بے نشاں منزل، رائیگاں سفر

بے نشاں منزل، رائیگاں سفر

  



زندگی قدرت کا سب سے بڑا تحفہ ہے، اس کے بعد غور وفکر سب سے بڑی عنایت کہ اسی سے انسان عام بانجھ ہڈیوں کے ڈھانچے سے پھل دار شجر میں تبدیل ہوتا ہے اور دوسروں کو نفع بخشتا ہے۔عام انسان ہو یا حکمران،غور و فکر سے ہی اس کی شخصیت کو ایسی ناموری نصیب ہوتی ہے جو ہمیشہ قائم و دائم رہتی ہے۔امام شافعی فرماتے ہیں: ”گفتگو پر خاموشی اور حصول علم کے لئے غور و فکر سے امداد طلب کرو…… کاموں کے بارے میں اچھی طرح سوچ سمجھ لینا ناکامی سے بچاتا ہے، عمدہ رائے شرمندگی اور حد سے زیادہ بڑھنے سے بچاتی ہے، ارادہ کرنے سے پہلے سوچ، کام کرنے سے پہلے غورو فکر اور قبل از وقت مشورہ حاصل کر، حکمت، جس کا دارو مدار غور وفکر پر ہے، پاک بازی،جس کا دارومدار شہوت سے اجتناب ہے، قوت جس کا دارو مدار غصہ ہے اور عدل جس کا دارومدار قوائے نفسانی کے اعتدال پر ہے …… حکمت کے بغیر گول سیٹ نہیں ہوتا۔منزل کا تعین نہ ہو تو صحیح راستے پر پیش قدمی کی جاسکتی ہے،نہ ہم سفروں کا چنا ؤ ممکن ہوتا ہے۔ پہلا قدم غلط ہو تو باقی کا سفررائیگاں ……عمران خان کے ڈیڑھ سالہ دور پر بھی نظر دوڑائی جائے تو بے نشاں منزل کی طرف شوق سفر،آوارگی کے سوا کچھ نہیں، کبھی وزراء کی تبدیلی تو کبھی بیورو کریسی کی اکھاڑ پچھاڑ،پہلا قدم ہی غلط، منزل کا تعین ہی نہیں تو ٹیم کا چناؤ کیسے ہو؟

صرف ایک قدم اٹھا تھا غلط راہ شوق میں

منزل تما م عمر مجھے ڈھونڈتی رہی

غور و فکر کے بغیر حکمت جنم نہیں لیتی اور بغیر حکمت کے بولے گئے الفاظ قیمت وصول کرکے رہتے ہیں۔غلط مشوروں کا کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے……عزالدولہ کے جہاندیدہ وزیر محمد بن تقیہ سے کسی نے پوچھا کبھی تم نے بادشاہ کو غلط مشورہ دیا تو محمد بن تقیہ نے کہا: ”غلط مشورے دینا اور ناشائستہ الفاظ کا استعمال کبھی نہ کبھی برے انجام سے ضرور دوچار کرتے ہیں“۔ پنجاب کی تاریخ کے سب سے کمزور وزیر اعلیٰ کو(جس کو اس کے اتحادی بھی کہہ رہے ہیں کہ بس کام چل رہا ہے) شیر شاہ سوری سے ملانا وزیر اطلاعات کی ذہنی عدم بلوغت اور تاریخ سے ناواقفیت کا منہ بولتا ثبو ت ہے۔ وہ شیر شاہ سوری کہ جسے اکبر اعظم کے بعد ہندوستان کا سب سے بڑا حکمران مانا جاتا ہے۔مشہور مورخ کا لکا رنجن لکھتا ہے: ”اگر شیر شاہ سوری کو مزید پانچ سال مل جاتے تو اسے اکبر سے بھی بڑا حکمران مانا جاتا“…… شیرشاہ سوری کہا کرتا تھا: ”حکمران وہ ہے جو اپنی آنکھ سے دیکھے، اپنے کانوں سے سنے، وہ آرام طلب نہ ہو اور اس کا عوام سے براہ راست رابطہ ہو،مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے اور مظلوم کو بروقت انصاف دلانے میں ذرا دیر نہ کرے“۔ کہاں عثمان بزدار ……کہ ساہیوال میں دن دیہاڑے معصوم لوگوں کو پولیس نے بھون ڈالا اور ان کی روحیں چیخ چیخ کرانصاف کی دہائی دے رہی ہیں،صوبے میں لگتا ہی نہیں کوئی حکومت نام کی چیز موجود ہے۔ روز ڈاکے، چوریاں اور سر عام لوٹ مار ہو رہی ہے۔

لاہور شہر کے وسط میں پاکستان ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ محترمہ عصمت طاہرہ کے گھر سے چور سب کچھ لوٹ کر لے گئے۔ اس قدر دیدہ دلیری کر ساٹھ انچ کا ایل ای ڈی بھی پیک کرکے لے گئے، لیکن ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزرا، پولیس نے کچھ نہیں کیا، اُلٹا کہا یہ ان کی اپنی کارستانی لگتی ہے۔جس کی چوری ہوئی اسی پر شک بھی کر دیا۔وہ اب خوف کے مارے اپنا ہرا بھرا گھر، جہاں کتنی محنت سے پودے لگائے تھے،چھوڑ کر اسٹیٹ لائف سوسائٹی کے ایک چھوٹے سے مکان میں جانے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ مَیں نے پوچھا گھر کیوں چھوڑا؟ تو مایوسی سے کہنے لگیں: ”پہلے چور نے میرا گھر دیکھا تھا، اب پولیس نے بھی دیکھ لیا ہے، چور تو شائد پلٹ کر نہ آئے، لیکن پولیس کا کوئی اعتبار نہیں۔ پولیس کے رویے سے لگتا ہے، انہوں نے چور پکڑنے ہیں نہ میری جیب میں کوئی دھیلا رہنے دینا ہے۔ یہ ہے بدلی ہوئی پولیس اور یہ ہے اب لوگوں کا اس پر اعتبار“ ……شیر شاہ کی توہین کرنے والے وزیر صاحب سے تاریخ پر رحم کی اپیل ہے۔

ایسے وزیر ہوں گے تو وزیراعلیٰ کیا کارکردگی دکھائے گا جو بغیر کارکردگی شیر شاہ سوری بن گیا۔الف لیلوی کہانیوں کا دور کب کا گزر چکا،بادشاہوں کے دور کے شاہی فرمان بھی تاریخ کی کتابوں میں دفن ہو چکے، جب بادشاہ سلامت کسی سے بھی خوش ہو کر اسے کسی صوبے کا والی بنا دیتے تھے۔، یہ اکیسویں صدی ہے، باشعور قوم جو عمران خان کی ٹیم کے ایک ایک کھلاڑی کی کارکردگی پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور اس کا موازنہ ان لوگوں سے کر رہی جو عمران خان کے بقول نااہل اور کرپٹ تھے، لیکن جب کارکردگی دیکھی جائے تو ان نااہلوں اور کرپٹ لوگوں کو بہتر ماننا پڑتا ہے۔ عمران خان اپنی ڈیڑھ سالہ حکومت کی کارکردگی سوائے انتقام کے اور کچھ بیان نہیں کر پار ہے۔ انہیں شائد خود بھی اندازہ نہیں کہ انتقام کی سیاست ان کے رتبے اور عہدے کی قدر کم کر رہی ہے۔امیر تیمور کسی پر بہت زیاہ برہم تھے،آنکھیں لال،انتقامی فرمان جاری ہونے ہی والا تھا کہ شہزادی خانزادہ نے کہا: ”اے امیر! فاتح وہ ہے جو بادشاہ اور فقیر دونوں کا قصور معاف کردے،جب کوئی معافی کا درخواستگار ہو تو پھر اسے دشمن تصور نہیں کرنا چاہئے، ایک فاتح جب کسی کو کوئی چیز عنایت کرتا ہے تو پھر اس سے معاوضے کا طلبگار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا غضب کسی مخصوص شخص یاگروہ پر نازل ہوتا ہے“۔ امیر تیمور کہتا ہے، ان الفاظ نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا۔

عمران خان کو سمجھنا ہو گا کہ انتقامی سیاست نہیں، انتظامی حکومت ان کی کامیابی اور عزت کا باعث بنے گی۔ نفرتوں کے اس رویے سے پارلیمنٹ کمزور ہو رہی ہے،سیاست دانوں کی ساکھ خراب ہو رہی ہے، ہر سیاسی مسئلہ عدالت کے سامنے جائے گا تو یہ ان کی نااہلی ہے۔عمران خان صاحب،کرکٹ ٹیم اور ریاست کا نظم و نسق چلانے میں فرق ہوتا ہے،چلیں چھوڑیں اب تو کرکٹ ٹیم کا بھی برا حال ہوچکا۔ریلو کٹے ایک دو سیریز ہروا سکتے ہیں، لیکن حکومتوں میں ریلو کٹے شامل کر لئے جائیں تو پھر پوری قوم ہار جاتی ہے اور ملک بہت پیچھے چلے جاتے ہیں۔آپ نے مالیاتی خسارہ کم کر لیا، لیکن قوم کس قدر خسارے کا شکار ہو چکی ہے، اس پر بھی غور کیجئے۔ بچوں کو پوری خوراک نہ ملنے سے ان کی گروتھ پوری نہ ہونے والے اپنے مشہور اقوال تو آپ کو یاد ہوں گے، اب ان غریب سے غریب ہوتے بچوں کی پوری خوراک کا کیا ہوا ہو گا؟ اس خسارے کا بھی کبھی تخمینہ لگائیے گا۔ریلو کٹوں سے مرکز چل سکتا ہے، نہ صوبے، یہ کروڑوں عوام کے صوبے ہیں، گیارہ لوگوں کی کرکٹ ٹیم نہیں، جہاں منصور اختر اور سلیم جعفر کو کھلا کہ جیتا جا سکتا ہے۔ضد چھوڑیں، اہل لوگ صوبوں پر لگائیں۔ تزک بابری میں ظہیر الدین بابر لکھتا ہے: ”خراسان سے کابل جاتے ہوئے جب ہم چراغ دان پہنچے تو شدید برفباری شروع ہو گئی۔برف اس قدر بلند تھی کہ راستے کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا اور ہمیں راستہ بھی معلوم نہیں تھا۔قافلے کے میر قاسم بیگ سے مشورہ ہوا کہ کابل کس راستے سے چلیں؟

میری اور اکثر کی رائے تھی کہ قندھار سے چلنا چاہئے۔ گو راستہ تھوڑا دور ہے،مگر بغیر کسی رکاوٹ سے چلتے جائیں گے،جبکہ پہاڑی راستے میں خوف اور دشواری ہے، لیکن قاسم بیگ نے کہا،وہ راستہ دور کا ہے اور یہ پاس کا اور اس پر اڑ گیا کہ ہم اسی سے جائیں گے ……بابر کہتا ہے: اس راستے میں جو تکلفیں، مشکلیں اور بیماریاں اٹھائیں اس پر مجھے یقین تھا کہ ہم راستے میں ہی مر جائیں گے۔ ایک شخص کی ضد کی وجہ سے ہم پر جو بیتی، وہ ناقابل بیان ہے“۔عمران خان صاحب بھی اپنے انتخاب پر ضد پکڑ گئے ہیں، صوبوں پر کیا گزر رہی ہے اور لوگ کس تکلیف میں ہیں،اس کا انہیں اندازہ نہیں۔ اپنی ضد پوری کرنے کے لئے سب کو قربانی کا بکرا بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔کبھی بیورو کریسی میں تبدیلی تو کبھی وزیروں کی چھٹی۔ صوبے پہلے سے بھی برے حالات کا شکار ہیں، گڈگورننس پھر بھی نظر نہیں آرہی،مگر عمران خان اتنی سی بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حاکم جب کمزور ہو تو اہلکار خود کو حاکم تصور کرنے لگتے ہیں۔ عمران خان میڈیا پر غصہ نکالیں، نہ اپنے اتحادیوں کے بیانات پر خفا ہوں، حقیقت تسلیم کریں کہ آپ نے غلط لوگوں کو لگا رکھا ہے،جن سے اپنے عہدوں سے انصاف نہیں ہو رہا۔ ان میں اہلیت نہیں کہ وہ کارکردگی دکھا سکیں۔ آپ صرف وزیراعظم بن کر رہنے کے ساتھ ساتھ اپنی حکومت کے گول سیٹ کریں، ایک واضح منزل جب تک آپ کے سامنے نہیں ہوگی، اہل لوگ تعینات نہیں ہو سکیں گے۔ اگر سلسلہ یونہی چلتا رہا تو پانچ سال مزید ضائع ہو جائیں گے اور بس ڈنگ ٹپاؤ حکومت چلتی رہے گی۔ پاکستانی تبدیلی کے حسین خواب اور منزل کی تلاش میں بھٹکتے رہیں گے اور شکوہ کرتے رہیں گے؟

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

مزید : رائے /کالم