ہواؤں کا رخ بدلنے لگا، بی آر ٹی، مالم جبہ ریفرنسز بھی تیار ہیں: جسٹس (ر) جاوید اقبال، نیب خبروں پر ردعمل دینا چھوڑ دے: صدر عارف علوی 

  ہواؤں کا رخ بدلنے لگا، بی آر ٹی، مالم جبہ ریفرنسز بھی تیار ہیں: جسٹس (ر) ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ کرپشن کے بڑے بڑے چھکے مارنے والے آج شکنجے میں ہیں یا پھر ملک چھوڑ گئے ہیں، حکومت نے معاملات میں کبھی دخل اندازی نہیں کی، بی آر ٹی اور مالم جبہ سکینڈل کے ریفرنسز بھی تیار ہیں، ہواؤں کا رخ بدلنے لگا ہے، چند ہفتے میں دیکھیں گے۔ چیئرمین نیب جاوید اقبال نے انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا معاشرے میں خوبصورت یا بدصورت شکل میں کرپشن موجود ہے، کرپشن کے مکمل خاتمے کا دعویٰ نہیں کرسکتے، یہ جنگ ایک سسٹم کے خلاف ہے، بدعنوانی کا خاتمہ ہر پاکستانی کا فرض ہے، ہم اپنے ہر قول و فعل کیلئے پروردگار کے سامنے جوابدہ ہیں۔جاوید اقبال کا کہنا تھا بادشاہت یا شہنشاہت میں احتساب کا تصور نہیں، اقتدار کی ہوس کی خاطر ملک میں عجیب و غریب تجربات کیے گئے، خود احتسابی کے اچھے نتائج نکلیں گے، ایک وہ طبقہ بھی موجود ہے جس کو نیب سے کافی شکایات ہیں، کسی کے کفن میں جیب نہیں ہوتی، عوامی امنگوں کو سامنے رکھ کر قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے، 72 سال کا مرض ہے، شفایابی کیلئے قوم کو یکجا ہونا ہوگا، کرپشن کے خاتمے کیلئے پہلی اینٹ ہم نے رکھ دی ہے۔چیئرمین نیب نے مزید کہا حکومتیں آتی جاتی ہیں، پاکستان نے ہمیشہ قائم رہنا ہے، پاکستان نے تا قیامت قائم و دائم رہنا ہے، کرپشن ایک کینسر ہے، سرجری کی ضرورت ہے، 382 بلین کی ریکوری کی ہے، 2017 کے بعد 153 بلین کی ریکوری ہے، عدالتوں میں 1261 بدعنوانی کے کیسز زیر التوا ہیں، 1261 کیسز 943 بلین کے ہیں، 1261 ریفرنسز کیلئے صرف 25 عدالتیں ہیں، قانون میں لکھا ہے 30 دن میں فیصلہ کریں، ہر سیاستدان اور بیوروکریٹ کی عزت کرتے ہیں۔جاوید اقبال نے کہا تعصب، بیروزگاری کی وجہ بدعنوانی ہے، جو جائیداد انگریز نہیں خرید سکتے وہ پاکستانیوں نے خرید رکھی ہیں، کسی گٹھ جوڑ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہمارا گٹھ جوڑ صرف پاکستان سے ہے، ریاست مدینہ کے خواب کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے، کچھ تعبیروں کیلئے صرف محنت کی ضرورت ہے، ریاست مدینہ کیلئے حکومت کو خود رول ماڈل بننا ہوگا، ریاست مدینہ میں کسی کو کسی پر تقویت نہیں، ریاست مدینہ کیلئے مربوط پالیسی بنائیں، لوگ اسلامی نظام کیلئے ترس رہے ہیں۔چیئرمین نیب کا کہنا تھا ویکسین نہ ہونے کے باعث بچوں نے ماؤں کی گود میں دم توڑا، کروڑوں روپے فنڈز کے باوجود کتے کے کاٹنے سے بچاؤ کی ویکسین نہیں، میں خود بیوروکریٹ رہا ہوں، مسائل کا علم ہے، عبادت سے جنت اور لوگوں کی خدمت سے رب ملتا ہے۔

چیئرمین نیب       

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)صدر مملکت عارف علوی کا کہنا ہے کہ نیب اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں پر ردعمل دینا چھوڑ دے۔انسداد بدعنوانی کے عالمی دن پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر عارف علوی کا کہنا تھا احتساب طاقتور اور بڑے آدمی سے شروع ہونا چاہیے اور پاکستان میں احتساب غیر سیاسی بنیادوں پر آگے بڑھ رہا ہے۔صدر پاکستان نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق جس پر الزام لگتا ہے وہ ثابت کرتا ہے کہ میری دولت جائز ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کا ہر شہری اپنے ووٹ کی طاقت سے سیاست میں بدعنوانی کا خاتمہ کر سکتا ہے اور انتخابی نظام میں بدعنوانی کے مکمل خاتمے کیلئے مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔صدر عارف علوی کا کہنا تھا ریاست مدینہ ہر مسلمان کا خواب ہے لیکن بدقسمتی سے اشرافیہ اور عام آدمی کیلئے الگ قانون کے چیلنج کا آج بھی سامنا ہے۔صدر مملکت نے مزیدکہاکہ ہر چیز کو خبر بنانا اخبار کا کلچر بن چکا ہے‘ دنیا میں احتساب جمہوری حکومتوں کے قیام کے بعد آیا لیکن سب سے پہلے مسلمانوں کیلئے احتساب کا نظام حضورؐکے دور میں شروع ہوا‘ ریاست مدینہ ہر مسلمان کا خواب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے اس نئے دور میں احساس ہوا کہ ماضی میں قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹا گیا ہے اس لوٹی ہوئی دولت کو واپس لایا جائے۔صدر علوی نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں احتساب کے نام پر سیاست اور مخالفین سے احتساب کے نام پر انتقام لیا جاتا رہا لیکن اب نئی تاریخ بن چکی ہے، پاکستان میں احتساب غیر سیاسی ہے اور میرٹ پر آگے بڑھ رہا ہے‘ ماضی کی حکومتوں میں کرپشن کے زیادہ کیسز ہونے کی وجہ سے زیادہ کیسز نظر آرہے ہیں۔

صدر مملکت

مزید : صفحہ اول