پراسیکیوٹرز کے ذمہ داری پوری نہ کرنے سے انصاف کی فراہمی مشکل عمل: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

پراسیکیوٹرز کے ذمہ داری پوری نہ کرنے سے انصاف کی فراہمی مشکل عمل: چیف جسٹس ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سردارمحمد شمیم خان نے کہا ہے کہ پراسیکیوٹرز کے ذمہ داری پوری نہ کرنے سے انصاف کی فراہمی مشکل عمل ہے،وہ گزشتہ روز پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں جینڈر بیسڈ وائیلنس قوانین اورجنرل ٹریننگ پروگرام کے افتتاحی سیشن سے خطاب کررہے تھے،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار محمد شمیم خان نے مزیدکہا کہ انسان کا سیکھنے کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے، ہمارا دین بھی ہمیں پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک علم حاصل کرنے کا درس دیتا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء اور ججوں کے لئے سیکھنے کا عمل جاری رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ بدلنے قوانین ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہمیشہ پڑھنے اور سیکھنے کے عمل کو جاری رکھیں،انہوں نے مزید کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا اعزاز ہے کہ پاکستان کی پہلی جینڈر بیسڈ کورٹ لاہور میں قائم کی گئی اور اس کے بعد یہ سلسلہ پورے پاکستان میں شروع ہوگیاہے، جینڈر بیسڈ وائیلنس کورٹ ہماری عدلیہ کا بہت اہم پراجیکٹ ہیں، یہ ہمارے معاشرے کے مظلوم طبقے کیلئے امید کی اخری کرن کی حیثیت رکھتی ہیں۔، قبل ازیں افتتاحی سیشن سے ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی حبیب اللہ عامر اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی نمائندہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تربیتی پروگرام کے اغراض و مقاصدبیان کئے،تقریب میں سیشن جج ہیومن ریسورس ساجد علی اعوان،جینڈر بیسڈ کورٹس کے پراسیکیوٹرز اور جنرل ٹریننگ پروگرام کے تحت آٹھویں تربیتی کورس کے ایڈیشنل سیشن ججوں اور سول ججوں نے شرکت کی۔

جوڈیشل اکیڈمی

مزید : صفحہ آخر


loading...