دھرنستان

دھرنستان
 دھرنستان

  

میرے دوست کا اصرار ہے جناب آصف علی زرداری کی پارٹی وفد کے ہمراہ حضرت قبلہ طاہر القادری کے آستانہ عالیہ پر حاضری کے بعد انکے اور انکے ساتھیوں کے خلاف کرپشن کے باقی کیس بھی ختم ہوجا ئینگے جبکہ ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ آصف علی زرداری اور انکے ساتھیوں کے خلاف جاری مقدمات ختم نہیں ہونگے بلکہ ان کو مناسب ٹائمنگ کے حساب سے ایک ایک کر کے قابل سماعت بنایا جائے گا اس پر بحث کسی دن ضرور کرینگے سرِ دست مجھے پیپلز پارٹی کی تازہ ترین حکمت عملی پر بات کرنی ہے ابھی کل کی ہی بات ہے پیپلز پارٹی نے طاہر القادری اور عمران خان کے احتجاج اور دھرنے کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی تھی اور میثاق جمہوریت کی آڑ میں پارلیمنٹ کا سہارا لیکر نواز لیگ کی حکومت اور میاں نواز شریف کو بچانے میں اہم کردارادا کیا تھا۔سوال یہ ہے کہ کل کا غیر جمہوری دھرنا آج جمہوری کیسے ہو گیا؟ اب جبکہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین 3گھنٹے کی طویل ملاقات میں طاہر القادری کو حمایت کا مکمل یقین دلا چکے ہیں اس سے قبل چودھری شجاعت حسین، عمران خان حتی کہ مصطفیٰ کمال بھی طاہر القادری کے متوقع دھرنے کی ایڈوانس حمایت کر چکے ہیں، پوری قوم حیران بھی ہے اور پریشان بھی کہ آخر اس بار قائد انقلاب کو تھوک کے حساب سے ایڈوانس حمایت کیوں ملنا شروع ہو گئی ہے؟اسکی بھی کئی وجوہات ہیں جن میں سے بیشتر پر بات نہیں کی جاسکتی البتہ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ اس دھرنے کے نتیجہ میں اگر حالات خراب ہوتے ہیں یا مزید لاشیں گرتی ہیں تو اسکی ذمہ داری کون لے گا ؟ایک طرف طاہر القادری کا دھرنا ہوگا اور دوسری جانب آہستہ آہستہ عاشقان رسولؐ بھی ختم نبوتؐ کے کے ایشو کو دوبارہ سے زندہ کرتے ہوئے میدان عمل میں آئینگے۔اور پھر ایک بار لاہور اور پنجاب کی اہم شاہراؤں پر دھرنوں کی بہار آئے گی اور آنے والے دنوں میں طاہر القادری عمران خان یعنی، پی ٹی آئی،پی پی پی، پیر سیالوی،ڈاکٹر آصف جلالی مسلم لیگ ق سمیت دیگر سنی اور بریلوی مسالک کی کئی جماعتیں دھرنوں میں مصروف ہونگی ان دھرنوں کی وجہ سے سوسائٹی کے اندر انارکی بے یقینی عدم برداشت تو بڑھ ہی رہی ہے۔جس کو دیکھ کر پاکستان سے محبت کرنے والے خوفزدہ جبکہ دشمن اس کو پراپیگنڈہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، پوری مہذب دنیا آج 2017میں یہ سوچ رہی ہے کہ دنیاکی چھٹی بڑی آبادی والا واحد اسلامی ایٹمی ملک جسکی عدلیہ اور میڈیا بھی ضرورت سے زیادہ آزاد ہونیکی دعویدار ہے۔

قارئین کس قدر عجیب و غریب لطیفہ ہے کہ وطن عزیز میں 2013 کے انتخابات ہوتے ہیں، عمران خان 4 حلقے کھولنے کا مطالبہ کرتا ہے مگر حکومت نہیں مانتی پھر 126 دن تک پر تشدد دھرنا ہوتا ہے ،جس میں دھرنا دینے والے اور دھرنا روکنے والی ریاست کھربوں روپے خرچ کر دیتی ہے۔مگر مسائل جوں کے توں ہیں،انتخابی اصلاحات پھر بھی نہیں ہو پاتیں۔ماڈل ٹاؤن میں دن دیہاڑے قتل ہوتے ہیں نتیجہ دھرنا ہوتا ہے مگر کسی کو سزا نہیں ہوتی اب قوم اس مسئلے پر ایک بار پھر دھرنے کی منتظر ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہاں کام دھرنے کے ذریعے ہی کئے جانے ہیں تو پھر عدالتیں،پولیس،ایف آئی اے، پارلیمنٹ اور دیگر اداروں کی ضرورت کیا ہے؟ کیونکہ نابینا افراد، ڈاکٹرز ،کلرکوں اور مختلف اداروں کے ملازمین کو بھی اپنے اپنے مطالبات کے لئے دھرنے دینے پڑتے ہیں اب تو پاکستان میں طاہر القادری اور خادم رضوی کے پر تشدد دھرنا برانڈ کی مشہوری کے بعد مختلف جگہ پر گڑ بڑ کرنے کے لئے باقاعدہ افرادی قوت بھی کرایہ پر دستیاب ہے کے بورڈ نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔یہ ٹرینڈ اس لئے زور پکڑتا جارہا ہے کیونکہ وطن عزیزمیں کوئی کام ادارے یا حکمران روٹین میں یا آئین اور قانون کے مطابق نہیں کررہے۔ویسے بھی جب پاکستان کی باثر سیاسی ایلیٹ آصف علی زرداری، چودھری برادران،عمران خان وغیرہ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ پر انصاف کے لئے واحد آپشن کے طور پر ملکر دھرنادینے کا پلان بنا رہے ہوں تو عام آادمی بھی اسی ٹرینڈ کو فالو کرے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ طاہر القادری کی قیادت میں عمران خان اور زرداری کا غیر فطری اتحاد ملکر دھرنا دے گا تو اسکا نتیجہ کیا نکلے گا ؟جمہوریت جس کو 12 مہینے خطرہ رہتا ہے اس بار’’ حلال دھرنے ‘‘کے نتیجہ میں اس بیچاری نازک سی جمہوریت نامی دوشیزہ کو کوئی اغواء تو نہیں کرے گا؟؟ اور اگر کوئی اغوا کرے گا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟آصف علی زرداری یا دیگر دھرنا فیم قوتیں کچھ بھی کر لیں حالات کی ذمہ داری کا تعین ہمیشہ مورخ کرتا ہے اور مورخ کا قلم بے رحم ہوتا ہے۔آج2017ء میں پوری قوم نہ صرف حالات و واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ قومی قیادت کے ہر قول اور فعل کو بھی مانیٹر کر رہی ہے۔

مزید :

کالم -