سارک چیمبر ہیڈکوارٹر بلڈنگ اسلام آباد میں مکمل

سارک چیمبر ہیڈکوارٹر بلڈنگ اسلام آباد میں مکمل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

آج کل سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نیپال سے منتخب صدر سورج و دھیا پاکستان کے دورے پر ہیں۔ اسلام آباد میں انہوں نے سارک چیمبر ہیڈ کوارٹر بلڈنگ میں پہلا اجلاس منعقد کرکے غیر سرکاری طور پر بلڈنگ کا افتتاح بھی کردیا۔ اس موقعہ پر سارک ممالک کے نمائندوں نے نو تعمیر شدہ خوبصورت بلڈنگ کی جی بھر کر تعریف کی اور پاکستان میں سارک چیمبر کے نائب صدر جو سارک چیمبر ہیڈ کوارٹر بلڈنگ تعمیر کرنے والی کمیٹی کے چیئرمین ہیں، ان کی بھی بہت تعریف کی اور اتنا شاندار سارک ہیڈ کوارٹر تعمیر کرانے پر خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔ چیئرمین افتخار علی ملک نے بتایا کہ میں اپنی تعریف خود تو نہیں کرنا چاہتا، لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب میں نے سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا ہیڈ کوارٹر پاکستان میں بنانے کے آئیڈیے پر کام شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے، جتنا میں تصور کررہا تھا۔ مختلف ممالک کے وفود سے بات چیت ہوئی تو معلوم ہوا کہ ان کی خواہش ہے کہ سارک ہیڈ کوارٹر کی بلڈنگ ان کے ملک میں تعمیر کی جائے، لیکن میں نے ٹھان لی کہ کامیاب لابنگ اور میرٹ پر سارک ہیڈ کوارٹر کو پاکستان لے کر آنا ہے، بالآخر دن رات محنت کے بعد مجھے کامیابی نصیب ہوئی اور تمام ممالک نے اجازت دے دی کہ سارک ہیڈ کوارٹر کی بلڈنگ پاکستان کے خوبصورت دارالحکومت اسلام آباد میں تعمیر کی جائے۔


اجازت ملنے کے بعد میں نے اپنے رفقا کے ساتھ اسلام آباد میں اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتیں شروع کردیں اور طویل جدوجہد کے بعد ہمیں اسلام آباد کے مرکزی مقام پر ایک پلاٹ مل گیا، جہاں سارک ہیڈ کوارٹر بلڈنگ تعمیر کے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور آئندہ سال مارچ کے آخری ہفتے میں وزیر اعظم پاکستان کے ہاتھوں اس سٹیٹ آف دی آرٹ بلڈنگ کا افتتاح ہو جائے گا۔ اس نو منزلہ بلڈنگ کا طرزِ تعمیر بہت خوبصورت اور متاثر کن ہے۔ جو بھی اس بلڈنگ کے ڈیزائن کو دیکھتا ہے، اس کی تعریف ضرور کرنا ہے۔ اس بلڈنگ میں تمام سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، اگر کبھی بجلی چلی بھی جائے تو سولر انرجی سے بلڈنگ کو روشن رکھنے کا انتظام ہے، اڑھائی سو افراد کے لئے ایک بہت جدید آڈیٹوریم ہے، جہاں کانفرنسوں کے لئے تمام لوازمات کا انتظام ہے، آٹھویں فلور پر ایک ریستوران بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں آپ کھانے پینے کے دوران اسلام آباد کی خوبصورتی اور دلکشی کو ایک نئے انداز سے دیکھ کر لطف اندوز ہوسکیں گے۔ پارکنگ کے لئے ڈبل انتظام بیسمنٹ میں کیا گیا ہے، آگ سمیت ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لئے جدید ترین فائرفائنگ سسٹم اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد لی گئی ہے۔ مختصر یہ کہ سارک چیمبر ہیڈ کوارٹر کی بلڈنگ ہر لحاظ سے دنیا بھر میں پاکستان کا بہتر تشخص ابھارنے میں مددگار ہوگی۔


حقیقت یہ ہے کہ سارک چیمبر آف کامرس ایک بہت اہم تنظیم ہے۔ ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے ممبر ممالک اگراس تنظیم کو سیاست سے بالا کرکے صرف صنعت و تجارت تک محدود کرلیں تو یقین کریں کہ صرف اس تنظیم کی چھتری تلے ساؤتھ ایسٹ ایشیا سے نہ صرف بے روز گاری کم ہو جائے، بلکہ لاکھوں افراد غربت کی لکیر سے اوپر آجائیں؂ ساؤتھ ایسٹ ایشیا کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ یہاں معیشت کو بھی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے؂ دوسرے ممالک اور اس نوعیت کی دوسری تنظیمیں، جیسے پورپی یونین وغیرہ نے سیاست سے ماورا ہو کر اپنی تنظیم سے بے شمار معاشی فوائد حاصل کئے ہیں۔ ایک ماہ پہلے سارک ممالک کے صحافیوں کی ایک بہت اہم ورکشاپ لاہور میں ہوئی تھی۔ وہاں سارک ممالک کے صحافیوں نے ایک ہی بات کی تھی کہ باہمی تجارت کو فروغ دیئے بغیر ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے ممالک ترقی نہیں کرسکتے، اگر سارک ممالک کے راہنما اور حکمران سنجیدگی سے سارک تنظیم سے استفادہ کرنے کا پروگرام بنالیں تو اس غریب خطے کو ایک امیر خطے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔


سارک کے موجودہ صدر نے جن کا تعلق نیپال سے ہے، سارک ہیڈ کوارٹر کا دورہ کرنے کے بعد اپنے تاثرات میں کہا کہ ہماری تنظیم ہر لحاظ سے بہت اہم تنظیم ہے اور اس میں صلاحیت ہے کہ ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے ممالک کی قسمت بدل دے، لیکن ہمارے حکمران اس تنظیم سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے نظر نہیں آرہے۔ اب آئندہ سال سارک کے نئے انتخابات ہونے جارہے ہیں، نیا صدر سری لنکا سے لیا جائے گا۔ ہمیں امید ہے کہ آئندہ سال مارچ میں سارک ہیڈ کوارٹر کا باقاعدہ وزیر اعظم پاکستان کے ہاتھوں افتتاح ہونے کے بعد سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پہلے سے زیادہ متحرک ہو جائے گا جو ساؤتھ ایسٹ ایشیا کی معیشت کو بلند کرنے اور بے روزگاری ختم کرنے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ سرمایہ کاری سے مجھے یاد آیا کہ پاکستان کی معیشت پر دنیا کا اعتماد قائم ہے۔ یوروبونڈ کی فروخت سے مثبت نتیجہ برآمد ہوا ہے اور پاکستان کو مطلوبہ رقم سے زیادہ کی پیش کش وصول ہوئی ہیں۔ اس سے عالمی سطح پر پاکستانی معیشت کے استحکام کا بہت اچھا پیغام گیا ہے۔ صنعت و تجارت کے لیڈروں نے پہلے بھی تجویز دی تھی کہ پاکستانی سیاستدان ایک میز پر بیٹھ کر معیشت کے بارے میں مشترکہ پالیسی تشکیل دیں تاکہ پاکستانی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو کوئی خوف نہ ہو کہ حکومت کی تبدیلی سے معاشی پالیسیاں بھی تبدیل ہو جائیں گی، جن کی وجہ سے ہماری خطیر سرمایہ کاری ڈوب جائے گی۔ اس وقت پاکستان ہر لحاظ سے عالمی اور ملکی سرمایہ کاری کے لئے ایک زبردست اہمیت حاصل کرچکا ہے۔ گوادر بندر گاہ کی تکمیل، ہمہ وقت بجلی اور گیس کی سپلائی نے سرمایہ کاروں کے حوصلے بلند کردیئے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت کام کرنے والی فورس، یعنی نوجوانوں کی شرح دنیا بھر میں بہتر ہے، جس کی وجہ سے سستی افرادی قوت بھی دستیاب ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی سرمایہ کاری کے لئے حکومت ترغیبات کا اعلان کرے اور سارک ممالک کے سرمایہ کاروں کے لئے بھی پُر کشش اعلانات کرے۔

مزید :

کالم -