عالمی یوم انسانی حقو ق اور ہماری ذمہ داریاں

عالمی یوم انسانی حقو ق اور ہماری ذمہ داریاں
 عالمی یوم انسانی حقو ق اور ہماری ذمہ داریاں

  



10دسمبر کو ہر سال عالمی یوم انسانی حقوق کے طورپر منا یا جا تا ہے ۔ اسی دن 1948ء کو اقوام متحدہ کی جنر ل اسمبلی نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے عالمی میثاق کی باضابطہ طور پر منظوری دے دی تھی، جبکہ 1950ء میں مذکورہ جنرل اسمبلی نے قرار دادنمبر 423(V)کے ذریعے 10دسمبر کو عالمی یوم انسانی حقو ق منانے کا باضابطہ فیصلہ کیا ۔اس سال عالمی یوم انسانی حقوق نہایت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ انسانی حقوق کے حوالے سے دو بین الاقوامی معاہدوں کے پچاس سال مکمل ہو رہے ہیں ۔ ان دستاویزات کا تعلق معاشی ، معاشرتی ، سماجی ، ثقافتی اور سیاسی حقوق سے ہے ۔ان دستاویزات کے تحت اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے موثر قانون سازی کریں۔اس دن کے موقع پر ہمیں بنیادی آزادیوں اور سب کے لئے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کا عہد کرنا ہوگا۔ افسوسنا ک امر یہ ہے کہ دُنیا کے تمام حصوں میں انسانی حقوق اوربنیا دی انسانی وقار کی خلاف ورزیو ں کا سلسلہ تا حال جا ری ہے ۔پاکستان میں شہریوں اورریاست کے مابین عمرانی معاہدے کے طور پر 1973ء کا آئین شہر یوں کے بنیا دی حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے ۔ آئین پاکستان کے پہلے باب میں موجود 8سے لے کر 28تک دفعات بنیا دی حقوق سے متعلقہ ہیں۔ مزید برآں آئین کی دفعہ 8کے تحت پاکستان میں کوئی بھی ایسا قانون لاگو نہیں کیا جاسکتا جو بنیادی حقوق سے متصادم ہو،جبکہ آئین کی دفعہ 3کے تحت ہر طرح کے استحصال کا خاتمہ ریاست کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے۔

آئین پاکستان کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے عدلیہ ، نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس ،سینیٹ کی انسانی حقوق کی فنگشنل کمیٹی اور سپر یم کورٹ کا ہیومن رائٹس سیل موجود ہیں۔ان اداروں کو شہر یوں کے بنیادی حقو ق کے تحفظ کے لئے مزید فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے 2004ء تا 2016ء کے اعداد و شمار کے مطابق غیر ت کے نام پر قتل 15,222، خواتین اغوا کے 5508،اور35,935خود کشی کے واقعات رونما ہوئے۔ ورلڈ جسٹس پر اجیکٹ کی رپورٹ کے مطابق قانون کی حکمرانی کے حوالے سے پاکستان 113ممالک میں 106ویں پوزیشن پر ہے۔ کسی بھی ملک میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے قانون کی حکمرانی کو ضروری جزو سمجھا جا تا ہے ۔ آئین پاکستان ابتدائی تعلیم کو بنیا دی حقو ق کے طورپر تسلیم کرتا ہے، جس کے تحت صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس اہم آئینی شق پر عملد رآمد کروانے کی پابند ہے، تاہم سات سال گزرجانے کے باوجود بھی آئین کے آرٹیکل 25(A)پر عملدرآمد کروانے کے حوالے سے رولز آف بزنس میں ضروری ترامیم نہیں لائی جاسکیں، جبکہ معلومات تک رسائی کے بنیادی حقوق کے حوالے سے بھی کوئی موثر لائحہ عمل نہیں بنایا جا سکا۔

بنیا دی ضروریات کی فراہمی اور شہر یوں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی ریاست کے اولین فرائض میں شامل ہے، لیکن آئے روز خود کشیوں کی تعداد میں اضافہ متعلقہ اداروں کی کا رکردگی پر سوالیہ نشان ہے، ان عوامل کا بھی سدباب کرنا ہمار ی اجتما عی ذمہ داری ہے، جس کی وجہ سے زندہ لوگ اپنی ہی جان کے دشمن بن جاتے ہیں،جبکہ 70 سال گزرجانے کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں بسنے والے شہریوں کو مساوی حقوق کی فراہمی کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکا۔ معاشرے میں بڑھتے تشدد پر مبنی رجحانات کے دیرپا حل کے لئے ضروری ہے کہ سیکیورٹی پر مبنی قلیل مدتی سوچ سے ایک قدم آگے بڑھا تے ہوئے بنیادی عوامل کا جائزہ لیا جائے جو دراصل انتہا پسندی کی پرورش کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ، قانون کی کمزور حکمرانی ، میرٹ و بہتر طرز حکمرانی کا فقدان،روزگارکے کم مواقع، نوجوانوں اور معاشرے کے محروم طبقات کے لئے سکڑتی ہوئی سیاسی گنجائش سے پر تشدد گروہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ رواداری، امن ، مذہبی برداشت ، اقلیتوں کا تحفظ، معیاری تعلیم ، انسانی حقوق کے احترام کو قومی حکمت عملیوں کا بنیادی جزو بنانا ہو گا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو میثاق مدینہ اورخطبہ حجتہ الوداع، جن کو مستند انسانی حقوق کا چارٹر تسلیم کیا گیا ہے، ان سے متعارف کروایا جائے۔ جامعات میں علمی آزادی کو یقینی بناتے ہوئے انسانی حقوق کے موثر تحفظ کے لئے تحقیق کے کلچر کو فروغ دیا جائے اور سوک ایجو کیشن کو لازمی مضمون کے طور پر نصاب کا حصہ بنایا جائے ۔ پار لیمنٹ اور جامعات کے مابین روابط کو مضبوط بنانے کے لئے مزید اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔

مزید : کالم