کپتان جی! یہ ظلم کا نظام کب ختم ہوگا؟

کپتان جی! یہ ظلم کا نظام کب ختم ہوگا؟
کپتان جی! یہ ظلم کا نظام کب ختم ہوگا؟

  



کچھ روز پہلے پوری دنیا کے سامنے انگلینڈ کی بارڈر ایجنسی نے اپنے ملک کی ناجائز اور غیر قانونی دولت کا سراغ لگایا، جس کے متعلق معلوم ہوا کہ یہ پاکستان کے ایک نامی گرامی پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی دولت ہے…… اس کے آگے کی کہانی زبان زد عام ہے……کچھ برس پہلے پاکستان کی ایک عام سی ماڈل لڑکی کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک کسٹم انسپکٹر نے پکڑا،جس سے ڈالر کی صورت میں بہت بڑی رقم برآمد ہوئی۔ پورے پاکستان میں ہاہا کار مچی، میڈیا کو بھی ریٹنگ ملی، پھر اس عام سی ماڈل سے وہ لڑکی بہت مشہور ہوئی۔ جیل میں اس کی شان و شوکت کے چرچے ہوئے، جیل سے عدالت آتے جاتے وی آئی پی پروٹوکول ملتا رہا، ہمارے میڈیا میں تمام پاکستان کے مسائل کو نظرانداز کر کے اس لڑکی کے پہناوے اور انداز کی خبریں چلتی رہیں۔ اس کے بعد جو نتیجہ تھا وہ یہ کہ اس لڑکی کو پکڑنے والا انسپکٹر قتل ہو کر اپنے محکمے کے تمام لوگوں کے لئے عبرت کا نشان بنا کہ آئندہ کوئی ایسی غلطی نہ کرے۔ باقی تاریخ ہے۔

اس سے پہلے سوئٹزلینڈ کے ایک بینک میں ساٹھ کروڑ ڈالر کا انکشاف ہوا کہ یہ رقم غیر قانونی ذرائع، عرف عام میں کرپشن سے کمائی گئی ہے اور منی لانڈرنگ کے ذریعے سوئٹزلینڈ پہنچائی گئی ہے، لہٰذا بین الاقوامی قانون کے مطابق یہ رقم پاکستان واپس لے سکتا ہے، لیکن اس کیس کو ثابت کرنے،پھر این آر او کے بعد اس کو ختم کرنے کے لئے اس پر 40 لاکھ ڈالر مزید خرچ کیے گئے۔ اس کے بعد ایک زورآور چیف جسٹس صاحب نے ازخود نوٹس لے کر ساری قوم کو اپنی طرف متوجہ کر لیا،ایک وزیراعظم کو کھڑے کھڑے سزا ہو گئی اور وزرات عظمیٰ سے نااہل ہو کر فارغ ہو گئے، لیکن ”کتا پھر بھی کنوئیں“ میں ہی رہا، پھر 2016 آیا اور پاناما لایا، 4 سو سے زائد لوگوں کے بارے میں انکشافات ہوئے کہ انہوں نے پاکستان سے اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں، جن سے اب یہ دولت واپس لی جائے گی۔

بالآخر ان چار سو میں سے اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے اہل و عیال سرفہرست آئے، دھرنے ہوئے،میڈیا ریٹنگ ایک بار پھر آسمان کو چھونے لگی، اس کے آگے باقی پھر تاریخ ہے۔ ان دنوں لندن میں مسلم لیگ(ن) کی جماعتی میٹنگیں جاری ہیں۔ پاکستان سے ٹاپ کی ساری قیادت جہازوں کی بزنس کلاس میں بیٹھ کر لندن پہنچ چکی ہے اور 5 سٹار رہائشوں میں لطف اندوز ہو رہی ہے۔ یہ پہلی بار ہو رہا ہے،نہ آخری بار کہ ہمارے ملک کی سیاسی جماعتوں کی میٹنگیں لندن میں ہو رہی ہیں۔ البتہ کبھی کبھار دوبئی میں بھی ہو جاتی ہیں۔ پیپلزپارٹی ہو یا ایم کیو ایم، مسلم لیگ(ن) ہو یا عوامی نیشنل پارٹی سب نے یہ روایت قائم رکھی ہے۔ جمہوریت کا میثاق ہو یا کسی سیاسی اتحاد کا جوڑ توڑ،یہ سب لندن ہی میں ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ دوبئی،امریکہ اور یورپ میں پاکستانیوں کی دولت اور جائیدادوں کی گونج پوری دنیا میں سنائی دیتی ہے، لیکن یہ سب کچھ کالم میں لکھنے کی مجھے ضرورت کیوں پیش آئی ہے؟ وہ اس لئے کہ یہ پاکستان کی تصویر کا ایک رخ ہے۔ اب ذرا دوسرا رخ بھی دیکھ لیجیے۔ یہ خاکسار آزادکشمیر ضلع میرپور میں اس سال اکتوبر میں آنے والے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کچھ امدادی کام کر رہا ہے، جبکہ اکتوبر 2005 والے متاثرین کے دکھوں سے بھی واقف ہوں، کیونکہ ان میں بھی کئی متاثرین ابھی تک امداد سے محروم ہیں۔ اس سال آنے والے زلزلے کے متاثرین کو حکومت کی طرف سے ابھی تک ایک پیسے کی مدد نہیں ملی ہے۔ یہ ناچیز دو روز پہلے پورے علاقے کا وزٹ کر کے اور چند گھرانوں کی مدد کر کے آیا ہے۔ ابھی تک لوگ سرکاری امداد کے منتظر شدید سردی میں خیموں کے اندر یا کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں،خطرہ ہے کہ کئی بچے اور بوڑھے شاید سردی کی شدت برداشت نہ کر سکیں۔

یہ تو ہیں زلزلہ متاثرین کے حالات، اس کے علاوہ ہر سال پاکستان میں بیسیوں لوگ بھوک و افلاس کے ہاتھوں تنگ آکر اپنے بچوں سمیت خودکشیاں کرتے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔ کروڑوں لوگ موذی بیماریوں کا شکار علاج معالجے کی سہولت سے محروم ہیں …… (اصل بیماری اوپر بیان کیے گئے دولت مند ہیں)……اسی ملک کے دو کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ ہم مان لیتے ہیں کہ ساری دنیا میں اونچ نیچ اور غریبی امیری ہے، لیکن پاکستان شاید ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں اس اونچ نیچ کی انتہا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ باقی سب چھوڑ بھی دیں، صرف انگلینڈ سے واپس آنے والی 38 ارب روپے کی رقم سے کیا آزادکشمیر کے تمام زلزلہ متاثرین کو بحال نہیں کیا جا سکتا؟ مسلم لیگ(ن) کے ایک لندن اجلاس پر خرچ ہونے والی رقم سے بیسیوں خاندانوں کی غربت ختم کر کے خود کشیوں سے نہیں بچایا جا سکتا؟ ملک ریاض کو پاکستانی سپریم کورٹ سے ہونے والے جرمانے سے اس کی دولت اور کرپشن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،

لیکن پاکستان پھر بھی غریب ملک ہے؟ اس حد تک معاشی ناہمواری کسی خونی انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ ڈرو اس وقت سے جب اللہ کا قہر نازل ہو گا اور یہ غریب تمہاری بوٹیاں نوچ لیں گے۔ لوگ ابھی تک نئے پاکستان کا انتظار کر رہے تھے۔ کچھ ابھی بھی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ مَیں بھی ان میں شامل ہوں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا کپتان ایماندار ہے اور بہت جلد اس کرپشن پر قابو پاکر عوام کو ریلیف دے گا، لیکن یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ یہ اب خونی انقلاب سے بچنے کا آخری موقع ہے۔ بھلے مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی والے اس انتظار میں ہوں کہ کپتان ناکام ہوتا ہے تو ہماری باریاں واپس آتی ہیں، لیکن عوام کچھ اور ہی سوچ رہے ہیں۔ اب یہ ظلم کا نظام زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گا۔ آزادکشمیر میں عوامی اتحاد پہلے ہی اس ظلم کے خلاف جدوجہد کا آغاز کر چکا ہے اور طبقاتی جنگ کی دہلیز پر کھڑا ہے۔

مزید : رائے /کالم