چور نہیں شریف سیاسی گھرانے سے تعلق ہے ،گلزادہ خان

چور نہیں شریف سیاسی گھرانے سے تعلق ہے ،گلزادہ خان

نوشہرہ(بیورورپورٹ) انجینئرنگ کونسل سے منظورشدہ واپڈا کنٹریکٹر گلزادہ خان نے کہا ہے کہ تھانہ نوشہرہ کلاں نے مجھ پر من گھڑت اور بے بنیاد 39الیکٹرسٹی کا پرچہ درج کرکے اپنے افسران کو نمبرز برھانے کی ناکام کوشش کی میں چور نہیں بلکہ ایک شریف اور سیاسی گھرانے سے میرا تعلق ہے تھانے کو بھتہ نہ دینے پر ایس ایچ او نوشہرہ کلاں نے مجھ پر اور میرے بھائی پر من گھڑت ایف آئی آر درج کرکے ہمارے ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا جامع تلاشی کے دوران پولیس نے مجھ سے ایک لاکھ اسی ہزار کی نقدی بھی لے چکے ہیں جومال مقدمہ کے ریکارڈ پر موجود نہیں اس کے خلاف ہم عدالت سے رجوع کریں گے ایف آئی آر میں بجلی کے ٹرانفارمرز اور بجلی کھمبوں کا کوئی ذکر نہیں اور جو کھمبے ایس ایچ او نوشہرہ کلاں نے میرے اوپرظاہر کئے ہیں وہ میری ذاتی ملکیت تھی جس کی رسیدیں اور کاغذات میرے پاس ہیں مذکورہ بجلی کے پول ایس ایچ او نوشہرہ کینٹ نے چہلم کے موقع پر سیکورٹی کیلئے لے گئے تھے واپس مانگنے پر ایس ایچ او کلاں نے مجھ پر اور میرے بھائی پر چوری کا ڈرامہ رچادیا ان خیالات کااظہار واپڈا کنٹریکٹر گلزادہ خان نے اپنے بھائی امیرزادہ کے ہمراہ نوشہرہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ میں اور میرا بھائی امیرزادہ انجینئرنگ کونسل سے منظور شدہ گورنمنٹ کنٹریکٹر ہیں اور محکمہ واپڈا کے ٹینڈر شدہ کاموں پر واپڈا کو بجلی کھمبوں سمیت دیگر سامان سپلائی کرتے ہیں چند روز قبل نوشہرہ میں حضرت امام حسینؓ کے چہلم کے موقع پر روڈ بند کرنے کیلئے نوشہرہ کینٹ پولیس نے بجلی کھمبے طلب کئے جو میں نے اپنے ہی خرچے پر پہنچادئیے اور پولیس کے حوالے کردئیے جس میں ایک کھمبے پر ٹرک بھی چڑھ گیا اور اسی کو مرمت کرنے پر میرے 20ہزار روپے خرچ آیا لیکن نوشہرہ کلاں پولیس نے بجلی کھمبے مجھے واپس کرنے کی بجائے تھانہ نوشہرہ کلاں میں رکھ دئیے اور SHOتھانہ نوشہرہ کلاں اخترنصیر نے مجھے اور میرے بھائی امیرزادہ کو تھانہ آنے کو کہا کہ جب ہم خود تھانہ گئے تو انہوں نے ہم دونوں بھائیوں کو گرفتار کیا اور کہا کہ ہمارے پاس بجلی کھمبے چوری کے ہیں اور ہمارے خلاف من گھڑت بے بنیاد 39الیکٹرسٹی کا مقدمہ درج کردیا جو کہ بجلی چوروں یا کنڈا مافیا کے خلاف درج ہوتا ہے اور پولیس کے پاس یہ اختیار نہیں انہوں نے مزید کہا کہ تھانہ نوشہرہ کلاں میں گرفتاری کے بعد جامع تلاشی کے دوران مجھ سے ایک لاکھ اسی ہزار روپے لئے گئے تھے جو کہ مال مقدمہ کے دریکارڈ پر درج نہیں ہے جو ایس ایچ او اخترنصیر ہڑپ کرنا چاہتا ہے ایس ایچ او تھانہ نوشہرہ کلاں اختر نصیر ایک کرپٹ انسان ہے وہ اپنے دوگن مینوں سپاہی لیاقت اور سپاہی عامر کے ذریعے تھانہ میں راشن کے بہانے ماہواریاں وصول کرتا ہے مجھ سے بھی تھانہ میں راشن کے بہانے چند روز قبل بھی دس ہزار روپے لئے گئے ہیں انہوں نے آئی پی خیبرپختونخوا ناصردرانی، ڈی آئی جی مردان سعید وزیراور ڈی پی او نوشہرہ واحد محمود سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی غیرجانبدار تحقیقات کرکے مجھے انصاف فراہم کیاجائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر