کوہاٹ،اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ خزانے پر بوجھ بن گیا

      کوہاٹ،اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ خزانے پر بوجھ بن گیا

  



کوھاٹ (بیورو رپورٹ) اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ خزانے پر بوجھ بن گیا گزشتہ ایک سال میں محکمے کی پرفارمنس شرمناک رہی ڈویژن بھر میں کوئی بھی بڑا کیس نہ کیا جا سکا محکمہ سرف پروانے بجھوانے تک محدود‘ تفصیلات کے مطابق کوھاٹ ڈویژن میں محکمہ اینٹی کرپشن خزانے پر بوجھ بن کر رہ گیا ہے محکمے کے افسران اور اہلکاروں کی کرپشن کے خاتمے میں عدم دلچسپی کی وجہ سے جہاں سرکاری محکموں میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اینٹی کرپشن افسران کی نرم دلی اور مبینہ مک مکاؤ پالیسی کی وجہ سے بعض کنٹریکٹرز جن کے خلاف شکایات یا اخبارات میں خبریں شائع ہوتی ہیں وہ دعا کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کا کیس اینٹی کرپشن کے پاس جائے تاکہ انہیں کلین چٹ مل سکے گزشتہ کئی سالوں سے کوھاٹ اینٹی کرپشن میں جو افسران تعینات ہوئے ان کی اگر ریکارڈ دیکھا جائے تو وہ مبینہ طور پر سہولت کار زیادہ دکھائی دیتے ہیں جس کی وجہ سے درجنوں انکوائریوں میں کسی کے خلاف کارروائی نہ ہو سکی سونے پر سہاگہ اگر کسی سرکاری افسر یا کنٹریکٹر کے خلاف FIR درج بھی ہو جائے تو اس کو گرفتاری سے قبل علم ہو جاتا ہے اور BBA کروا لیتا ہے اس وقت اینٹی کرپشن کوھاٹ میں درجنوں ایسے افسران کے خلاف کیسز ہیں جو BBA کروانے کے بعد آزادانہ گھوم رہے ہیں موجودہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو آئے گو کہ کم عرصہ ہوا ہے مگر تاحال وہ بھی کسی بڑے مگرمچھ یا چھوٹی مچھلی کا شکار نہ کر سکے دوسری جانب اینٹی کرپشن کوھاٹ میں صرف محکمہ ٹی ایم اے‘ کے ڈی اے وغیرہ کے درجنوں ایسے کیسز ہیں جن میں اگر ایمانداری سے انکوائری کی جائے تو نہ صرف کرپٹ افسران اور اہلکاروں کو سزا ہو سکتی ہے بلکہ قومی خزانے کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے عوامی حلقوں کے مطابق اس وقت کوھاٹ کے مردہ محکمہ اینٹی کرپشن میں جان ڈالنے کے لیے ستار خٹک جیسے پولیس افسران کی سخت ضرورت ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر