30سالہ جنگ اور اس کے بعد (1)

30سالہ جنگ اور اس کے بعد (1)
30سالہ جنگ اور اس کے بعد (1)

  



ہمہ اختیار اور مطلق العنان بادشاہوں کا عہد مذہبی جنگوں کی راکھ سے ابھرا۔ ان مذہبی جنگوں کا نقطہء عروج وہ مشہور و معروف جنگ تھی جسے یورپ کی ”تیس سالہ جنگ“ کہا جاتا  ہے اور جو 1618ء سے لے کر 1648ء تک لڑی گئی۔ اس جنگ کے آخری پندرہ سال ان گھناؤنے اور مکروہ معرکوں پر مشتمل ہیں جن میں فاقہ زدہ عوام کے غول کے غول افواج کے ہمرکاب چلتے تھے۔]ایک مصنف مسٹر گنڈ لے (Gindley) نے اپنی کتاب ”تیس سالہ جنگ“میں لکھا ہے کہ ایک معرکے میں لڑنے والے افراد کی تعداد اڑتیس ہزار تھی جبکہ ان کے پیچھے پیچھے ایک لاکھ ستائیس ہزار افراد پر مشتمل عورتوں اور بچوں کا جم غفیر بھی چلا آ رہا تھا۔[ جب 1648ء میں آخر کار اس جنگ کا خاتمہ ہوا اور معاہدہ ویسٹ پھالیہ (West phalia) وجود میں آیا تو وسطی یورپ کا بیشتر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں اسی لاکھ انسان لقمہ اجل بن گئے۔ ان میں وہ آٹھ لاکھ پچاس ہزار سپاہی شامل نہیں جو جنگی معرکوں میں کام آئے۔

تھورنجیا(ایک ریاست کا نام) کے ایک ضلع کے  19دیہات میں 1717 مکانات تھے جن میں سے جنگ کے خاتمے پر صرف 627سلامت بچے، باقی راکھ کا ڈھیر بن گئے۔ اسی طرح بوہیمیا(یہ بھی ایک ریاست کا نام ہے) میں 35ہزار دیہات میں سے صرف 6ہزار ایسے بچے جن میں زندگی کے کچھ آثار باقی تھے اور بیس لاکھ کی آبادی سکڑ کر صرف سات لاکھ رہ گئی۔ اس جنگ کی ہولناکی کا اندازہ کیجئے کہ لوگوں کو ازراہ مجبوری اپنے مردہ بھائیوں کا گوشت تک کھاناپڑا۔ طرح طرح کے توہمات عام ہو گئے۔ اخلاقی پستی کا گراف اس قدر نیچے گر گیا کہ 1625ء سے 1628ء کے درمیانی چار برسوں میں ورزبرگ (Wurzburg) کے پادری کو 9ہزار ایسے لوگوں کو زندہ جلانے کا حکم دینا پڑا جو جادو،ٹونے، منتر اور اسی طرح کے توہمات سے عام لوگوں کو ورغلانے کے دھندوں میں ملوث تھے۔ نیس (Neisse)کا علاقہ جو سلیشیا کا ایک حصہ ہے اس میں بھی صرف ایک سال (1640-41ء) میں ایک ہزار جادوگروں کو زندہ جلایا گیا۔

اس جنگ کی یہی بربریت اور وحشت تھی جس نے لوگوں کو اٹلی میں پندرہویں صدی عیسوی کے ”پرامن طرز جنگ“ کی طرف لوٹ جانے پر مجبور کیا۔ (اور یہ دوسری انتہا تھی)اٹلی کی یہ جنگیں وہاں کے صوبوں مثلاً فلورنس اور میلان وغیرہ میں لڑی گئیں۔ ان میں ہوتا یہ تھا کہ فریقین انتہائی تربیت یافتہ اور پیشہ ور کرائے کے سپاہیوں کو بھرتی کر لیا کرتے تھے۔ کرائے کے ان سپاہیوں سے تشکیل دی گئی اس فوج کو تاریخ میں کونڈوٹیری (Condottieri) کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ صرف حصولِ زر کی خاطر لڑتے تھے۔ ایک سال وہ کسی ایک شہزادے کی فوج میں بھرتی ہو جاتے اور دوسرے سال اس کے مخالف کی فوج سے جا ملتے۔ جنگ ان کے لئے محض ایک کاروبار اور کسبِ معاش کا ذریعہ تھی۔ اس لئے وہ دشمن کے جنگی قیدیوں کو قتل کر دینے کی بجائے ان کے عوض بھاری تاوان وصول کرکے اپنی جیبیں بھرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ چونکہ جنگ باقاعدہ ایک تجارت سمجھی جاتی تھی اس لئے اس کا جلد خاتمہ کرنے کی بجائے اس کو طول دینا ان کے مفاد میں تھا۔ چنانچہ ایک اطالوی مورخ گو سیار ڈینی (Guicciar Dini)لکھتا ہے: ”یہ لوگ کسی ایک مستحکم اور مضبوط مورچے کے محاصرے پر موسم گرما کے پورے چھ مہینے ضائع کر دیتے۔یوں معلوم ہوتا کہ جنگ ختم ہی نہ ہو گی اور مہم اختتام ہی کو نہ پہنچے گی۔ شیطان کی آنت کی طرح لمبی اس جنگ کا جب خاتمہ ہوتا تو پتہ چلتا کہ اس میں ایک بھی سپاہی ہلاک نہیں ہوا…… جب پندرھویں صدی کا اختتام ہونے کو آیا تو کرائے کے سپاہیوں کی اس اطالوی فوج (کنڈوٹیری) کے ”عظیم کپتانوں“ نے یہ انکشاف فرمایا کہ:  ”جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ مکاری، عیاری اور چالاکی سے جیتی جاتی ہیں“۔اللہ اللہ خیر سلّا!

ان سپاہیوں کے بارے میں سرچارلس اومان (Oman) یوں رقم طراز ہے: ”جب کاروبار جنگ کو کرائے کے ان سپاہیوں کے ہاتھوں میں سونپ دیا گیاتو پھر جنگ، جنگ نہ رہی، شطرنج کا کھیل بن گئی یا صرف ایک ٹیکٹیکل مشق (Tactical Exercise) ہو کے رہ گئی، جس کا مقصد یہ قرار پایا کہ دشمن کو گھیر گھار کر ایک ایسی صورت حال سے دوچار کر دیا جائے کہ اس کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہ رہے۔ خواہ مخواہ قیمتی جانوں کو ضائع کرنا اور جان لیوا لڑائیوں کا ایک سلسلہ قائم کرنے کا کیا فائدہ؟ بعض اوقات یہ افواج ”نوراکشتی“ میں ملوث ہو جاتیں۔ یعنی پہلے سے فیصلہ کر لیا جاتا کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا۔ گاہے گاہے یہ بھی ہوتا کہ بددیانت مکہ بازوں (باکسرز) کی طرح معرکے کا خاتمہ ہار جیت کا فیصلہ ہوئے بغیر، پہلے سے طے شدہ فیصلے کے مطابق کر دیا جاتا…… یعنی خون کا ایک بھی قطرہ بہائے بغیر لڑائیاں لڑی جاتیں۔ میکیاولی نے ایسے بہت سے ”معرکوں“ کا ذکر کیا ہے جن میں جنگی قیدیوں کی تعداد تو سینکڑوں ہزاروں میں تھی لیکن جان سے ہاتھ دھونے والوں کی تعداد دو یا تین سے زیادہ نہ تھی!

کرائے کے سپاہیوں کی یہی باہمی آویزشیں اور نمائشی جنگیں تھیں جن کی کوکھ سے خارجہ سفارت کاری کے فن نے جنم لیا اور ایک سپاہی کی قوتِ بازو اور ایک عام شہری کے حقوق کے مابین جو فرق تھا وہ سامنے آنا شروع ہوا۔ چنانچہ تاریخ میں اٹلی کو ایک ایسی تجربہ گاہ(لیبارٹری) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس میں سولہویں اور سترہویں صدی عیسوی کے اولیں سفارت کاروں اور قانون دانوں کی کھیپ تیار ہوئی……

اب ہم اس دور کے ماہرینِ قانون اور ان کے جنگی نظریات کا ذکر کرتے ہیں ……

ماہرین قانون میں ہوگو گروٹی ایس (Hugo Grotius) (1583-1645ء) وہ پہلا ممتاز قانون دان تھا جس نے ”تیس سالہ جنگ“ کے دوران اپنی مشہور تصنیف موسوم بہ ”جنگ کا مطالعہ“ (Study Of War) میں لامحدود جنگوں کی غارت گری اور بین الاقوامی لاقانونیت کے خلاف محاذ کھولا۔ یہ کتاب بین الاقوامی قانون کی ایک ٹیکسٹ بک شمار ہوتی ہے جس میں وہ جنگ و جدال میں اعتدال کا رویہ اپنانے کی سفارش کرتا ہے، ننگی جارحیت کے خلاف ہے اور دشمن ملک کو تہس نہس کرنے اور اس کی سول آبادی کو ہلاک کرنے میں نرم روی اور توازن کا درس دیتا ہے۔ تیس سالہ جنگ کے ختم ہونے کے فوراً بعد تھامس ہوبس  (1679ء۔ 1588ء) نے بھی ایک کتاب لکھی جس کا نام لیوی آتھن (Levi Athan) رکھا۔ اس کتاب میں وہ لکھتا ہے: ”یہ عقل و دانش کا ایک عمومی قاعدہ کلیہ ہے کہ ہر شخص جہاں تک ممکن ہو حصولِ امن میں کوشاں رہے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو پھر جنگ سے حاصل ہونے والے فوائد کے حصول کی طرف توجہ دے۔“یعنی اولاً تو وہ فطرت کے ازلی قانون یعنی حصولِ امن کی بات کرتا ہے اور پھر فطرت ہی کے دوسرے ازلی حق یعنی جنگ کا تذکرہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اپنا دفاع کرنا ہمارا حق ہے۔

تاہم نہ گروٹی ایس، نہ ہو بس اور نہ ہی سترہویں اور اٹھارویں صدی“ کے کسی اور ماہر قانون نے یہ موقف اختیار کیا کہ جنگ کو یکسر ”دیس نکالا“ دے دیا جائے۔ ان لوگوں میں اتنی عقل ضرور تھی کہ وہ معرکہء حرب و ضرب کو کلیتاً خارج از امکان قرار دینے کی حماقت نہیں کر سکتے تھے کہ ایسا صرف ”احمقوں کی جنت“ ہی میں ہو سکتا ہے۔ تاہم ان کا اصرار تھا کہ جنگ کی تباہ کاریوں اور بربادیوں کو اعتدال کے دائرے میں لایا جائے۔ اس ”اعتدال“ والے موضوع کو امیرچ ڈی وائل (Emmerich De Vattel) (1714-69ء) نے اپنی تصنیف ”دی لاء آف نیشنز“ میں تفصیل سے واضح کیا ہے۔ یہ کتاب 1758ء میں شائع ہوئی۔ اس میں وہ سوال کرتا ہے: ”چونکہ دونوں فریقین جنگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا مقصود عدل و انصاف ہے تو ان میں پھر منصف کون ہو گا؟ اور کون جھوٹ اور سچ کا فیصلہ کرے گا؟“…… پھر خود ہی جواب دیتا ہے: ”چونکہ اس تنازع کا کوئی منصف، کوئی جج نہیں تو لازم آتا ہے کہ ہم ایسے قانون کی پیروی کریں جس کے ذریعے جنگ کا ایک ضابطہ مقرر کر لیا جائے۔ وہ اسی ضابطہ یا ان ضوابط کے مجموعہ کو ”رضاکارانہ قانون برائے اقوام عالم“ قرار دیتا ہے۔

وہ لکھتا ہے: ”اس ضابطہ جنگ کا پہلا قانون یہ ہے کہ جنگ کے تمام اثرات کا اطلاق یکساں طور پر تمام فریقین جنگ پر کیا جائے۔ ایسا کرنا بہت ضروری ہے۔ جنگ آتشیں اسلحہ کا کاروبار ہے اور اس کاروبار میں باقاعدگی اور نظم و ضبط پیدا کرنے کے لئے لازم ہے کہ حصول امن کے لئے ایک دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا جائے۔ اس کے علاوہ کوئی اور قاعدہ یا قانون مرتب کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو گا کہ باہم مصروفِ پیکار اقوام اس کھیل میں کسی کو بھی ریفری تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گی“۔

آگے چل کر ڈی وائل مزید لکھتا ہے: ”جنگ اور اس کے اثرات کے بارے میں اور جنگ میں قبضہ کی جانے والی املاک کے بارے میں، عدل و انصاف کے تقاضے خارجی عوامل پر نہیں بلکہ ان وسائل اور ان ذرائع پر استوار سمجھے جائیں گے جن سے یہ جنگ لڑی گئی۔ دوسرے لفظوں میں ہر اس چیز پر جو کسی ’باقاعدہ جنگ‘ کا باعث بنتے ہیں“۔

پھر وہ جنگوں میں اختیار کئے جانے والے طریقوں کے بارے میں یوں رقم طراز ہے: ”دشمن کو بلاوجہ جو نقصان پہنچایا جاتا ہے بلکہ جارحیت کا ہر وہ اقدام جو جنگ کو اختتام تک لانے اور حصول کی فتح کی خاطر نہیں اٹھایا جاتا وہ ہوسِ ملک گیری اور اوباشی کہلائے گا اور یہ امر قانونِ فطرت کے خلاف ہے“۔

اس نکتے کی مزید تشریح کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے: ”لیکن یہ اوباشی اور یہ ہوسِ ملک گیری ایک ایسا جرم ہے جس کی کچھ بھی سزا نہیں دی جاتی اور دنیا کی ساری اقوام اس کو جائز سمجھ کر برداشت کر لیتی ہیں۔ اس تناظر میں دیکھیں تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گا کہ جنگ کو ختم کرنے میں کتنا ظلم اور کتنی جارحیت درکار تھی۔ اور آیا جتنی درکار تھی اتنی ہی استعمال کی گئی یا اس سے تجاویز کیا گیا اور اگر ”مقدارِ جارحیت“ حتمی طور پر متعین بھی کر دی جائے تو متحارب اقوام کس کو منصف تسلیم کریں گی؟ ہر قوم کا اپنا نقطہء نظر، اپنا استدلال ہو گا اورہر قوم اپنے فرائض کی بجا آوری میں اپنے انفرادی عمل کو حق بجانت قرار دے گی۔ اگر کوئی قوم کسی دوسری قوم کے خلاف ناروا افعال اور ناجائز تجاوزات کا دروازہ کھول دے گی تو شکایات کا انبار بڑھتا ہی چلا جائے گا اور فریقین کے دلوں میں بغض و عناد کی آگ مزید بھڑکتی جائے گی، نئے زخم ابھر آئیں گے اور کسی فریق کی تلوار اس وقت تک نیام میں نہیں جائے گی جب تک دونوں فریقوں کا بیڑہ غرق نہیں ہو جاتا…… اس لئے یہ بات ضروری ہے کہ اقوام کے درمیان ایسے عمومی قاعدے اور ضابطے تشکیل دیئے جائیں جو کسی مخصوص صورت حال کی پیداوار نہ ہوں اور جن کا اطلاق کسی جبر و اکراہ کے بغیر ہو سکے…… لیکن جو قوانین وضع کئے جاتے ہیں وہ اس کسوٹی پر پورے نہیں اترتے اور ان سوالوں کا جواب نہیں دیتے جو جنگوں کی فضا میں فریقین کے دلوں میں پیدا ہو جاتے ہیں ……“(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم


loading...