موسم سرما اور شادی بیاہ کی تقریبات

موسم سرما اور شادی بیاہ کی تقریبات

  



اس بار موسم سرما کی سردی میں بتدریج اضافہ ایک خاموشی کے ساتھ ہور ہا ہے۔ دن میں حدت سے محروم دھوپ چمکتی ہے اور شام کو سائے جب گہرے ہونا شروع ہوتے ہیں تو فضا میں شدید خنکی کا احساس بڑھ جاتا ہے موسم کی یہ کیفیت صحت بارے قدرے احتیاط کی متقاضی ہے۔ ایسے موسم میں ذرا سی بے احتیاطی سنگین جسمانی عوارض کا باعث بن سکتی ہے۔ اس حوالے سے خواتین اور بچوں کے بارے میں خاصی توجہ کی ضرورت ہے،لیکن افسوس کہ خواتین اور بچے دونوں ہی سردی کے حوالے سے لاپراہی برتتے ہیں۔ اس امر کا مظاہرہ میں شادی بیاہ کی تقریبات میں عموماً دیکھتی اور پریشان ہوتی ہوں۔بہرحال موسم سرما شادیوں کے انعقاد کے لئے موزوں ترین سمجھا جاتا ہے۔ رنگ برنگے ملبوسات زیب تن کرنے کی خواہش کے ساتھ ساتھ پر لذت طعام کی طلب بھی اس موسم میں اپنے جوبن پرہوئی ہے۔

بہر طور حقیقت یہ ہے کہ موسم سرما شادی بیاہ کی تقریبات میں حسن، لطافت، جولانی، تازگی اور جوش و جذبہ بھر دیتا ہے۔ یہ ایسا موقع ہوتا ہے کہ دونوں فریق کے خاندان بھرپور خوش دلی کے ساتھ تقریبات میں شرکت کرتے اور ماحول کو رونق بخشتے ہیں۔

شادی بیاہ کی تقریبات میں گو پہلے جیسی گہما گہمی نہیں رہی۔ ڈیجٹیل ایج Digital age نے اس خوبصورت سماجی تقریب کو بھی گہنا دیا ہے۔گھوڑے کی سواری، باجے گاجے، ناچ گانے،جوتا چھپائی اور دودھ پلائی وغیرہ عنقا ہوئے ہیں اور اب ساری تقریب بہت حد تک ڈرون اور ڈی جیز کی مرہون منت ہو گئی ہے۔

بہرحال خوشی کا یہ ایک ایسا موقعہ ہے کہ بچے ہوں یا بوڑھے سبھی اس کی روایات سے محظوظ ہوتے ہیں۔ خواتین تقریب پر پہننے کے لئے اپنے ملبوسات اور گہنوں پر خاص توجہ دیتی ہیں۔ شادی کی تاریخ سے بہت پہلے ہی درزیوں کے پھیرے شروع ہو جاتے ہیں۔ نت نئے ڈیزائن زیر غور آتے اور حتمی پسند پر پورا اترتے ہیں۔ وقت کی مناسبت سے رنگوں کا خاص دھیان رکھا جاتا ہے، جبکہ لباس کی تراش و خراش میں موسم کا لحاظ برتا نہیں جاتا، سردی لگتی ہے تو لگے، فیشن متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ البتہ دلہن کے جوڑے پر اب بھی اسراف سے کام لیا جاتا ہے۔ دلہن کا پہناوا خواہ ایک دن کے لئے ہو، اس پر ہونے والا خرچہ بساط سے بڑھ کر ہی ہوتا ہے ایک وقت تھا جب لہنگوں اور غراروں کا رواج نہیں تھا۔ گوٹے والے سوٹ زیادہ پسند کئے جاتے تھے، عروسی پہناوے پر چاندی کا سُچا گوٹہ استعمال ہوتا تھا۔ فیروزی رنگ پر سفید طلے کا گوٹہ جبکہ سرخ اور کیسری رنگ کے کپڑوں پر گولڈن گوٹہ لگایا جاتا تھا۔ اب زردوزی کے کام کو پسند کیا جاتا ہے۔ لہنگوں پر سلمٰی ستارہ کا کام کیا جاتا ہے جیسے زری کا کام کہتے ہیں۔ زیورات کے انتخاب میں البتہ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔اب نقلی زیورات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ نقلی زیورات بھی اتنے سستے نہیں ہیں۔ تاہم ان میں ورائٹی بہت ہے اور دیکھنے میں اصل سے بھی زیادہ جاذب نظر اور دلکش ہیں۔ پھر روز مرہ کے حالات ایسے ہیں کہ اصل زیورات کا استعمال کم ہوتا جا رہا ہے ایسے کئی ناخوشگوار واقعات علم میں آئے ہیں کہ خواتین کو زیورات سے محروم ہونا پڑا ہے۔ لوگوں کی استطاعت بھی پہلے جیسی نہیں رہی۔ متوسط طبقے کے لوگ اب تین سے پانچ تولے میں دلہن کا مکمل زیور بنواتے ہیں اور نقلی زیورات بھی پہناتے ہیں جو آج کل کے زمانہ میں معیوب نہیں سمجھا جاتا۔

یہ بات صحیح ہے کہ شادی بیاہ کی تقریبات کی روایات میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے تاہم ان کا جوش و جذبہ ویسے ہی تروتازہ رہتا ہے۔ان تقریبات کے توسط سے جو خاندانی بندھن استوار ہوتے ہیں وہ انسانی سماج و معاشرے پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔بچے، جوان اور بوڑھے چونکہ سبھی اس میں شریک اور مشغول ہوتے ہیں اس لئے یہ مواقع ان کی یادداشتوں کا قیمتی اور لازوال سرمایہ بن جاتے ہیں۔ موسم سرما میں منعقد ہونے والی شادی بیاہ کی یہ تقریبات البتہ اپنا جدا گانہ تاثر پیدا کرتی ہیں۔

شادی بیاہ کی تقریبات میں وقت کی پابندی نے جہاں بہت سی فضول باتوں کو باطل کیا ہے وہاں لوگوں کے لئے کچھ پریشانیاں بھی پیدا کی ہیں۔ تاہم اس کا ایک سبب لوگوں کے اپنے رویئے سے متعلق بھی ہے لوگ وقت کے پابند نہیں ہیں اور نہ ہی نظم و ضبط پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سڑکوں پر ٹریفک کا اژدہام بڑھتا ہے اور گھروں سے تاخیر سے نکلنے والے تقریب کے اختتام پر شادی گھروں میں پہنچتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ گھروں سے وقت پر نکلا جائے اور تقریب پر پہنچنے کے لئے ایسے راستوں کا انتخاب کیا جائے جن پر ٹریفک کم ہو۔

ٹریفک کی اس بے ہنگمی نے بہت سی قباحتیں پیدا کر دی ہیں۔ جو دلہنیں بیوٹی پارلر سے شادی گھروں میں پہنچتی ہیں وہ عموماً دیری کا شکار ہوتی ہیں۔ انہیں اس بات کا بطور خاص اہتمام کرنا چاہئے کہ وہ بناؤ سنگھار سے وقت پر فارغ ہوں اور تقریب میں مقررہ وقت سے پہلے پہنچ جائیں۔ دلہنوں لڑکیوں اور بالیوں کے لئے یہ تقریب بے حد اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ محظوظ ہوں۔ بہرحال دولہا، دلہن سمیت سبھی کے لئے یہ موقعہ خوشی و انسباط کا ہوتا ہے۔ یہ دو گھروں کا ملاپ ہی نہیں ہوتا، بلکہ سماج کی دیوار میں اس اینٹ کی چنائی کی مانند ہے جو دیوار کی خوبصورتی اور مضبوطی میں اضافہ کرتی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...