بنوں میں شمالی وزیر ستان متاثرین کا احتجاجی مظاہرہ

بنوں میں شمالی وزیر ستان متاثرین کا احتجاجی مظاہرہ

بنوں(نمائندہ پاکستان)متاثرین شمالی وزیرستان کا ایف ڈی ایم اے ،پی ڈی ایم اے، نجی موبائل نیٹ ورک کمپنی اور حکومت کے خلاف وزیراعلیٰ شکایت سیل کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ،مسائل حل نہ ہونے پر اسلام آباد میں دھرنا دینے کااعلان بدھ کے روز آپریشن ضرب عضب کے دوران شمالی وزیرستان سے نکل مکانی کرنے والے متاثرین نے وزیر اعلیٰ شکایات سیل کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ مشکلات اور حکومت کی عدم توجہ کا شکارہیں غیر سرکاری تنظیموں کو متاثرین کے نام پر کروڑوں روپے کے فنڈز مل رہے ہیں لیکن ہمیں کچھ نہیں مل رہا صرف کاغذی کارروائی مکمل کرتے ہیں اُنہوں نے کہا کہ وزارت سیفران کے احکامات کے باوجود وزیرستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بھرتی کیلئے ایک فیصد کوٹہ بھی مختص نہیں کیاگیا اور رشتہ دار اور دیگر اضلاع کے لوگ بھرتی کئے گئے مظاہرین نے کہا کہ فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ آتھارٹی اور نجی موبائل نیٹ ورک کمپنی نے متاثرین کے ماہوار امدادی پیکج میں ٹال مٹول شروع کی ہے اور متاثرین کئی ماہ کی امدادی رقوم سے محروم ہیں جب ماہوار رقم کے حصول کیلئے نجی موبائل نیٹ ورک کمپنی کے فرانچائز سے رابطہ کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ رقم ایف ڈی ایم اے کو منتقل کر دی ہیں جب ایف ڈی ایم اے سے رابطہ کر تے ہیں تو ان کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ رقم نیٹ ورک کمپنی کو منتقل کیا گیا ہے اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ہمیں دیوار سے لگانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور ہمیں امدادی رقم نہیں مل رہی دوسری جانب پولیس متاثرین کیساتھ نارواں برتاؤ کر ہی ہے اور بے جا تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے مظاہرین نے کہا کہ اگر جملہ مسائل حل نہ کیا گئے تو اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ شکایت سیل کے نگران چئیر مین عمر آیاز خان نے بتایا کہ ہمارے پاس متاثرین کے مسائل کی ہزاروں کی تعداد میں درخواستیں آتی ہیں جب اُنہیں حکام بالا تک پہنچایا جاتا ہے تو وہاں سے کوئی عملدر آمد نہیں کی جا رہی اُنہوں نے بتایا کہ ہم نے فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ آتھارٹی کو متاثرین کی تقریباً 7800بلاک رجسٹریشن پرچی جمع کروا چکے ہیں لیکن وہاں ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے اور جواب ملتا ہے کہ ڈی آئی جی ایف ڈی ایم اے نے دسمبر 2014میں رجسٹریشن بند کر دیا ہے لیکن اس کے بر عکس وہ بھاری رشوت لیکر متاثرین کو رجسٹریشن پرچی بنا دیتے ہیں اور ساتھ ہی نیٹ ورک کمپنی ہزاروں روپے رشوت کے عوض سمیں کھول دیتی ہیں جس کے تمام تر ثبوت ہمارے پاس ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ اول