مختلف اضلاع میں وکلاء کا ضابطہ فوجداری قوانین میں ترامیم کیخلاف بائیکاٹ جاری 

    مختلف اضلاع میں وکلاء کا ضابطہ فوجداری قوانین میں ترامیم کیخلاف بائیکاٹ ...

  



پشاور،اضلاع (نیوز رپورٹر،نمائندگان پاکستان)خیبرپختونخوا بار کونسل کی  کال پرصوبہ بھرکی وکلاء برادری نے ضابطہ دیوانی میں حکومتی ترامیم کے خلاف تین روزہ عدالتی بائیکاٹ کاآغاز کردیاہے اورہڑتال کے پہلے روز پشاورہائی کورٹ اورصوبہ بھرکی ماتحت عدالتوں میں کوئی بھی وکیل پیش نہ ہوا جس کے باعث ہزاروں مقدمات کی سماعت بغیرکارروائی کے ملتوی کردی گئی اورسائلین مایوس لوٹ گئے جبکہ جبکہ جیلوں میں پڑے قیدیوں نے بھی وکلاء کی آئے روزہڑتالوں کے خلاف آوازبلند کردی ہے  واضح رہے کہ خیبر پختونخوا بار کونسل نے ضابطہ دیوانی ترمیمی ایکٹ 2019کو مسترد کرتے ہوئے اس کیخلاف پیر9دسمبر سے تین روزہ عدالتی بائیکاٹ کااعلان کیاہے اورحکومت کو متنبہ کیاکہ اگرحکومت نے ان ترامیم کو واپس نہ لیاتواگلے مرحلے میں باقاعدہ احتجاجی تحریک شروع کی جائے گیاوکلاء کی نمائندہ تنظیموں بشمول خیبرپختونخوابارکونسل ٗ ہائی کورٹ بار و ڈسٹرکٹس بار نے ضابطہ دیوانی میں حالیہ حکومتی ترامیم اور کے پی کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹانس ایکٹ کو یکسرمسترد کردیا، ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ قوانین بنیادی حقوق کیخلاف ہیں،نئے قوانین سے نہ صرف عدالتوں پر بوجھ بڑھے گا بلکہ عوام پربھی براہ راست اثرپڑے گا۔نئے قوانین کی تیاری سے قبل نہ تو بارایسوسی ایشن نہ ہی خیبرپختونخوا بار کونسل کو اعتماد میں لیا گیا، اس اقدام سے انصاف کی فراہمی مزید مشکل ہوجائیگی اور مالی اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا۔دوسری جانب وکلاء کے آئے روز ہڑتالوں پر سائلین اورجیلوں میں پڑے قیدی سراپااحتجاج ہیں اورانہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اوروزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ وکلاء کی ہڑتالوں پر پابندی عائد کی جائے ٭  باجوڑ بار ایسوسی ایشن نے ضابطہ دیوانی میں ترامیم مسترد کردی۔خیبر پختونخواہ بار کونسل کے ہدایت پر ضلع باجوڑ میں بھی وکلاء کا ہڑتال جاری۔ عدالتی امور ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ باجوڑ بار ایسوسی ایشن کے صدر جاوید شاہ ایڈوکیٹ، جنرل سیکرٹری اکرام درانی ایڈوکیٹ، سینئر نائب صدر نصیر احمد ایڈوکیٹ اور دیگر عہدیداروں نے باجوڑ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضابطہ دیوانی میں ترامیم کو مستر د کرتے ہیں۔ مذکورہ ترامیم سے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ترامیم میں سیشن فورم کو ختم کرنا اور ہائیکورٹ کو پہلے اپیل کیلئے رجوع کرنا عوام کے مسائل میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ سیشن فورم کو ختم کرنے اور ہائیکورٹ بنچ کو پہلے اپیل کیلئے رجوع کرنے سے ملاکنڈڈویژن اور خصوصاََ ضم شدہ ضلع باجوڑ کے سائلین کے مشکلات میں اضافہ کریگا کیونکہ پورے ملاکنڈ ڈویژن میں ایک ہائیکورٹ بنچ ہے جس میں پورے ڈویژن کے کیس فائل ہیں اور 6ماہ میں ایک تاریخ کی شنوائی کی باری آتی ہے اور غریب عوام ہائیکورٹ میں اپنی پیروی کیلئے وکیل کو بھاری فیس دینا پڑیگا اور ساتھ ساتھ سوات کو سفر بھی کرنا پڑیگاجوکہ عوام کے مفاد کیخلاف ہے۔ باجوڑ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے عوام کو گھر کی دہلیز پر انصاف میسر نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سیشن جج کے فورم کو ختم کرنا ہائیکورٹ کو سیشن کورٹ بنانے کے مترادف ہے۔ مقررین نے کہا کہ کمیشن کے ذریعے شہادت قلمبند کرنا اگر حکومت کے خرچہ پر ہو تو بھی ضرورت کے تحت ہونا چاہئے کیونکہ عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالنا انصاف کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔ مقررین نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دیوانی مقدمات میں ترامیم کی ہیں جنہیں ہم متفقہ طور پر مسترد کرتے ہیں کیونکہ ان ترامیم سے عوام کے مسائل گھٹنے کی بجائے مزید بڑھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ہائیکورٹ پر مزید بوجھ بڑے گا جو صوبے کے ہائی پروفائل کیسز کی وجہ سے پہلے سے ہی زیادہ ہے۔جاوید شاہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ صوبے کو تجربہ گاہ نہ بنایا جائے، حکومت نے ایسی ترامیم کی ہیں جن کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے، دوسرے اضلاع سے لوگ ہائیکورٹ جائیں گے تو ہائیکورٹ پر بوجھ بڑے گا، ہائیکورٹ میں ججز کی کمی ہے کیسز بڑھ جائیں گے تو پھر کام نہیں ہوگا۔صوبائی بار کونسل کے ہدایت پر باجوڑ بار کونسل نے بھی تین روزہ ہڑتال شروع کی ہیں اور کوئی بھی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہورہاہے جس کیوجہ سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہواہے اور عدالتی امورٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں ٭دیوانی و منشیات قوانین میں ترمیم کے خلاف چارسدہ میں وکلاء سراپا احتجاج۔چارسدہ بار ایسوسی ایشن کا صوبائی بار کونسل کی ہدایت پر تین روزہ ہڑتال۔ وکلاء کی احتجاجی ریلی۔حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی۔وکلاء کی ہڑتال کی وجہ سے سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا۔تفصیلات کے مطابق دیوانی و منشیات قوانین میں ترمیم کے خلاف چارسدہ بار ایسو سی ایشن  کے وکلاء نے صوبائی بار کونسل کی کال پر عدالتوں سے مکمل بائیکاٹ کرکے احتجاجی ریلی نکالی۔ احتجاجی وکلاء بینرز اور پلے کارڈ ز اٹھا رکھے تھے جس پر نئی قانون سازی کے خلاف نعرے درج تھے۔ احتجاجی وکلاء سے خطاب کر تے ہوئے چارسدہ بار ایسو سی ایشن کے صدر احمد شاہ خان ایڈو کیٹ، جنرل سیکرٹری سیف اللہ خان ایڈوکیٹ اور صوبائی بار کونسل کے ممبر سریر خان ایڈو کیٹ نے کہا کہ نئی قانون سازی سے سارا بوجھ سائیلین پر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماتحت عدالتوں سے اپیلوں کا حق لیکر انصاف کا خون کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے قانون سازی سے سائیلین پر نہ صرف مالی بوجھ بڑھے گا بلکہ ہائی کور ٹ پر مقدمات کا بوجھ بھی بہت بڑھ جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ قانون شہادت میں بھی وکلاء اور سائلین کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔صوبائی حکومت کی طرف سے قانون میں ترمیم عوام دشمنی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ مقررین نے واضح کیا کہا کہ نئی قانون سازی کو واپس نہ لیا گیا تو 14 دسمبر کو نئے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔دریں اثناء وکلاء کی ہڑتال کی وجہ سے ضمانتوں کے لیے لانے والے ملزمان کو واپس جیل اور تھانوں بھیج دیا گیا۔اس موقع پر کابینہ کے دیگر ممبران عدنان طاہرایڈوکیٹ،عمر ناصر ایڈوکیٹ،قاری نعمان ایڈوکیٹ، محمد الیاس ایڈوکیٹ اور دیگر سینئر وکلاء بھی موجو دتھے ٭شا نگلہ بار ایسوسی ایشن کا خیبر پختونخواہ بارکونسل کے کال پرشانگلہ کے وکلاء ضابطہ دیوانی اور CNSAمیں ترامیم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور ریلی،تحصیل بشام،پورن اور چکیسر میں بھی وکلاء کا احتجاجی مظاہرے۔عدالتوں کا بائیکاٹ۔سائلین کو مشکلات کا سامنا۔مظاہرے کی قیادت ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن شانگلہ کے صدر فیاض احمد چکیسری ایڈووکیٹ کر رہے تھے۔احتجاجی مظاہرہ ضلعی عدالتوں سے ہوتے ہوا پریس کلب شانگلہ پہنچی۔ احتجاجی ریلی میں شریک وکلاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جس پرخیبرپختونخوا سول امینڈمنٹ ایکٹ 2009 کو فی الفور واپس لینے اور CPC کو اصل حالت میں برقرار رکھنے اور CNSA میں ترامیم کرنے کے مطالبات درج تھے۔ احتجاج مظاہرے سے خطاب کرتے ہو ئے شانگلہ ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن الپوری کے صدر فیاض احمد چکیسری ایڈووکیٹ نے کہا کہ ضابطہ دیوانی اور امتناع منشیات ایکٹ میں ترامیم انصاف کے تقاضوں کے ا ور انسانی حقوق کے خلاف ہے جس سے سائلین کو انصاف کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔احتجاجی مظاہرے میں شانگلہ بارایسوسی ایشن کے جنرل سیکر ٹری نامدارعلی شاہ ایڈووکیٹ، محمد نعیم خان ایڈووکیٹ، شاہ فواد خان لیلونی ایڈووکیٹ، سلطان روم ایڈووکیٹ، شاہ ایرانی ایڈووکیٹ،فتحیاب علی خان ایڈوکیٹ،افسرالملک خان ایڈوکیٹ، واقف شاہ ایڈوکیٹ،مجیداللہ خان ایڈوکیٹ،صبور خان ایڈوکیٹ،سلیمان شاہ ایڈوکیٹ،شاہ ولی خان ایڈوکیٹ اور دیگر وکلاء بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ خیبر پختونخواہ بار کونسل کے ممبران اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے تمام بارز ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے اپنے اجلاس میں حکومت خیبر پختونخواہ کے حالیہ سی پی سی میں مجوزہ ترامیم کو مسترد کرکے مورجہ 9، 10 اور 11 دسمبر کو پورے صوبے میں مکمل ہڑتال کا اعلان کیاتھا٭

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...