داعش کے کارکنوں کو خواتین کی کس بات سے سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے؟ ایک ایسا دعویٰ جس نے سب کو حیران پریشان کردیا

داعش کے کارکنوں کو خواتین کی کس بات سے سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے؟ ایک ایسا دعویٰ ...
داعش کے کارکنوں کو خواتین کی کس بات سے سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے؟ ایک ایسا دعویٰ جس نے سب کو حیران پریشان کردیا

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) داعش کے شدت پسندوں کو شاید روسی و امریکی بمباری سے اتنا ڈر نہ لگتا ہو جتنا وہ کرد خواتین کی فوج سے ڈرتے ہیں۔ کرد کمانڈو خواتین کی اس فوج کا سامنا کرتے ہوئے داعش کے شدت پسندوں کی جان جاتی ہے۔ داعش کے شدت پسندوں کا عقیدہ ہے کہ اگر وہ کسی خاتون کے ہاتھوں قتل ہو گئے تو ان پر جنت حرام ہو جائے گی اور وہ کبھی بھی جنت نہیں جا سکیں گے اس لیے وہ لڑائی میں کرد خواتین کمانڈوز کا سامنا کرنے سے ڈرتے ہیں۔

مزید جانئے: دہشتگرد مسافروں طیاروں کو گرانے کے لئے ڈرونز کا استعمال کر سکتے ہیں:انسددادِ دہشتگردی کے عالمی ماہرین

ویمن پروٹیکشن یونٹ کے نام سے کرد خواتین نے اپنی ایک فوج بنا رکھی ہے جس میں مکمل طور پر خواتین کی نمائندگی ہے اور یہ شام اور عراق کے کرد علاقوں میں داعش کے خلاف لڑ رہی ہیں۔سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے اس یونٹ کی 21سالہ کمانڈر تبلیہدین کا کہنا تھا کہ ”داعش کے شدت پسند سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کے نام پر لڑ رہے ہیں، ان کا عقیدہ ہے کہ اگر انہیں کسی کرد لڑکی نے قتل کر دیا تو وہ کبھی جنت نہیں جا سکیں گے، اس لیے وہ لڑکیوں سے ڈرتے ہیں۔اس یونٹ کی ایک 20سالہ جنگجو ایفلین نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ ”داعش کبھی ہمارے زیرقبضہ علاقے الحول پر حملے کی جرا¿ت نہیں کر سکے گی، اگر اس نے ایسا کیا تو ہم ان میں سے کسی ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑیں گی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس