لیڈر شپ کا تصور

لیڈر شپ کا تصور
لیڈر شپ کا تصور

  



پچھلے ایک ماہ میں سیاسی محاذ پر بڑی ہلچل رہی۔ یکے بعد دیگرے کچھ غیرمعمولی واقعات پیش آئے،یوں حکومت اور میڈیا بہت مصروف رہے۔ عوام تو ہمیشہ سے تماشائی ہوتے ہیں، لیکن ان دِنوں تو عوام نے سسپنس سے بھرپور کھیل دیکھا۔ پہلے مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں دھرنا دیا۔ دھرنا اب ہماری سیاست میں اہم عنصر کے طور پر داخل ہو گیا ہے۔ ہر دھرنے پر بڑی قیاس آرائیاں ہوتی رہیں۔ کچھ باتوں میں ہم نے بحیثیت قوم بڑی جدت پیدا کی ہے۔

مثلاً دھرنے کے لئے جدید سہولتوں سے آراستہ کنٹینر کا استعمال، سیاست میں راستہ کھولنے کے لئے جدید کنٹینر اور عوام کے ردعمل کو روکنے کے لئے پھر کنٹینروں کا استعمال۔ علامہ طاہر القادری نے دسمبر کی سردی میں اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا، اُن کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے باقاعدہ ایک معاہدہ کیا۔ اب اُس معاہدے کے نکات کے بارے میں شاید ہی کسی کو کچھ یاد ہو۔اُن پر کس قدر عمل ہوا، یہ سوال بھی پرانا ہو گیا ہے۔ پھر علامہ خادم حسین رضوی کا دھرنا ہوا،وہ بھی کچھ سیاسی فائدے اور کچھ نقدی سمیٹنے کے بعد ختم ہو گیا……لیکن اِس راہ پر نکتہ عروج عمران خان کا 126 دن کا دھرنا ایک ریکارڈ تھا، اس میں کیا کیا روایتیں ڈالی گئیں، یہ بھی اب تاریخ کا حصہ ہے، لیکن اس دھرنے کے بعد اب یہ پتہ چلا کہ ڈی چوک میں دھرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ ظاہر ہے ایک ریکارڈ بن گیا ہے تو اِسے توڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، لہٰذا اب مولانا نے شہر سے باہر ایک پُرامن دھرنا دیا۔ اس دھرنے کے اسرار و رموز بھی پوری طرح ابھی تک آشکار نہیں ہوئے۔ قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ لوگوں کو یقین نہیں آ رہا کہ یہ مشق بلامقصد تھی۔

قوم ابھی پوری طرح دھرنا کلچر کے اثرات سے باہر نہیں آئی تھی کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی بیماری ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی۔ میڈیا نے بتایا کہ مرحلہ وار کس طرح پی ٹی آئی کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بیماری کا ٹریک ریکارڈ رکھا،وہ روزانہ اپنی قیادت کو اس سے مطلع کرتی رہیں۔وہ اب بھی اپنے اس بیان پر قائم ہیں کہ نوازشریف کی کنڈیشن Critical ہے۔ عدالت نے انہیں باہر جانے کی مشروط اجازت دے دی۔وزیراعظم عمران خان نے ساری معلومات کی بنیاد پر رضامندی ظاہر کی اور کہا کہ انہیں رحم آ گیا۔یہ اگرچہ ایک چھوٹی بات تھی، لیکن رحم کے بعد تو کسی بات کی گنجائش نہیں رہتی، لیکن افسوس اُس کے بعد انہوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔

لوگ حیران ہیں کہ پہلے رحم کھا کر اجازت دی اور پھر شور کیوں؟ خود عمران خان نے اپنے رویے سے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اجازت شایدکسی اور نے دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ساری صورتِ حال میں کس کا قد بلند ہوا؟ یہ وزیراعظم کے سوچنے کی بات ہے۔نوازشریف کا معاملہ ابھی چل رہا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کا قضیہ سامنے آ گیا۔پھر یہ معاملہ انتہائی سنجیدہ ہو گیا، کیونکہ ریاست کے دو نہایت اہم ادارے فوج اور عدلیہ اس میں ملوث ہو گئے۔ اس کی تفصیلات اب عام ہو چکی ہیں،البتہ اس کا آخری پارٹ ابھی باقی ہے۔اس ایشو کے بہت سے پہلو ہیں، لیکن ایک بات پر تقریباً لوگوں کا اتفاق رائے پایا گیا کہ حکومت نے اس انتہائی حساس معاملے کو بُری طرح مس ہینڈل کیا۔ اس معاملے میں حکومت کی نااہلی پر تو حکومت کے پُرجوش حامی بھی متفق پائے گئے۔ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس معاملے کو کس طرح سمیٹا جائے گا۔

اس دوران پنجاب حکومت کی کارکردگی کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آ گیا۔ جب سے یہ حکومت برسراقتدار آئی ہے،پنجاب میں حکمرانی کا مسئلہ مسلسل خبروں اور تبصروں کا موضوع چلا آ رہا ہے۔ حکومت کے مخالف تو وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی شخصیت اور کارکردگی سے محظوظ ہو رہے ہیں، لیکن حکومت کے حامی پریشان ہیں۔ میڈیا میں وہ لوگ، جنہوں نے تحریک انصاف کا راستہ صاف کرنے کے لئے دن رات ایک کر دیا تھا، وہ بھی تقریباً اتفاق رائے سے پنجاب کے وزیراعلیٰ سے مایوس ہو چکے ہیں،بلکہ بزدار کی مسلسل حمایت پر وزیراعظم عمران خان کے رویے سے جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں۔ قدرتی طور پر موازنے کے لئے شہبازشریف کی حکمرانی کا ریکاروڈ سامنے لایا جاتا ہے،

پھر جب کچھ لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ اس طرح تو وہ مسلم لیگ حکومت کا کیس مضبوط کر رہے ہیں تو اس پر مزید پریشان ہو جاتے ہیں۔ اب صورت حال کا مجموعی جائزہ لیں تو کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا حکومت جہالت، غربت اور بیروزگاری جیسے مسائل کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے یا مخالفوں پر فتح پانے کی جنگ۔ حکومت کو اس معاملے میں کم از کم اپنی ترجیح تو واضح کرنا ہو گی۔ پچھلے دنوں اُن کے ایک اتحادی اور پرانے کھلاڑی چودھری پرویز الٰہی نے سلیم صافی کے ساتھ انٹرویو میں ایک معنی خیز بات کہی کہ حکومت مخالفوں کو دھڑا دھڑ اندر کرنے کا نام نہیں،بلکہ ڈلیوری کا نام ہے۔ پھر یہ کہ کیا حکومت نت نئے بحرانوں سے نمٹنے میں مصروف رہے گی یا یکسوئی سے اپنے اصل مقصد، یعنی لوگوں کی زندگیاں آسان بنانے او مجموعی طو رپر ملک کو آگے لے جانے کے ایجنڈے پر کبھی کام کر سکے گی؟ بہت سے بحران بھی انہوں نے اپنی غلط سوچ یا نااہلی سے پیدا کئے ہوئے ہیں۔

حکومت کی ناکامیوں کی داستان تو کافی طویل ہے، لیکن یہی کافی ہے کہ جمہوری پارلیمانی نظام میں مرکزی ادارہ پارلیمنٹ ابھی تک پوری طرح فنکشنل نہیں ہو سکا۔ اب کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ اپوزیشن کے عدم تعاون کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔ اگر یہ مان بھی لیں تو پھر بھی یہ طے ہے کہ یہ حکومت کے بنیادی فرائض میں شامل ہے کہ وہ تمام اداروں کو فنکشنل کرے۔ تمام اہم فریقوں کو ایک پیج پر لائے۔پارلیمنٹ کو جمہوری نظام میں مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے، اِسے فنکشنل کئے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔ جمہوری نظام میں اپوزیشن اقتدار میں جونیئر پارٹنر ہوتی ہے، لیکن حکومت اُسے دشمن سمجھتی ہے یہ سوچ بدلنی ہوگی۔ حکومت دورے کرنا، تقریریں کرنااور صرف افسروں کے تبادلے کرنے کا نام نہیں ہے۔

حکومت نے ملک اور معاشرے کو آگے لے کر جانا ہوتا ہے، اگر وہ ایسا نہیں کر سکے گی، تو وہ اپنے مقصد میں ناکام ہو گی اور اس صورت میں نقصان صرف حکومت کا نہیں،پوری قوم کا ہوگا۔ حکومت صرف انتظامی معاملہ نہیں، ملک چلانے کے لئے تمام اداروں کے ساتھ ساتھ سوسائٹی کے اہم طبقوں، دانشوروں، وکلاء اور سول سوسائٹی کو بھی ایک پیج پر لانا ہو گا۔اس مقصد کے لئے تعصب، نفرت اور انا جیسے منفی جذبوں سے اوپر اُٹھنا پڑے گا۔ کسی نہ کسی طرح اقتدار حاصل کرنابھی ایک کامیابی ہے، لیکن لیڈر شپ کے مظاہرے کے لئے اپنے آپ کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ روزمرہ کی کے معاملات سے ہٹ کر کسی وژن کو عملی جامہ پہنانا بہت آگے کا سفر ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...