ایبٹ آباد،معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر آگاہی سیمینار

  ایبٹ آباد،معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر آگاہی سیمینار

  



ایبٹ آباد(ڈسٹرکٹ رپورٹر) شعبہ فزیو تھراپی ایوب ٹیچنگ ہسپتال نے معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر ایک آگاہی سمینار کا انعقاد کیا۔جس کا مقصد معذور افراد کی بحالی، ان کی مدد،ان کے ساتھ برتاؤاور ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کرناہے۔اس پروگرام میں شعبہ نفسیات، نیورو سرجری، نیوروالوجی، آرتھوپیڈک کے ڈاکٹرز نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔پروگرام میں ڈین ایوب میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق، میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب، ہاسپٹل ڈائریکٹر ڈاکٹر ندیم اختر کے ساتھ تمام شعبوں کے ڈاکٹرز، نرسزاور سٹاف نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ہیلپنگ ہینڈ انسٹی ٹیوٹ آف ریہبلیٹیشن مانسہرہ کے پرنسپل ڈاکٹر کرامت اللہ، پاک آئرش ریہبلیٹیشن سروسز کے ڈائریکٹر بابر خلیل اور کالج آف فزیو تھراپی FIMSکے پرنسپل شعیب حیدر نے شرکت کی۔شعبہ فزیو تھراپی کے سربراہ ڈاکٹر فیصل احسن نے بتایا کہ اس وقت دنیا کی تقریبا 12فیصد آبادی کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہے اور اس میں سے 80 فیصد افراد ترقی پذیر ممالک میں پائے جاتے ہیں اور بنیادی طبی سہولیات، تعلیم کی سہولیات اور برابری کے حقوق سے محروم ہیں اس پروگرام کے انعقاد کا مقصد یہ آگاہی فراہم کرناتھا کہ معذور افراد کسی بھی معاشرے کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں انہیں طبی سہولیات کے علاوہ عزت و تکریم، تعلیم، روزگار، برابری کے حقوق بھی چاہیے ہوتے ہیں جس کے لئے ڈاکٹرز، حکومت، سماجی تنظیموں اور عام عوام کو مل کر کام کرنا ہو گا تا کہ وہ معاشرے میں ایک مثبت اور کارآمد شہری کی طرح اپنا کردار ادا کر سکیں۔ڈین پروفسیر ڈاکٹر عمر فاروق نے معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال اس دن کی تھیم معذور افراد کو بااختیار بنانا ہے انہیں وہ تمام وسائل مہیا کرنے ہیں جس کی بدولت وہ معاشرے میں ایک اہم کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال اور ایوب میڈیکل کالج میں اس وقت بے شمار معذور افراد ملازمت کر رہے ہیں اور انتہائی محنت اور جانفشانی سے اپنا کام کرتے ہیں ہم سب کو مل کر ان افراد کو بااختیار اور مضبوط بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر احسن اورنگزیب نے معذور افراد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جسمانی معذوری کا خاتمہ سوچ بدل کر کیا جا سکتا ہے مثبت انداز فکر اور انداز زندگی سے معذور افراد بھی معاشرے میں ایک بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔اور دنیا میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر آفتاب عالم نے معذور افراد کی ذہنی صحت پر تفصیل سے بات کی۔اور بتایا کہ دنیا میں اس وقت آدھے سے زیادہ معذوری، ذہنی امراض کی وجہ سے ہے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق 2030تک اموات کی سب سے بڑی وجہ ڈپریشن ہو گی اس لئے ہمیں جسمانی معذوری کے ساتھ ساتھ ذہنی معذوری پر بھی توجہ دینی ہو گی۔شعبہ آرتھوپیڈک سے پروفیسر ڈاکٹر عالم زیب نے کہا کہ آرتھوپیڈک اور فزیوتھراپی کا ایک گہرا تعلق ہے اور عموماہمارے مریض صرف سرجری سے ٹھیک نہیں ہوتے بلکہ اس کے بعد باقاعدہ فزیوتھراپی اور دیکھ بھال کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ شعبہ فزیوتھراپی میں جدید طبعی سائنسی اور تحقیقی بنیادوں پر مختلف قسم کی بیماریوں کا جدید مشینری کے ذریعے تشخیص کر کے علاج کیا جاتا ہے اور اور مریضوں کو ان بیماریوں سے بچاؤ کیلئے آگاہی فراہم کی جاتی ہے مثلا جن مریضوں کو حرکت میں دشواری جسمانی و اعصابی کمزوریاں درد کی شکایات وغیرہ ہوتی ہیں اس مقصد کے لئے مریضوں کو مختلف جدید مشینوں اور ورزشوں اور جدید ٹیکنیکس سے علاج کیا جاتا ہے۔اعلی تعلیم یافتہ فیزیو تھراپسٹ معائنہ کے بعد بیماری کا علاج اور تشخیص کرتے ہیں جو مریض کی جسمانی صلاحیتوں کو بہتر کر سکے اور درد ختم کرنے زخم یا چوٹ کی وجہ سے جو جسمانی مسائل درپیش آتے ہیں ان کو بچا سکیں یا ان کا علاج کرتے ہیں۔اس شعبہ کے متعلق تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے شعبہ فزیوتھراپی کے سربراہ فیصل حسن نے میڈیا سیل سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ شعبہ فیزیو تھراپی میں ہڈی، جوڑ، پٹھہ۔جوڑوں کی تبدیلی یا ہڈی جوڑنے کی۔ آپریشن کے بعد مریضوں کو دوبارہ چلنے کی قابل بنانا۔فالج، لقواء دماغ اور، حرام مغز کا چوٹ اور دوسری اعصابی بیماریاں چسٹ فیزیوتھراپی بلغم یا نمونیہ پرانی کھانسی کا علاج کیا جاتا ہے اس کے علاوہ مختلف قسم کی معذور بچوں کی پیدائش یا جسمانی اعصابی کمزوریوں کا مثلا پولیو ڈاؤن سنڈروم بچے کی پڑھنے میں دشواریاں وغیرہ بچوں کی مختلف اعضاء کی بحالی اور آپریشن کے بعدفزیوتھراپی کا علاج کیا جاتا ہے۔ATH۔ شعبہ فیزیوتھراپی۔ آئی سی یو، سی سی یو نیورو سرجری آئی سی یو تھوراسک سرجری اور سرجیکل آئی سی یو میں خدمات سر انجام دیتی ہے شعبہ فیزیو تھراپی ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں جدید سائنسی اور طبعی طریقوں سے علاج کے لئے جدید آلات میسر ہے۔ شعبہ فزیوتھراپی میں جدید طبعی سائنسی اور تحقیقی بنیادوں پر مختلف قسم کی بیماریوں کا جدید مشینری کے ذریعے تشخیص کر کے علاج کیا جاتا ہے اور اور مریضوں کو ان بیماریوں سے بچاؤ کیلئے آگاہی فراہم کی جاتی ہے مثلا جن مریضوں کو حرکت میں دشواری جسمانی و اعصابی کمزوریاں درد کی شکایات وغیرہ ہوتی ہیں اس مقصد کے لئے مریضوں کو مختلف جدید مشینوں اور ورزشوں اور جدید ٹیکنیکس سے علاج کیا جاتا ہے۔اعلی تعلیم یافتہ فیزیو تھراپسٹ معائنہ کے بعد بیماری کا علاج اور تشخیص کرتے ہیں جو مریض کی جسمانی صلاحیتوں کو بہتر کر سکے اور درد ختم کرنے زخم یا چوٹ کی وجہ سے جو جسمانی مسائل درپیش آتے ہیں ان کو بچا سکیں یا ان کا علاج کرتے ہیں۔ شعبہ فزیوتھراپی کے متعلق تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے شعبہ فزیوتھراپی کے سربراہ فیصل حسن نے بتایا کہ شعبہ فیزیو تھراپی میں ہڈی، جوڑ، پٹھہ۔جوڑوں کی تبدیلی یا ہڈی جوڑنے کی۔ آپریشن کے بعد مریضوں کو دوبارہ چلنے کی قابل بنانا۔فالج، لقواء دماغ اور، حرام مغز کا چوٹ اور دوسری اعصابی بیماریاں چسٹ فیزیوتھراپی بلغم یا نمونیہ پرانی کھانسی کا علاج کیا جاتا ہے اس کے علاوہ مختلف قسم کی معذور بچوں کی پیدائش یا جسمانی اعصابی کمزوریوں کا مثلا پولیو ڈاؤن سنڈروم بچے کی پڑھنے میں دشواریاں وغیرہ بچوں کی مختلف اعضاء کی بحالی اور آپریشن کے بعدفزیوتھراپی کا علاج کیا جاتا ہے۔ATH۔ شعبہ فیزیوتھراپی۔ آئی سی یو، سی سی یو نیورو سرجری آئی سی یو تھوراسک سرجری اور سرجیکل آئی سی یو میں خدمات سر انجام دیتی ہے شعبہ فیزیو تھراپی ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں جدید سائنسی اور طبعی طریقوں سے علاج کے لئے جدید آلات میسر ہے۔ جدید آلات کی بدولت یہ شعبہ طبی بحالی کا اہم مرکز تصور کیا جاتا ہے۔شعبہ فیزیو تھراپی نہ صرف بحالی کے تمام سہولیات فراہم کرتا ہے بلکہ معذور افراد کی دیکھ بحال کے حوالے سے آگاہی پیداکرنے کے لئے آگاہی پروگرام منعقد کرواتا رہتاہے

مزید : پشاورصفحہ آخر