”امرتسر سے ایک سکھ کا مجھے فون آیا اور وہ کہنے لگے کہ ۔۔۔“ حامد میر نے انتہائی حیران کن واقعہ سنا دیا ، ہر کوئی حیران رہ گیا

”امرتسر سے ایک سکھ کا مجھے فون آیا اور وہ کہنے لگے کہ ۔۔۔“ حامد میر نے ...
”امرتسر سے ایک سکھ کا مجھے فون آیا اور وہ کہنے لگے کہ ۔۔۔“ حامد میر نے انتہائی حیران کن واقعہ سنا دیا ، ہر کوئی حیران رہ گیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینئر صحافی حامد میر نے” آج قبروں کے پتھر چرانا چھوڑیئے“ کے عنوان سے کالم شائع کیا ہے جس میں انہوںنے امرتسر سے سکھ صحافی کے ساتھ ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو کا احوال بیان کیا ہے ۔

حامد میر نے اپنے کالم میں لکھا کہ امرتسر سے ایک سکھ صحافی دوست نے ایسی فرمائش کر ڈالی جس کو پورا کرنا بہت مشکل تھا۔ کہنے لگے: آپ نے اپنے ایک کالم میں بابا گورو نانک کے بارے میں ڈاکٹر علامہ اقبال کے اشعار شامل کر کے ہمارے دل جیت لئے ہیں۔ ہم اگلے سال مارچ میں امرتسر میں ایک سیمینار کروا رہے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ آپ اس سیمینار میں آئیں اور خطاب کریں۔ اس دعوت پر میں نے سکھ دوست کا شکریہ ادا کیا اور پوچھا کہ کیا آپ کا سیمینار بابا گورو نانک کے بارے میں ہو گا؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ نہیں، نہیں یہ سیمینار مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بارے میں ہو گا۔ یہ سن کر مجھے کچھ دیر کے لئے چپ لگ گئی کیونکہ بابا گورو نانک کے احترام کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں رنجیت سنگھ کا بھی احترام کرتا ہوں۔ اس ناچیز نے اپنے سکھ دوست سے کہا کہ دراصل مجھے رنجیت سنگھ کی علمی خدمات سے زیادہ آشنائی نہیں ہے اس لئے میری طرف سے معذرت قبول کیجئے۔ سکھ دوست کہاں ماننے والا تھا۔ کہنے لگا: آپ فکر نہ کریں، ہم آپ کو تقریر لکھ کر دیدیں گے۔ آپ نے ہر صورت میں امرتسر آنا ہے۔ عجیب مشکل تھی۔ تھوڑی ہمت کی اور سکھ دوست سے کہا کہ سردار جی میری ناقص معلومات کے مطابق جب رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کیا تو اس نے بادشاہی مسجد کے احاطے میں گھوڑوں کا اصطبل بنا دیا اور شاہی قلعے کے بالکل سامنے حضوری باغ میں بارہ دری تعمیر کرائی جہاں وہ اپنی عدالت لگاتا تھا۔ حضوری باغ بارہ دری کی تعمیر میں اس نے سنگ مرمر سمیت دیگر قیمتی پتھر استعمال کئے، یہ پتھر اس نے جہانگیر اور نورجہاں کے مقبروں سے اکھاڑے۔ قبروں سے پتھر اکھاڑ کر اس نے اپنی عدالت سجائی۔ ہو سکتا ہے کہ س نے بہت سے لوگوں کو انصاف دیا ہو لیکن قبروں سے پتھر اکھاڑ کر اس نے تاریخ کے ساتھ جو ناانصافی کی، اس کا جواب کون دے گا؟ یہ سن کر سکھ دوست واہ واہ کرنے لگا اور اس نے کہا رنجیت سنگھ مہاراج کتنے عظیم تھے انہوں نے قبروں سے پتھر اکھاڑ کر زندہ انسانوں کیلئے انصاف کی بنیادیں رکھیں۔ اب تو آپ کو ہمارے سیمینار میں ضرور آنا ہے۔ مجھے چشمِ تصور میں اس سیمینار کے دوران انڈے اور ٹماٹر پرواز کرتے ہوئے نظر آئے لہٰذا میں نے اس سادہ دل سکھ دوست سے زبردستی اجازت لے کر فون بند کر دیا۔

مزید : قومی