آئی ایم ایف ہدف:ترقیاتی بجٹ متاثر!

آئی ایم ایف ہدف:ترقیاتی بجٹ متاثر!

  



وزارت خزانہ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں صوبوں نے مجموعی طور پر 202 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کم خرچ کئے، جس کے باعث صوبوں اور مرکز کے اکاؤنٹس سرپلس میں گئے اور وفاقی حکومت کو آئی ایم ایف کی جانب سے دئیے گئے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملی۔ آسان الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ صوبوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے ان کے شہریوں کی فلاح و بہبود کے ترقیاتی کاموں کے لئے جو رقم دی گئی، اس میں سے ایک چوتھائی خرچ کئے بغیر ہی لوٹادی گئی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال میں 423 ارب روپے صوبوں سے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا لیکن صوبوں نے صرف 3 ماہ میں ہی 48فیصد واپس کردیا۔ اعدادوشمار کے مطابق صوبوں کو گزشتہ سہ ماہی میں 791 ارب روپے میسر تھے جن میں سے صرف 589 ارب روپے خرچ کئے گئے اور باقی لوٹادئیے گئے، اس رقم میں سے صرف 70.6 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کئے گئے۔ پنجاب نے 75.4 ارب روپے (ریونیو کا 21 فیصد) واپس کیا جبکہ ترقیاتی کاموں پر صرف 43 ارب خرچ کئے، کے پی کے میسر فنڈز کا 38فیصد یعنی قریباً 54 ارب روپے خرچ نہ کرسکا اور ترقیاتی کاموں پر 8.4 ارب روپے خرچ کئے گئے۔ بلوچستان نے وصولیوں کا 43.4 فیصد یعنی 37.3 ارب روپے واپس کئے اور ترقیاتی کاموں پر صرف 3.7 ارب روپے خرچ کئے۔ دوسری جانب سندھ نے ریونیو کا 18 فیصد یعنی 35.5 ارب روپے واپس کیے اور ترقیاتی کاموں پر صرف 16 ارب روپے لگائے۔

صوبوں کی جانب سے رواں سال ڈویلپمنٹ پر خرچ کی جانے والی رقم کس قدر کم ہے، اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مالی سال 2017-18ء میں پنجاب حکومت نے ترقیاتی کاموں پر 600 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی۔ یہ 150 ارب روپے فی سہ ماہی بنتے ہیں جو رواں سال پہلے 3 ماہ کے دوران تمام صوبوں کی جانب سے خرچ کی جانے والی رقم سے دگنی سے بھی زیادہ ہے۔ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومتوں نے خرچ کم کیا تو اس میں کیا برائی ہے؟ سمجھنے کی بات ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں حکومت کی جانب سے ترقیاتی کاموں پر خرچ کی جانے والی رقم شرح نمو کے لئے (Catalyst) کا کام کرتی ہے۔ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شہریوں کو بہتر سہولیتیں میسر آتی ہیں۔ طویل مدت میں عوام کا طرز زندگی بہتر بنانے کے لئے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ترقیاتی کاموں کی کلیدی اہمیت ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہم سے بہت آگے اسی لیے ہیں کیونکہ وہ لمبے عرصے تک زیادہ ٹیکس اکٹھا کرتے رہے اور ترقیاتی کاموں پر زیادہ خرچ کرتے رہے۔

اب غور کرنے کی بات ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ پاکستان کی صوبائی حکومتوں نے یکدم اپنے شہریوں کے بہتر مستقبل کے لئے پیسہ خرچ کرنا چھوڑ دیا؟ اس کی سب سے بنیادی وجہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان ہونے والا معاہدہ ہے جس کے تحت پاکستان کو معاشی بیل آؤٹ دیا گیا۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے سامنے شرط رکھی تھی کہ رواں سال پاکستان کا بنیادی (پرائمری) بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.6 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ بنیادی خسارہ کیلکولیٹ کرنے کے لئے حکومتی آمدن اور اخراجات کے فرق میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کی واجب الادا رقم جمع کردی جاتی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے دئیے گئے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ہی صوبوں سے یہ قربانی مانگی گئی۔ تاہم بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ صوبوں نے مطالبے سے بھی بڑھ کر قربانی دی ہے۔ یہ بات باعث تشویش بھی ہے۔ ممکن ہے حکومت آئی ایف کی جانب سے دیا گیا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے لیکن اگر یہ ہدف ترقیاتی اخراجات کی قیمت پر حاصل کیا گیا تو یہ بے حد افسوسناک بات ہوگی۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستانی معیشت گزشتہ دو برس بے حد مشکل حالات سے گزری اور گزر رہی ہے۔ مشکلات کے اس بھنور سے نکلنے کے لیے چند مشکل فیصلے ناگزیر تھے، لیکن اگر ہم کرنٹ (موجودہ) اخراجات کو قابو کرنے کی بجائے ساری کسر ترقیاتی اخراجات سے ہی نکالیں گے تو اس کا مطلب ہے حکومت کا روزمرہ کا خرچ چلانے کے لیے ہم اپنے مستقبل کو تاریک کررہے ہیں۔ پاکستان کے کرنٹ اخراجات میں رواں سال کمی کی بجائے30 فیصد سے زائد اضافے کا خدشہ ہے۔ اقتدار میں آنے سے قبل وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ طرز حکومت میں سادگی لا کر کرنٹ اخراجات میں خاطر خواہ کمی کی جا سکتی ہے تاہم ان کی حکومت کے ابتدائی 15 ماہ میں اس کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا، بلکہ چْھری اْلٹا ترقیاتی بجٹ پر آکر گری ہے۔یاد رہے بجٹ میں پہلے ہی ڈویلپمنٹ بجٹ 2 سال قبل کے مقابلے میں کم رکھا گیا اور پھر جو رکھا گیا اسے بھی خرچ نہ کیا جا سکا۔وفاقی حکومت کی پکار پر صوبوں کی جانب سے دکھائی جانے والی حد سے زیادہ فرض شناسی کی ایک وجہ ان کی اپنی صلاحیتیں بھی ہیں یا کہا جاسکتا ہے کہ صلاحیتوں کا نہ ہونا بھی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں صوبائی و وفاقی حکومتوں کی گورننس کی خامیاں کھل کر سامنے آئی ہیں اور تاثر یہ بنتا جا رہا ہے کہ حکومتی سیٹ اپ میگا پراجیکٹس کو مکمل کرنے کی انتظامی استعداد سے ہی محروم ہے۔ اس کی بہترین مثال پشاور میں بی آر ٹی اور لاہور میں اورنج ٹرین لائن منصوبے ہیں۔

ان تازہ اعدادوشمار نے ایک الجھن حل بھی کردی ہے۔ موجودہ نظام کے بارے میں یہ تاثر بھی زور پکڑتا جارہا ہے کہ حکومتیں موجود تو ہیں لیکن گراؤنڈ پر نظر نہیں آرہیں۔ اس کی بڑی وجہ ہے کہ جب ترقیاتی منصوبے نہ ہونے کے برابر ہوں گے تو ہمیں حکومت کیسے نظر آئے گی؟ جب نئے منصوبے لگائے جائیں گے، ترقیاتی کام ہوں گے تو وہ یقینا نظر بھی آئیں گے۔ ضروری ہے کہ اب وزیراعظم اور ان کی معاشی ٹیم کے کرتا دھرتا اس طرف خصوصی توجہ دیں۔ اگر نئے ترقیاتی منصوبے نہ لائے گئے تو شرح نمو مزید گرنے کا خطرہ ہے، نتیجتاًبے روزگاری مزید بڑھے گی اور ساتھ ہی ملک میں افراتفری بھی۔ جو وقت گزرگیا اس کے بارے میں وزیراعظم اور ان کے رفقاء کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم کو تجربہ نہیں تھا، اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کی معاشی حالت بے حد تشویشناک تھی، تاہم حکومتی ذمہ داروں کا دعویٰ ہے کہ اب انہیں نظام کی سمجھ آگئی ہے، اب بھی دعووں کو عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا تو پھر حکومت چلانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ دفاعی پالیسی معاشی استحکام حاصل کرنے کے لیے اپنائی گئی اور اس میں کامیابی ملی۔ یہ سچ ہے تو اب ضروری ہے کہ ملکی ترقی کی راہ پر توجہ مرکوز کی جائے، لوگوں کے لئے بہتر سہولتیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ