داﺅدابراہیم کی جائیداد کی نیلامی ،سینئر صحافی اور ہندوتنظیم بولی دینے والوں میں شامل ، کار محض جلانے کیلئے خریدلی گئی

داﺅدابراہیم کی جائیداد کی نیلامی ،سینئر صحافی اور ہندوتنظیم بولی دینے ...
داﺅدابراہیم کی جائیداد کی نیلامی ،سینئر صحافی اور ہندوتنظیم بولی دینے والوں میں شامل ، کار محض جلانے کیلئے خریدلی گئی

  

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) ممبئی میں انڈر ورلڈ کے روپوش ڈان داﺅد ابراہیم کی جائیداد کی نیلامی شروع ہو گئی۔ بولی لگانے والوں میں تاجروں کے علاوہ آل انڈیا ہندو مہاسبھا اور ایک سینئر صحافی بھی شامل ہیں، ہندومہاسبھا کے صدر سوامی چکراپانی نے داﺅدابراہیم کی کار کی خریداری کیلئے تین لاکھ بیس ہزار روپے محض اس لیے اداکیے تاکہ اسے جلاسکے ۔

برطانوی اور بھارتی میڈیا کے مطابق یہ نیلامی جنوبی ممبئی کے ہوٹل میں ہو رہی ہے،نیلام کی جانے والی املاک میں ایک کار، ایک ہوٹل اور مانگا میں واقع داﺅد کا گھر بھی شامل ہے۔ ایک نجی کمپنی یہ نیلامی سمگلرز اینڈ فارن ایکسچینج مینوپلیئرز ایکٹ 1976ءکے تحت کر رہی ہے۔ داﺅد کے ہوٹل، دہلی ذائقہ کو سینئر صحافی ایس بالا کرشنن کی حب الوطنی تحریک تنظیم نے 4 کروڑ 28 لاکھ کی بولی لگا کر خرید لیا۔ اس کے علاوہ آل انڈیا ہندو مہاسبھا نے داﺅد کی کار 2 لاکھ 39 ہزار روپے میں خریدی، اس کار کی کم از کم قیمت ایک لاکھ 57 ہزار روپے رکھی گئی تھی۔

زی نیوز کی رپورٹ کے مطابق داﺅد ابراہیم کیMH-04-AX-3676نمبری ہنڈائی گاڑی گھٹکوپر میں ایک سرکاری سوسائٹی میں گزشتہ چار سال سے پارک تھی ، دلچسپ بات یہ ہے کہ سوامی جی نے یہ گاڑی محض جلاکر انتقام لینے کیلئے خریدی ۔

ہندو مہاسبھا ممبئی صدر چندر روشنی کوشک نے بتایا یہ کار صرف اس لئے خریدی ہے تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ داﺅد ابراہیم کی کوئی حیثیت نہیں ہمیں اس سے ڈرنا نہیں چاہئے، اس بار ہمیں نیلامی میں حصہ لینے کے لئے کافی وقت نہیں مل پایا لیکن مستقبل میں جب بھی داﺅد کی جائیداد کی نیلامی ہو گی تو ہم بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ مانگا میں واقع مہاوپر بلڈنگ میں داﺅد کے نام پر 32.77 مربع میٹر کا ایک گھر بھی ہے جس کی کم از کم قیمت 50 لاکھ 44 ہزار رکھی یہ بھی جلد فروخت ہو جائیگا۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بھارتی پولیس ایک طویل عرصے سے داﺅد ابراہیم کو تلاش کر رہی ہے۔ وہ 1993ءمیں ممبئی میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں پولیس کو مطلوب ہیں اوران کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس بھی جاری کیا جا چکا ہے۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں