شانگلہ ،ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن دو ماہ سے بند

شانگلہ ،ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن دو ماہ سے بند

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر) شانگلہ میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن دوماہ سے بند ، پنشنرز کو شدید مشکلات کا سامنا،گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے،ان بزرگ شہریوں کی گزر بسر کیسے ہوگی،ملک وملت کی خدمت میں جوانی کھپانے والے بڑھاپے میں ذلیل و خوار نہ ہونے پائے ،صوبہ خیبر پختون خوا میں صرف شانگلہ کے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین 72سال کی عمر والوں کا پنشن محکمہ خزانہ شانگلہ نے بند کردیاہے ،وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوااور وزیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ سے نوٹس لینے کی درخواست ،حاجی بخت افسر صدر آل پاکستان پنشنرز ایسو سی ایشن ضلع شانگلہ نے کہا ہے کہ ضعیف العمر پنشنرز نے عمر عزیز کی چالیس بہاریں ملک وملت کی گرانقدرخدمت میں کھپائی ہیں لہٰذا حکومت ان کی خدمات کا پاس رکھتے ہوئے انہیں ضعیف العمری میں خوار و ذلیل ہونے سے بچائیں، سپریم کورٹ اف پاکستان کی حکم کی روشنی میں وفاقی حکومت اور حکومت خیبر پختون خوا نے 01/12/2001کے بعد ریٹائر ہونے والے ملازمین کے فروخت شدہ پنشن کی ریسٹوریشن کے احکامات جار ی کئے ہیں جس کے نتیجہ میں بعمر72سال پنشنرز کی پنشن ریسٹوریشن ہوئی ہے اب محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا نے اس پر اپنی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ریسٹوریشن گراس پنشن کی بجائے Netپنشن پر ہونی چاہیئے اس کے نتیجہ میں اکاؤنٹ افسر شانگلہ نے ضلع میں پنشنرز کا پنشن stopکروایا ہے جبکہ صوبہ کے کسی دوسرے ضلع میں پنشنرز کا پنشن بند نہیں کیا گیا ہے اس ظالمانہ اقدام سے پنشنرز برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے موجودہ ہوشر با مہنگائی میں پنشنرز کا پنشن بند کرنا انتہائی افسوس ناک اور قابل مزمت ہے پنشنرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے انہوں نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک وزیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ خیبر پختون خوا سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ پنشنرز کے دو ماہ سے بند شدہ پنشن کو فی الفور ریلیز کروانے کیلئے اقدامات اٹھائیں تاکہ پنشنرز کو مزید مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے

مزید : پشاورصفحہ اول