لنڈا بازاروں میں ر یٹ ڈبل‘ سفید پوش طبقہ‘ غریب خالی ہاتھ واپس

  لنڈا بازاروں میں ر یٹ ڈبل‘ سفید پوش طبقہ‘ غریب خالی ہاتھ واپس

  



ملتان (نیوز رپورٹر) شہر میں لُنڈے (استعمال شدہ) کے کپڑوں اور دیگر سامان کی مانگ بے تحاشابڑھ گئی ہے۔دکانوں اور ریڑھیوں پر خواتین سمیت شہریوں کے رش میں اضافہ ہو گیا (بقیہ نمبر46صفحہ12پر)

ہے۔دکانداروں نے زیادہ منافع کمانے کے لالچ میں گرم کپڑوں وغیرہ کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر دیا ہے۔قیمتوں میں اضافہ کا رجحان غالب انے سے سفید پوش طبقے اور غریب شہریوں کے لئے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ملک میں سردی کی حالیہ لہر کے باعث موسم میں شدت اگئی ہے۔جس پر شہریوں نے لنڈے  بازاروں کا رخ کر لیا ہے اوراستعمال شدہ کپڑوں کی خریداری کا کام شروع کر دیا ہے۔گزشتہ روز حسین اگاہی،گھنٹہ گھر،اندرون شہر،گردیزی مارکیٹ،دہلی گیٹ،حافظ جمال روڈ، سمیت مختلف علاقوں میں لنڈے کے کپڑوں کی خریداری کے کام میں رش رہا۔شہریوں اورخواتین کی بڑی تعداد استعمال شدہ کپڑوں کی خریداری میں مصروف رہی۔لنڈے بازاروں میں سوئیٹر، جرسی، کوٹ، اپر، جوگر، ٹوپی، مفلر، ٹراؤزر، دستانوں وغیرہ کی خریداری کا کام سب سے زیادہ ہے۔خریداروں کے مطابق سردی کی شدت بڑھتے ہی دکاندارگرم کپڑوں کی قیمتوں میں من پسند اضافہ کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ سال کی نسبت لنڈے کے کپڑوں کی قیمتوں 30 سے 35 فیصد کا اضافہ کر دیا گیا ہے جو کہ افسوسنا ک ہے۔خریداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کرنے والے دکانداروں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر