وزیراعلیٰ پنجاب کا کامیاب دورۂبرطانیہ (1)

وزیراعلیٰ پنجاب کا کامیاب دورۂبرطانیہ (1)
وزیراعلیٰ پنجاب کا کامیاب دورۂبرطانیہ (1)

  

پاکستان اپنے تمام دوست ممالک کے ساتھ ہمیشہ سے مثبت اور مستحکم تعلقات استوار کرنے کے لئے کوشاں رہا ہے۔ مسلم ممالک میں بھی وطن عزیز کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی گہرے تعلقات قائم کرنے کا خواہاں رہا ہے۔ مغربی ممالک بھی خطے میں پاکستان کی اہمیت کے پیش نظر اس سے اچھے تعلقات قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار پیش پیش رہا ہے جسے اقوام متحدہ میں بھی تسلیم کیاگیاہے۔ پاکستان دنیا بھر میں تمام شعبہ جات میں اپنا لوہا منواتے ہوئے اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔ پاکستانی تاجر، سرمایہ کار ، صنعت کار، دانشور اور دوسرے ممتاز افراد نہ صرف دنیا کے مختلف ممالک کی معیشت اور معاشرت میں ترقی کا باعث بن رہے ہیں، بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کر رہے ہیں۔ پاکستانی سفارت کار مختلف ممالک کے کامیاب دوروں کے ذریعے وطن عزیز کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو بھی متوجہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا حالیہ پانچ روزہ دورہ برطانیہ اس ضمن میں انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔ دورہ برطانیہ کا مقصد پاکستان کے لئے مختلف شعبوں میں زیادہ سے زیادہ تعاون حاصل کرنا تھا۔ تعلیم، صحت اور سکل ڈویلپمنٹ میں برطانیہ پہلے بھی پاکستان خصوصاً پنجاب حکومت کے ساتھ تعاون کر رہا ہے، جس سے مطلوبہ مثبت نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔حکومت برطانیہ دہشت گردی اور جرائم کی روک تھام کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں پاکستان کو اپنے تجربات سے بھرپور مدد فراہم کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ کا دورہ برطانیہ انرجی سیکٹر میں تعاون کو مزید بڑھانے کے لئے بھی وقت کی اشد ضرورت تھی۔

وزیراعلیٰ پنجاب برطانیہ کے دورے پر لندن پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیاگیا۔ اس موقع پر برطانوی حکومت کے اعلیٰ حکام اور مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔وزیراعلیٰ نے لندن آمد کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی افرادی قوت کی سکل ڈویلپمنٹ کے شعبے میں بہت زیادہ طلب ہے۔ تاہم جدید تربیت میں کمی کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جاسکتے۔ برطانیہ کے دورے کے دوران سکل ڈویلپمنٹ میں مطلوبہ نتائج حاصل ہوں گے اور نہ صرف پاکستان کی افرادی قوت پیشہ وارانہ مہارت حاصل کرے گی، بلکہ اس سے ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔ دورہ برطانیہ کا ایک ایک لمحہ پنجاب اور پاکستان کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے راستے ہموار کرنے میں غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔دورہ برطانیہ میں نالج پارک کے منصوبے میں بھی برطانوی اداروں کا تعاون حاصل ہوگا۔

پاکستان کے لئے نامزد برطانیہ کے ہائی کمشنر تھامس ڈریوسے ملاقات میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ برطانیہ تعلیم ،صحت اور سیکیورٹی کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ قابل قدر تعاون کر رہا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ برطانیہ کے نئے ہائی کمشنر کی تعیناتی کے بعد اس تعاون میں مزید اضافہ ہو گا ۔نامزد برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریونے کہا کہ برطانوی انتظامیہ اور سیاست دان آپ کے کام اور نام سے اچھی طرح واقف ہے اور آپ کی شہرت ایک ایسے لیڈر کی ہے جو کام اور صرف کام پر یقین رکھتا ہے ۔ لندن میں ورلڈ کانگرس آف اوورسیز پاکستانیز سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان حالیہ دنوں میں بہت مشکل وقتوں سے گزر ا ہے، لیکن اب اللہ کے فضل سے ایک روشن مستقبل ہمارا منتظر ہے ۔ بیرون مُلک مقیم ہر پاکستانی پاکستان کاسفیر ہے ۔برطانیہ میں مقیم پاکستانی صنعت کار اور تاجر پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔چین نے پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کا اعلان کر کے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھول دیئے ہیں ۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے خواب کی تعبیر کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ۔ پاکستان کو ایک محفوظ ملک بنانے کے لئے پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کے افسروں اور جوانوں اور شہریوں نے تاریخی قربانیاں دی ہیں ۔ ہمارا پختہ عزم ہے کہ ہم انشا اللہ دہشت گردی کے عفریت پر جلد قابو پا لیں گے ۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے لندن میں میٹرپولیٹن پولیس کمشنر سر برنارڈ ہوگان ہووی سے ملاقات میں دہشت گردی‘سنگین جرائم اور سٹی پولیسنگ کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت پنجاب جرائم اور دہشت گردی کے سدباب کے لئے ترقی یافتہ ممالک کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ پنجاب میں دہشت گردی سے نپٹنے کے لئے خصوصی فورس کے قیام کے علاوہ نئی قانون سازی بھی کی گئی ہے ۔ ملاقات کے دوران میٹروپولیٹن پولیس کمشنر سربرنارڈ ہوگان ہووی نے بتایا کہ دہشت گردی اور جرائم کی بیخ کنی کے لئے پنجاب حکومت سے ہر طرح کا تعاون کریں گے اور ہم چاہتے ہیں کہ پنجاب حکومت اس مساعی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لئے ہمارے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔ لندن کے ٹرانسپورٹ سسٹم کی انتظامیہ کے ساتھ منعقد کئے گئے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ پاکستان کے عام آدمی کو بین الاقوامی معیار کی ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کا عزم کر چکے ہیں۔پنجاب میں میٹروبس اور اورنج ٹرین کے ذریعے اس ہدف کے حصول کے لئے کام کا آغاز کر دیا ہے، جس سے لاکھوں افرادٹرانسپورٹ کے ان جدید‘ تیزرفتار اور محفوظ منصوبوں سے استفادہ کر رہے ہیں۔ اجلاس میں وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، چیئرمین پی اینڈ ڈی جہانزیب خان اور چیئرمین پنجاب بورڈ آف انوسٹمنٹ عبدالباسط بھی شریک تھے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ لندن اپنی ٹرانسپورٹ کے باعث دُنیا بھر میں اپنی الگ پہچان رکھتا ہے اور ہم لندن کی ٹرانسپورٹ انتظامیہ کے تجربات اور مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

لندن میں برطانیہ کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر سر مارک لائل گرانٹ سے ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ دہشت گردی اقوام عالم کا مشترکہ مسئلہ ہے، جس سے ہم سب نے مل کر عہدہ برآہ ہونا ہے۔ پاکستان ایک عرصے سے دہشت گردی کا شکار چلا آ رہا ہے، چنانچہ ہمیں فرانس سمیت تمام دُنیا میں دہشت گردی کے نتیجے میں ضائع ہونے والی انسانی جانوں کا رنج اور احساس ہے۔ ضربِ عضب کے تحت دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا پرامن اور مذاکرات کے ذریعے حل چاہتا ہے اور بجاطور پر یہ توقع رکھتا ہے کہ برطانیہ افغانستان میں امن اور خطے کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے گا۔ برطانیہ کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر سر مارک لائل گرانٹ نے اس موقع پر کہا کہ برطانوی حکومت پنجاب میں دہشت گردی کے خاتمے کے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس ضمن میں پنجاب حکومت کو برطانیہ کا مکمل تعاون حاصل رہے گا۔(جاری ہے)

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اوربرطانیہ کے سیکرٹری خارجہ فلپ ہیمنڈ (Philip Hammond Mr.) کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورت حال کے علاوہ سیکیورٹی امور ، تعلیم ، صحت ،انرجی سمیت کئی معاملات پر تبادلہ خیالات کیا۔ محمد شہباز شریف نے ملاقات کے دوران کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی حکومت کے دوران پاک برطانیہ تعلقات میں خاطرخواہ وسعت اور گہرائی آئی ہے۔ دونوں ملکوں میں زندگی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھا ہے اور تجارت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم کو بلین ڈالرسالانہ تک لے جانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ہم نے افغانستان کو یقین دلایا ہے کہ افغانستان کا کوئی بھی دشمن پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں گرانقدر تعاون پر ہم حکومت برطانیہ کے شکرگزار ہیں۔ فلپ ہیمنڈنے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے پاکستان کی قربانیوں اور کوششوں کی تعریف کی اور پنجاب میں مختلف شعبوں میں عوامی فلاح و بہبود کے پروگراموں اور منصوبوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی میدان میں پنجاب درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ بعدازاں وزیراعلیٰ کی موجودگی میں ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی(ٹیوٹا) اور برطانیہ کے دو اداروں کے درمیان مختلف معاہدوں پردستخط کئے گئے۔ پنجاب کی طرف سے چیئرپرسن ٹیوٹا عرفان قیصر شیخ نے دستخط کئے۔

وزیراعلیٰ نے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈیفڈ) کے زیراہتمام اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت پنجاب جامع اصلاحات کے ذریعے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں غریب اور امیر کو حاصل سہولتوں کا فرق ختم کرنا چاہتی ہے۔ پنجاب میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کی مانیٹرنگ اور عملے کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے سمارٹ فون کے ذریعے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومت پنجاب کے انڈومنٹ فنڈ کی بدولت وسائل نہ رکھنے والے ایک لاکھ سے زائد شہری اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر‘ انجینئر اور پیشہ ور ماہربن کر مُلک کی خدمت کر رہے ہیں۔ پنجاب حکومت کی واؤچر سکیم کے ذریعے 18لاکھ طلبہ کو پرائیویٹ سکولوں میں معیاری تعلیم کی سہولت حاصل ہے۔ ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈیفڈ) کے نمائندہ برائے پنجاب سربراہ سرمائیکل باربر نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں حکومت پنجاب کا اصلاحاتی پروگرام محمد شہبازشریف کے ویژن، محنت اور براہ راست نگرانی کا مرہون منت ہے۔ وزیراعلیٰ کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے پنجاب اور ڈیفڈ کا تعاون مثالی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے لندن میں بین الاقوامی شہرت کے حامل تھنک ٹینک رائل انسٹیٹیوٹ آف نیشنل افیئرز کے زیراہتمام چیتم ہاؤس (Chatem House) سے خطاب کیا ۔تقریب میں میزبانی کے فرائض بی بی سی کے معروف اینکر اور مصنف اوون بینٹ جونز نے ادا کئے۔ سامعین میں دانشوروں، سیاست دانوں، پروفیسروں اور ماہرین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں موجودہ عالمی صورت حال، دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کے کردار اور انسانی حقوق سمیت مختلف موضوعات پر سیرحاصل گفتگو کی۔ واضح رہے کہ برطانیہ کے چیتم ہاؤس میں اس طرح کی فکری نشستوں کی روایت 100سال سے بھی زیادہ قدیم ہے اور یہاں صرف دنیا کے ممتاز سیاست دانوں یا مختلف شعبوں میں عالمی سطح مقام حاصل کرنے والے نمایاں افراد ہی کو خطاب کے لئے مدعو کیا جاتا ہے۔

لند ن میں برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہومنڈ ،وزیر داخلہ تھریسا مے، برطانوی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی جسٹن گریننگ اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کر تے ہوئے کہا کہ ہمیں طاقت کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑ نے کے علاوہ ان اسباب اور عوامل کو بھی دور کرنا ہے، جو دہشت گردی اور انتہا پسندی کا باعث بنتے ہیں ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاک فوج،حکومت اور عوام سب ایک پیج پر ہیں۔پاکستان میں برداشت، رواداری اور میانہ روی کا کلچر فروغ پانے لگا ہے ۔ ہم دہشت گردی کے خلاف صرف بندوق ہی نہیں تعلیم ،فنی تربیت اور فلاح عامہ کے ہتھیاروں سے بھی لڑ رہے ہیں۔

لند ن میں دورہ برطانیہ کے چوتھے روز یو کے پاکستان انرجی اینڈ انفرسٹرکچرفورم کے تحت بین الاقوامی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی معاشی منظر نامے میں پاکستان کی اہمیت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے، جس سے تمام ترقی یافتہ ممالک کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ہم 2017ء کے آخر میں توانائی کے بحران کو کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس میں برطانیہ کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب میں کوئلے ،تیل ،پانی اور گیس ہر طرح کے ذرائع سے بجلی کے منصوبوں پر تیزی سے کام ہو رہا ہے ۔

اس کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب نے برطانیہ کے وزیر برائے پاکستانی امور ٹو بی ایس ایل وڈ سے ملاقات کے موقع پر ڈیفڈ کے مالی تعاون میں اضافے کا خیرمقدم اورپیرس دھماکوں کی مذمت کی، جبکہ لندن میں پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے سربراہ ڈنکان سیلبی سے ملاقات کے دوران پنجاب میں صحت کے شعبے میں کارکردگی کو مزید بہتر بنانے پر تبادل�ۂ خیال کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے برٹش کونسل کے چیف ایگزیکٹو سرسیارین ڈیوان اور برطانوی وزیر تجارت و سرمایہ کاری لارڈ موڈ سے خصوصی ملاقاتوں کے دوران تعلیم ، صحت اور دیگرشعبوں میں برطانیہ کو مزید تعاون بڑھانے کے لئے زور دیا۔برطانوی حکام نے بھی پنجاب حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اپنا تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے یونیورسٹی آف لندن اور وکٹوریہ اینڈ ابرٹ میوزیم لندن کا دورہ کیا گیا، جس میں لاہور نالج پارک سمیت پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دوسری جانب ملکہ برطانیہ الزبتھ کی سالگرہ کے موقع پر ایک مقامی ہوٹل کی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے ملکہ کی سالگرہ کا کیک کاٹا ۔بعد ازاں سفارت کاروں، صوبائی وزراو، سیاست دانوں ، دانشوروں اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سے وابستہ ممتاز شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ پاکستان کابڑا تجارتی پارٹنرہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اورجمہوری اقدار کے فروغ میں ہمیشہ تعاون کیا ہے ۔پنجاب میں تعلیم،صحت،سکل ڈویلپمنٹ اوردیگر شعبوں میں برطانیہ کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔برطانیہ کا ادارہ ڈیفڈتعلیم اورصحت کے شعبہ میں اصلاحات کیلئے تعاون کررہا ہے ۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ یہ دورہ میری سیاسی زندگی کے کامیاب دوروں میں سے ایک دورہ ہے اور اس دورے کے نتیجے میں صحت،تعلیم،فنی تربیت اور دوسرے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ برطانوی تعاون میں بیش بہا اضافہ ہو گا۔محمد شہباز شریف نے کہا کہ دورے کے دوران برطانوی حکام کی طرف سے جس سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی،جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ کو وزیراعظم محمد نواز شریف کی حکومت پر مکمل اعتماد ہے اور برطانوی قیادت جانتی ہے کہ ہم وزیر اعظم کی قیادت میں خلوص نیت ،محنت ،دیانت اور ٹرانسپیرنسی کے ساتھ برطانوی تعاون سے استفادہ کر رہے ہیں اور ہمارا مقصد اس تعاون کے ثمرات کو کم مراعات یافتہ طبقے تک پہنچاناہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں برطانیہ کا دورہ کرنے والے پاکستانی وفد کو برطانیہ میں ملنے والی غیر معمولی پذیرائی پر پاکستانی کمیونٹی میں خوشگوار حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ دورہ برطانیہ سے نہ صرف تعلیم، صحت، سکل ڈویلپمنٹ اور انفراسٹرکچر میں قابل قدر تعاون حاصل ہو گا، بلکہ انرجی کے مسائل پر قابو پانے میں بھی بیش قیمت مددملے گی۔وطن عزیز میں دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کے لئے بھی اعلیٰ برطانوی اداروں نے اپنے تجربات سے ہرممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔پاکستانی کمیونٹی اور سفارتی حلقوں کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے مختصر دورے کے دوران برطانیہ کے وزیرداخلہ اور وزیر خارجہ ، نیشنل سیکیورٹی کے ایڈوائزر اور برٹش کونسل کے اعلیٰ حکام سمیت تمام قابل ذکر اداروں اور محکموں کے سربراہوں سے اتنی بڑی تعدادمیں ملاقات کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔برطانیہ میں پاکستان کے ہائر کمشنر ابن عباس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ نے اپنے دورے کے ذریعے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعاون کی ایک نئی دنیاکے دروازے کھول دیئے ہیں۔مجموعی طور پر ہرطبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے وزیراعلیٰ پنجاب کا دورہ برطانیہ کامیاب ترین قرار دیا ہے۔

مزید : کالم