پانچویں علاقائی کانفرنس کے انعقاد خطے میں امن کیلئے دوررس نتائج کا حامل قرار

پانچویں علاقائی کانفرنس کے انعقاد خطے میں امن کیلئے دوررس نتائج کا حامل قرار

پشاور(کرائمز رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میا ں افتخار حسین نے پانچویں علاقائی کانفرنس کے انعقاد کو خطے میں مستقل قیام امن کیلئے دوررس نتائج کا حامل قرار دیا ہے۔، افتخار حسین نے آہم معاملات کو حل کرنے کیلے مثبت سوچ اور فکر کے ذریعے مذاکرات کے جاری رکھنے کے عمل کوانتہائی خوش آئند قرار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ افغان صدر کی بذات خود آمد ، بھارتی وزیر خارجہ کے مثبت اشارے اور پاکستانی قیادت کی جانب سے دونوں رہنماؤں کاخیر مقدم قابل ستائش ہونے کے علاوہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ خطے کے ان تین اہم ممالک کو اپنی ذمہ داریوں اور حالات کا ادراک اور احساس ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کی غلط فہمیوں کے مستقل خاتمے کیلئے خطے کے ممالک کی اعلی قیادتوں کے باہمی روابط کو مضبوطی سے استوار کیا جانابے حد ضروری ہے ا وربین الاقوامی معاملات میں اپنے اپنے ممالک کے مفادات کو اولین ترجیح رکھ کر آزاداد اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی میں ایک دوسرے کی خود مختاری کے تحفظ کو یقینی بنانا اور اپنی اپنی سر زمین کو ایک دوسرے کے خلا ف استعمال نہ ہونے دینے کا حتمی فیصلہ کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ باچا خان مرحو م کی عدم تشدد کی تحریک کی کامیابی کی دلیل ہے کہ خطے کے ممالک کی غلط فہمیاں ختم ہو رہی ہیں اور بین الا قوامی ایجنڈے کے تحت قائم ہونے والی دشمنیاں دوستی میں بدل رہی ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے ٹھوس اقداما ت اٹھائے جائیں کہ خطے میں بسنے والے کروڑوں شہری بغیر خوف و خطر اپنے اپنے ممالک کی ترقی اور عوامی خوشحالی میں کردار ادا کرسکیں۔خطے سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے محبت،اخوت،ملاقاتوں اور مفاہمتی عمل کا تسلسل جاری رہنا بھی ناگزیر ہے۔بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے درمیان صدیوں سے قائم خونی ،تہذیبی اور تمدنی رشتوں کو مزید مضبوط اور دونوں ممالک کی ترقی و سا لمیت کیلئے امن نا گزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس سے نہ صرف خطے کے اہم ممالک کی آپس کی بداعتمادی دور ہو نے میں ملے گی بلکہ خطے کی سیکیورٹی کولا حق شدید خطرات سے نمٹنے میں بھی اسانی پید ا ہونا بھی یقینی ہوجائے گی ۔ اُنہوں نے کہا کہ افغانستان کا امن اور استحکام علاقائی ایشو نہیں بلکہ اس کے لیے پڑوسی ممالک اور عالمی طاقتوں کو بھی اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو دہشتگردی ، انتہا پسندی اور علاقائی کشیدگی میں اضافے کا راستہ ہموار ہو گا اور اس سے پورا خطہ متاثر ہوگا۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ اس اہم کانفرنس میں افغانستان کے معاملات کو ٹاپ ایجنڈے پر رکھا گیا ہے اور تمام ممالک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس مسئلے کے حل کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کوششوں کا آغاز کیا جائیگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر