ان لوگوں کو اپنے مشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے تکالیف کا سامنا کیا ہوتا ہے، اسی لئے معاشرہ ان لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھتا ہے۔اس ضمن میں وہ لوگ اور ادارے بھی عظیم اور قابل ستائش ہیں جو ایسے رفاہی اداروں کی مدد کررہے ہیں، کیونکہ کوئی اکیلا آدمی نہ ایسے ادارے بناسکتا ہے اور نہ ہی چلاسکتا ہے۔ ہمیں خوشی اور سکون کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق انسانیت کی بھلائی کے لئے کوششیں ضرور کرتے رہنا چاہئے اور ممکنہ حد تک ایسے اداروں کا بھلائی کی کسی بھی صورت میں تعاون کرنا ہمارے لئے ہی فائدہ مند ہوتا ہے، کیونکہ یہ دولت اور جائیداد انسان اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتا اور یہ بھی کہ آپ کے جانے کے بعد لوگ آپ کو اچھے نام سے یاد رکھیں۔

مزید : کالم