مہنگائی کے خلاف مظاہرے؟

مہنگائی کے خلاف مظاہرے؟

  



مسلم لیگ(ن) کی مرکزی قیادت نے لندن میں برسراقتدار طبقے کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا تو پہلا مظاہرہ پنجاب میں ہوا کہ اسلام آباد سمیت متعدد شہروں میں کارکنوں نے مہنگائی کے خلاف مظاہرے کئے لیکن لاہور میں ایسا نہ ہو سکا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کارکنوں کے اپنے فیصلے تھے جو مختلف شہروں کی پریس کلبوں کے باہر بینرز اور پلے کارڈ لے کر پہنچے اور زبردست قسم کی نعرہ بازی کی۔معاصر کی خبر کے مطابق لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے کارکن تذبذب کا شکار رہے کہ ان کو مقامی رہنماؤں کی طرف سے ہدایت نہیں دی گئی۔ بہرحال خبر کے مطابق اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں کارکنوں کی بھاری تعداد جمع ہوئی اور پرجوش انداز میں نعرہ بازی کی۔جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے تو اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں کہ یہ بڑھی اور اس رفتار سے اضافہ ہوا کہ لوگوں کی حقیقتاً چیخیں نکل گئیں۔ اگر ادارہ شماریات کے اعداد و شمار ہی کو دیکھا جائے تو یہ اضافہ 19فیصد ہے لیکن برسرزمین حقیقی اضافہ سو فیصد سے بھی زیادہ ہے اور ٹماٹر اور پیاز جیسی سبزیاں تو چار چار گنا مہنگی ہوئیں۔ ان کے نرخوں میں کمی ضرور ہوئی لیکن اب بھی قیمت گزشتہ برس کی نسبت دوگنا سے بھی زیادہ ہے، لہٰذا یہ حقیقی مسئلہ ہے جو عوامی ہے، اس سے منسلک صحت، ہسپتالوں کی حالت اور بے روزگاری بھی شامل کریں تو عوام کی زندگی اجیرن ہے۔ان عوام کو یہ شکوہ ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ اپنا حساب برابر کر رہی ہیں اور حقیقی عوامی مسائل پر توجہ نہیں دی جاتی، اگر اب ایسا ہوا تو عوامی توجہ بھی ہو گی، لیکن اگر یہ مظاہرہ بھی ایسی تذبذب والی کیفیت سے دوچار رہا تو عوام اور مایوس ہو جائیں گے۔یہ تو مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے کیا ہے عوام کی توقع ہے کہ حکمران جماعت سمیت تمام جماعتیں ان حقیقی پریشانیوں کو دور کرنے کی سعی کریں گی۔ اس کے لئے پارلیمنٹ کے اندر ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی اور باہمی جھگڑالو باتوں کے بجائے ضروری ہے کہ پارلیمانی روایات کے مطابق قومی اور عوامی مسائل کو مل جل کر حل کیا جائے کہ عوام مایوس ہوئے تو نتائج بہتر نہیں ہوں گے۔

مزید : رائے /اداریہ