نوشہرہ،بیسک ایجوکیشن کمیونٹی کی درجنوں خواتین اساتذہ کی تنخواہیں بند

      نوشہرہ،بیسک ایجوکیشن کمیونٹی کی درجنوں خواتین اساتذہ کی تنخواہیں بند

  



نوشہرہ (بیورورپورٹ) بیسک ایجوکیشن کیمونٹی پراجیکٹ کی درجنوں خواتین اساتذہ کی کئی ماہ سے تنخواہیں بند 23سال سے غریب بچوں  اور بچیوں کو پڑھانے والی خواتین اساتذہ کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کئی ماہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف خواتین اساتذہ سراپا احتجاج نوشہرہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے ایک ماہ کا الٹی میٹم بصورت دیگر ڈی چوک اور بنی گالہ کے سامنے دھرنے کی دھمکی مظاہرین کی قیادت ریاست بیگم، الفت جلال، غزالہ، نسیم اظہار، نگہت سلطان، آسیہ  اور دیگر کر رہی تھیں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بیسک ٹیچر زایسوسی ایشن ضلع نوشہرہ کی صدر ریاست بیگم، آسیہ، الفت جلال، صداقت، فرزانہ، غزالہ، نسیم اظہار اور دیگر مقررین نے کہا کہ ہم گذشتہ 23سالوں سے اپنے اپنے علاقوں میں غریب بچوں اور بچیوں کو پڑھا رہی ہیں لیکن ان 23سالوں کے بعد انتہائی مہنگائی کے اس دور میں بھی ہمارے تنخوہ ا 8000روپے ہے اور وہ بھی کئی کئی ماہ بعد دیاجاتا ہے جوکہ ہمارے ساتھ ناانصافی اور معماران قوم کی محنت و عظمت کی توہین ہیانہوں نے کہا کہ ہم حکومت وقت کے ساتھ شرح خواندگی بڑھانے میں تعاون کر رہے ہیں کیونکہ اگر ہم نے ان غریب بچوں اور بچیوں کو پڑھنا بند کر دیا تو اس نہ صرف چایلڈ لیبر میں اضافہ ہوگا جبکہ تعلیم سب کے لئے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہونا ممکن نہیں انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ساتھ موجودہ حکومت کی اہم شخصیت شہریار آفریدی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہمیں مستقل بنیادوں پر بھرتی کے حکم نامے جارے کریں گے لیکن وہ اور ان کی حکومت اپنے وعدے سے مکر گئی ہے ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمیں مستقل بنیادوں پر بھرتی کریں اور ہماری تنخواہیں میں مہنگائی کی تناسب سے اضافہ کرکے ہر ماہ باقاعدگی سے تنخواہیں ادا کریں تاکہ ہم احساس محرمی کے شکار نہ ہو ں بصورت دیگر ہم اپنے مطالبات کے حق میں ڈی چوک اور بنی گالہ کے سامنے دھرنا دینے پر مجبور ہوجائیں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...