اورنج لائن میٹرو ٹرین :سوچ اور رویوں میں تبدیلی کی سفیر

اورنج لائن میٹرو ٹرین :سوچ اور رویوں میں تبدیلی کی سفیر
اورنج لائن میٹرو ٹرین :سوچ اور رویوں میں تبدیلی کی سفیر

  

دنیا جانتی ہے کہ اگر ہر شخص پورے معاشرے کو بدلنے کی خواہش میں مبتلا ہونے کی بجائے صرف خود کو بدل لے تو معاشرہ خود بخود بدل جائے گا اور اگر معاشرے میں مثبت تبدیلی آجائے تو ادارے خودبخود بہتری کی طرف رواں دواں ہوجاتے ہیں اور ملکی ترقی کے منصوبے تیزے سے تکمیل کی منزلیں طے کرنے لگتے ہیں۔ پنجاب کا صوبائی دارالحکومت لاہور صوبے کا سب سے بڑا شہر ہے اور اسے مختلف حوالوں سے اتنے ہی زیادہ مسائل کا سامنا رہتا ہے اور ان مسائل کے حل کیلئے قوم کسی ایسے رہنما کی متلاشی رہتی ہے جو نہ صرف بھرپور ویژن کا مالک ہو بلکہ ترقی کرنے اور کروانے کا فن بھی جانتا ہو۔ قائداعظم کے دور کے بعد سے کئی حکومتیں آئیں بھی اور گئیں بھی اور کئی بڑے رہنما بھی آئے جنہوں نے بہت بلند بانگ دعوے بھی کئے مگر سب ڈھونگ ثابت ہوئے اور ملک کرپشن ، دہشت گردی اور جرائم میں گھرتا چلاگیا۔ ایسے میں ایک عرصہ کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت برسراقتدار آئی جس نے اداروں کو مستحکم کرنے، معیشت کو مضبوط کرنے اور لوگوں کے مسائل حل کرنے، ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردوں پر گہری ضرب کا بیڑہ اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف کئی منصوبوں کی بنیاد رکھی بلکہ انہیں ریکارڈ مدت میں تکمیل تک بھی پہنچایا۔

کہتے ہیں کہ مسائل کے حل کیلئے کوششیں کرنے والوں کو بھی مسائل کا شکار ہونا پڑتا ہے اور انہیں بے جا تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑتا ہے مگر کامیاب وہی رہتے ہیں جو بے جا تنقید کی پرواہ کئے بغیر سرجھکائے اپنے ویژن کے مطابق کام میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسی ہی شخصیت وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہباز شریف ہیں جنہیں شروع دن سے ہی اپنے سیاسی مخالفین کی بے جا تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور پڑ رہا ہے۔ انہوں نے عوام کو سفری مشکلات سے نجات دلانے اور انہیں معیاری اور پروقار اور سستی سفری سہولت کے طور پر میٹرو بس منصوبے کا آغاز کیا اور اسے ریکارڈ مدت میں مکمل کرکے ملکی و غیرملکی کمپنیوں اور اداروں کو حیرانی کے سمندر میں غوطہ زن کر دیا۔ ان کے اس منصوبے پر اپوزیشن نے ان پر بہت تنقید کی مگر میٹرو بس منصوبہ مکمل ہونے پر ناقدین کے منہ آہستہ آہستہ بند ہوتے چلے گئے اور اب کبھی کبھار اپوزیشن کی طرف سے ہلکی پھلکی تنقید کا کوئی فقرہ سننے کو ملتا ہے جبکہ میٹرو بس میں پروقار اور باعزت طریقے سے سفر کرنے والے روزانہ اڑھائی لاکھ مسافر نہ صرف سکھ کا سانس لے رہے ہیں بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو دعائیں دے رہے ہیں جنہوں نے ملکی تاریخ میں پہلی بار اپنی کلاس کی بجائے غریبوں کیلئے سوچا اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔

اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کا آغاز کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو آج بھی اسی قسم کی تنقید کا سامنا ہے جس کا انہیں میٹرو بس منصوبے کے آغاز کے وقت سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے ایک کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کے باسیوں کی فلاح و بہبود اور ان کی مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے 165ارب روپے کی لاگت کے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کا آغاز کر دیا ہے جس پر اپوزیشن جماعتیں اور ان کے اکسانے پر بعض غیرسرکاری تنظیموں نے محاذآرائی شروع کر رکھی ہے۔ اپوزیشن کا تو کام ہی تنقید کرنا ہوتا ہے اور اسے حکومت کا ہر راست اقدام غلط ہی نظر آتا ہے مگر بعض غیرسرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کی طرف سے بھی اعتراض اور احتجاج بھی دیکھنے سننے میں آیا ہے جس کا سدباب کرنا حکومت کا فرض اور ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں حکومت نے سول سوسائٹی اور غیرسرکاری تنظیموں کے اعتراضات کے جواب میں ان سے نزدیکی رابطہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو نہایت خوش آئند ہے۔لاہور شہر کی تاریخی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں اور دنیا بھر سے سیاح اور تاریخ کے طالب علم لاہور میں موجود تاریخی عمارتوں کو دیکھنے آتے ہیں۔ شالامار باغ اور بادشاہی مسجد سمیت دیگر عمارتوں کو بین الاقوامی سطح پر تاریخی ثقافتی ورثہ کی حیثیت حاصل ہے۔ سول سوسائٹی اور دیگر تنظیموں کا سب سے بڑا اعتراض بھی یہی تھا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین کے ٹریک کی تعمیر کے باعث ان تاریخی اہمیت کی حامل عمارتوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ سول سوسائٹی کی طرف سے اس ضمن میں ریلیاں اور احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے جس پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ ان تنظیموں اور سول سوسائٹی کے کرتادھرتاؤں کو اس منصوبے کی اصل تصویر دکھائی جائے تاکہ انہیں اس منصوبے کا درست معنوں میں ادراک ہوسکے۔

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ احمد حسان کسی تعارف کے محتاج نہیں اور حکومتی اور اپوزیشن حلقوں میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کے حوالے سے انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ سول سوسائٹی اور لاہور کنزرویشن سوسائٹی سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو بریفنگ دیں اور انہیں اعتماد میں لیں۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو 90شاہراہ قائداعظم پر آنے کی دعوت دی۔ اس اجلاس میں رکن قومی اسمبلی پرویز ملک، ترجمان حکومت پنجاب زعیم حسین قادری، سیکرٹری اطلاعات، سیکرٹری آرکیالوجی ہمایوں مظہرشیخ، کمشنر لاہور ڈویژن عبداللہ سنبل، ڈی سی او لاہور عثمان یونس، ایم ڈی نیسپاک امجد اے خان، اعتزاز احسن، نیئر علی دادا، چیف انجینئر ایل ڈی اے اسرار سعید کے علاوہ آرکیٹیکٹ، سول سوسائٹی، لاہور کنزرویشن سوسائٹی شریک ہوئے۔ حاضرین اجلاس کو منصوبے کی تفصیلات بتائی گئیں۔ اس عظیم منصوبے کے تکمیل پر روزانہ تقریباً اڑھائی لاکھ سے زائد شہریوں کو آمدورفت کی مشکلات سے نجات ملے گی اور وہ سفر کی معیاری ، جدید اور باوقارسہولیات سے مستفید ہوں گے۔ سول سوسائٹی کو یقین دہانی کروائی گئی کہ مکمل ہوم ورک کے بعد اس منصوبے پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور اس سلسلہ میں دن رات ایک کرکے اس کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور اس میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی انتھک کوششیں شامل ہیں اور اس منصوبے میں پڑوسی ملک چین بھرپور مدد کر رہا ہے۔ اجلاس میں یقین دلایا گیا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین کے راستے کے اطراف میں واقع تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لئے ماہرین آثار قدیمہ کی رہنمائی اور مدد سے تمام قانونی تقاضے پورے کئے جا رہے ہیں اور اس ضمن میں بہترین تکنیکی مہارت استعمال کی جائے گی۔

سول سوسائٹی کے ارکان اور تعمیراتی ماہرین کو اس منصوبے کی اہمیت اور اس کی تکمیل سے لوگوں کو پہنچنے والے فائدے بارے تفصیلات فراہم کی گئیں اور ان سے بھرپور تعاون کی درخواست کی گئی اور انہیں باور کروایا گیا کہ حکومت اس سلسلہ میں ان کی تجاویز اور مشاورت کی روشنی میں کام کرے گی۔سول سوسائٹی پر واضح کیاگیا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ چین کی طرف سے پاکستان میں سوفیصد لاگت سے مکمل کیا جانے والا پہلا منصوبہ ہے اور چین کے وزیراعظم اس بارے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ پاکستان کیلئے تحفہ ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہباز شریف کی کوششوں کا اعتراف ہے۔لاہور کے شہریوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر باقاعدہ تحقیق کے بعد یہ منصوبہ وضع کیاگیا ہے اور لاہور میں ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے مسائل کے حل کیلئے ناگزیر ہے۔ اس منصوبے کی ڈیزائننگ کے وقت اس بات کا خاص طور پر خیال رکھاگیا ہے کہ اس کیلئے کم سے کم اراضی ایکوائر کرنا پڑے تاکہ اس سے کم سے کم لوگ متاثر ہوں۔ لکشمی بلڈنگ، جی پی او، سپریم کورٹ رجسٹری، شاہ چراغ اور موج دریادربار اور مسجد کے ساتھ سینٹ اینڈریوز چرچ کی تاریخی عمارتوں کو محفوظ رکھنے کیلئے اس علاقے سے ٹرین کو زیرزمین گزارا جائے گا جس سے اس ٹریک کی تعمیراتی لاگت میں 4گنا اضافہ ہوا ہے۔ ٹریک بناتے وقت اس بات کا بھی خاص طور پر خیال رکھا گیا ہے کہ ٹرین کے ٹریک کی چوڑائی زیادہ نہ ہو اور یہ زمین سے 12میٹر یا 40فٹ بلند ہوگا اور ٹرین کی رفتار 80کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم ہوگی جس کے باعث کسی بھی تاریخی عمارت کو نقصان نہیں پہنچے گا۔

اتنی تفصیلی بریفنگ کے بعد امید ہے کہ سول سوسائٹی، لاہور کنزرویشن سوسائٹی کے اس منصوبے کے حوالے سے شکوک و شبہات میں ضرور کمی واقع ہوئی ہوگی اور وہ اس بارے میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ راقم کے خیال میں ہر 15روز بعد ایسے اجلاس ہوتے رہنے چاہئیں تاکہ سول سوسائٹی، لاہور کنزرویشن سوسائٹی اور دیگر غیرسرکاری تنظیموں کے اذہان میں پیدا ہونے والے تحفظات دور ہوتے رہیں اور ان کے اعتراضات کا تسلی بخش جواب دیا جاسکے۔ باقی رہی بات اس ٹریک کی تعمیر سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تو ان کی سہولت اور ا ن کی اس ٹریک کی راہ میں آنے والی اراضی کی قیمت کے تخمینہ بارے ان کے متعلقہ علاقوں کے پٹواریوں ، قانون گو اور دیگر متعلقہ ملازمین کی ڈیوٹیاں لگائی جا رہی ہیں و تمام وقت متعین کردہ جگہوں پر موجود رہیں گے اور اپنی زمین کا کلیم کرنے والوں کے ریکارڈ کی فوری جانچ کرکے متاثر ہونے والی جگہ کی پیمائش کرکے ان کیلئے معاوضہ کی رقم کا فوری حصول ممکن بنائیں گے۔۔۔ سنتے آئے ہیں کہ خوش قسمتی دروازے پر بار بار دستک نہیں دیتی۔ عوامی فلاح کے اس منصوبہ کی تکمیل سے جہاں لوگوں کو بہترین ،نفیس اوربین الاقوامی معیار کی عمدہ سفری سہولیات میسر آئیں گی وہاں ان کے رویوں اور سوچ میں بھی نمایاں مثبت تبدیلی آئے گی اور یہی معاشرتی تبدیلی ترقی کے سفر کی طرف ہماری رہنمائی کرے گی۔

مزید : کالم